شیخ کلینی
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

شیخ کلینی

سوال: شیخ کلینی کون تھے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: ابوجعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی رازی (م ٣٢٩ ق) کا شمار شیعوں کے بزرگ اور اہم محدثین اور علماء میں ہوتا ہے ، آپ شیعوں کی فقہی اور حدیثی کتابوں میں سب سے پہلی کتاب کافی کے مصنف ہیں ۔ آپ کی ولادت ، امام عصر (ارواحنا فداہ ) کی غیبت صغری کے دوران «کلین « نامی دیہات (جو آج شہر رے کے حسن آباد میں واقع ہے)میں ہویی ۔ آپ نے اپنے والد اور ماموں (جو کہ اہل بیت (علیہم السلام) کی حدیثوں کے بزرگ راوی ہیں) کے دامن میں تربیت پایی اور پھر اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے گھر سے روانہ ہوگیے اور وہاں پر ابوالحسن محمد بن اسدی کوفی سے علم حاصل کرنے لگے ، پھر قم تشریف لے گیے تاکہ محدثین اور ایمہ کے اصحاب سے بھی حدیث کو سنیں اور علم حدیث حاصل کریں ، وہاں پر احمد بن محمد بن عیسی اشعری قمی، احمد بن ادریس اشعری قمی اور عبداللہ بن جعفر حمیری (کتاب قرب الاسناد کے مصنف) جیسے اساتید سے بہت زیادہ استفادہ کیا ۔ اس کے بعد اپنے علم کو مکمل خصوصا حدیث اور کلام کا علم حاصل کرنے کے لیے عراق کی طرف روانہ ہویے اور کوفہ میں ابن عقدہ ٔ کوفی سے تقریبا ایک لاکھ سے زیادہ احادیث حاصل کی ، پھر بغداد گیے اور وہاں پر شیعیت کے لیے اہم کتابیں لکھنے میں میں مشغول ہوگیے اوراسی شہر میں آپ کا انتقال ہوا ۔ انہوں نے حقیقت میں مشہد، دمشق، رے، قم، کوفہ اور بغداد جیسے شہروں کا سفر کیا اور ان شہروں کے سفر میں حدیث، تاریخ اور مختلف فرقوں کے نشیب و فراز اور اختلافات کو نزدیک سے مشاہدہ کیا اور بہت سے اساتید سے علم حاصل کیا جن میں سے اہم ترین اساتید یہ ہیں :
١۔ ان کے والد محترم یعقوب بن اسحاق جن کا شمار شیعوں کی پہلی صف کے راویوں میں ہوتا ہے اور شہر کُلین میں ان کی قبر کی ہمیشہ شیعہ زیارت کے لیے جاتے ہیں ۔
٢۔ ان کے ماموں ، جن کا نام ابوالحسن علی بن محمد علّان تھا ۔ اور ان کا شمار بھی اس زمانہ میں شیعوں کے پہلی صف کے راویوں میں ہوتا تھا ۔
٣۔ علی بن ابراہیم بن ہاشم قمی ۔
٤۔ محمد بن یحیی عطاراشعری ۔
٥۔ ابوالحسین محمد بن علی جعفری سمرقندی ۔
6ـ محمد بن احمد خفاف نیشابوری.
7ـ ابو العباس محمد بن جعفر رزّاز .
8ـ ابو علی احمد بن ادریس اشعری قمی.
9ـ ابو سلیمان داود بن کوره قمی.
10ـ احمد بن محمد عاصمی.
11ـ ابو الحسن محمد بن اسدی کوفی.
12ـ احمد بن محمد بن عیسی اشعری قمی.
13ـ عبدالله بن جعفر حمیری.
14ـ ابو العباس احمد بن محمد بن سعید ابن عقده کوفی .
15ـ حسن بن فضل بن زید یمانی.
16ـ سهل بن زیاد آدمی.
17ـ محمد بن حسن صفار
بعض محدثین کی عظمت اس قدر ہے کہ اہل سنت نے بھی ان کو سراہایا ہے ۔
بغداد میں کلینی کا مقام یہ تھا کہ حدیث کو حاصل کرنے والے اسلامی شہروں سے معتبر احادیث کوسننے کے لیے بغداد کی طرف جاتے تھے اور آپ کے وجود سے فایدہ اٹھاتے تھے ۔ اسی وجہ سے وہ «ثقه السلام« کے لقب سے مشہور ہوگیے تھے ۔ آپ کی شہرت اس قدر تھی کہ اسلامی شہروں کے شیعہ آپ کو امام زمانہ (ارواحنافداہ) کے نواب اربعہ سے زیادہ اور بہتر پہچانتے تھے ۔ آپ کو اہل سنت کی فقہ اور حدیث پھی ملکہ حاصل تھا اور اہل سنت کے چاروں فرقوں کی بنیاد پر فتوی دیتے تھے ، تمام لوگ آپ کو جامع الشرایط اور معتمد مجتہد اور محدث سمجھتے تھے ، آپ کے بہت سے شاگرد تھے جن میں سب سے اہم ہیں :
١۔ ابوالقاسم جعفر بن محمد بن قولویہ ۔
2ـ ابوغالب احمد بن محمد زراری.
3ـ علی بن محمد بن موسی دقّاق.
4ـ احمد بن احمد کاتب کوفی.
5ـ ابو سعد کوفی.
٦۔ ابوعبداللہ محمد بن ابراہیم بن جعفر نعمانی (مشہور کتاب الغیبه کے مصنف جس کا صرف خطی نسخہ «کتاب کافی « ان کے ہاتھ سے لکھی ہویی باقی ہے ۔
٧۔ محمد بن محمد بن عاصم کلینی.
8ـ محمد بن علی ماجیلویه.
9ـ ابو الفضل شیبانی.
10ـ ابو عبدالله محمد بن احمد بن عبدالله صفوانی
. 11ـ ابو عبدالله احمد بن ابراهیم ضمیری (صیمیری یا صیمری).
12ـ عبدالله بن محمد بن ذکوان. 13ـ ابو القاسم علی بن احمد بن عبدوس.
اسلامی بزرگ علماء کے نزدیک کلینی کا مقام اس قدر بلند وبالا ہے کہ آج بھی اہل سنت کے آلوسی جیسے عالم ان کی روایتوں پر اعتماد کرتے ہیں ، خطیب بغدادی، ابن عساکر، ابن حجر عسقلانی اورابن اثیر جیسے علماء نے ان کی تعریف کی ہے اور ان کو شیعوں اور خاندان پیغمبر اکرم (علیہم السلام) کے مکتب کے خالص نظریہ زندہ کرنے والا بیان کیا ہے ۔
کلینی کی اہم کتاب یہ ہے : الکافی ۔ جوکہ حدیث کی سب سے اہم اور شیعوں کی کتب اربعہ کی سب سے پہلی کتاب ہے ۔
البتہ انہوں نے اور بھی بہت سی کتابیں جیسے رجال، رسایل الایمہ، اشعار الایمہ والرد علی القرامطہ بھی لکھی ہیں جو اہل بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات کے دشمنوں کی آتش سوزی کے فتنہ سے نہیں محفوظ نہیں رہ سکیں ۔
حوالہ جات:

1ـ خیرالدین زرکلى، الأعلام، بیروت، دارالعلم للملایین، چ 8، 1989م، ج 7، ص 145.
2ـ علی بن هبة الله بن ماکولا، الإکمال فی رفع الارتیاب عن المؤتلف و المختلف فی الأسماء و الکنى و الأنساب، بیروت، دارالکتب العلمیّة، 1411ق، ج 7 ، ص 144.
3ـ شمس الدین محمد ابن ناصرالدین قیسی دمشقی، توضیح المشتبه فی ضبط أسماء الرواة و أنسابهم و ألقابهم و کناهم، تحقیق محمد نعیم العرقسوسی، بیروت، مؤسسة الرسالة، 1993م ، ج 7، ص 337.
4ـ شیخ آقا بزرگ تهرانى، الذریعة إلى تصانیف الشیعة، قم، اسماعیلیان، 1408ق، ج 17، ص 245؛ ج 1، ص 316.
5ـ آیة الله شیخ جعفر سبحانى، موسوعة طبقات الفقهاء، قم، مؤسسه امام صادق علیه السلام، 1418ق، ج 4، ص 478، ص 480؛ ج 3، ص 400؛ ج 1، ص 316.
6ـ ابوسعید سمعانى، الأنساب، تحقیق عبدالرحمن بن یحیى المعلمى الیمانى، حیدرآباد، مجلس دائرة المعارف العثمانیة، 1382ق، ج 6، ص 23، ص 154، ص 209؛ ج 8، ص 297، ص 312؛ ج 9، ص 335؛ ج 11،ص 212؛ ج 12، ص 113، ص 315، ص 381؛ ج 13، ص 80، ص 311.
7ـ ابن کثیر، البدایة و النهایة، بیروت، دارالفکر، 1407ق، ج 6، ص 83؛ ج 7، ص 351؛ ج 11، ص 327.
8ـ ابوالقاسم ابن عساکر، تاریخ مدینة دمشق، تحقیق على شیرى، بیروت، دارالفکر، 1415ق، ج 56، ص 297.
9ـ شمس الدین ذهبى، تاریخ الإسلام، تحقیق عمر عبدالسلام تدمرى، بیروت، دارالکتاب العربى، چ2، 1413ق، ج 24، ص 250.
10ـ سیدمحمد حسین حسینى جلالى، فهرس التراث، قم، دلیل ما، 1422ق، ج 1، ص 371.
11ـ اسماعیل باشا البغدادی، هدیة العارفین، بیروت، دارإحیاء التراث العربی (افست از: استانبول، المعارف الجلیلة، 1951م)، ج 1، ص 467.
    
تاریخ انتشار: « 1392/02/19 »

منسلک صفحات

کفعمی

نصیر الدین طوسی

ابن براج

شیخ کلینی

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 851