حدیث علی منی کی دلالت
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حدیث علی منی کی دلالت

سوال: حدیث "" علی منی"" حضرت علی (علیہ السلام) کے کس مرتبہ کو بیان کررہی ہے؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی حدیث ""علی منی و انا من علی"" کا غور سے مطالعہ کرنے خصوصا اس حدیث کے سیاق و سباق کو دیکھنے کے بعد چندنکات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں:

١۔ حضرت علی(علیہ السلام) کی ولایت بھی حضرت پیغمبرا کرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی طرح ہے اور آپ کے کام بھی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی طرح ہیں اور جس طرح سے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کو ولایت کے امور میں تصرف کرنے کا حق ہے اسی طرح حضرت علی (علیہ السلام) کو بھی تصرف کرنے کا حق ہے : "" علی منی ""۔
خدا وند عالم فرماتا ہے :
""وَ ما کانَ لِمُوْمِنٍ وَ لا مُوْمِنَهٍ ِذا قَضَی اللَّہُ وَ رَسُولُہُ أَمْراً أَنْ یَکُونَ لَہُمُ الْخِیَرَهُ مِنْ أَمْرِہِمْ ""
اور کسی مومن مرد یا عورت کو اختیار نہیں ہے کہ جب خدا و رسول کسی امر کے بارے میں فیصلہ کردیں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحبِ اختیار بن جایے ۔
٢۔ ممکن ہے کہ مذکورہ حدیث سے ""حدیث نور"" کی طرف اشارہ ہو جس میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ہے : "" میں اور علی ایک نور سے پیدا ہویے ہیں"" یعنی حضرت علی (علیہ السلام) کا نور میرے نور سے ہے اور میرا نور حضرت علی(علیہ السلام) کے نور سے ہے اور دونوں حقیقت میں دو جسم ایک روح ہیں ، لہذا جو اعتراض ان پر ہے وہ مجھ پر بھی ہے اسی وجہ سے کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ حضرت علی (علیہ السلام) پر اعتراض نہ کرے ۔
٣۔ ان کی ولایت اور تسلط ،رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ولایت ہے اور رسول خدا کی ولایت، خدا کی ولایت ہے ۔ خداوند عالم فرماتا ہے :
اللَّہُ وَلِیُّ الَّذینَ آمَنُوا یُخْرِجُہُمْ مِنَ الظُّلُماتِ ِلَی النُّور۔اللہ صاحبانِ ایمان کا ولی ہے وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آتا ہے ۔ اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ولایت کے متعلق فرماتا ہے "" النَّبِیُّ أَوْلی بِالْمُوْمِنینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ"" ۔ "" بیشک نبی تمام مومنین سے ان کے نفس کے بہ نسبت زیادہ اولیٰ ہے""۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے غدیر کے روز فرمایا :
""من کنت مولاہ فعلی مولاہ"" جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی بھی مولا ہیں۔
٤۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی شخصیت، بقایے دین اور حفظ شریعت ، حضرت علی (علیہ السلام) کے وجود سے وابستہ ہے ،حضرت علی (علیہ السلام) ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد آپ کی شریعت کو بیان کرنے والے ہیں
"" انا من علی""۔
٥۔ چونکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نسل حضرت علی (علیہ السلام) اور حضرت زہرا (علیھا السلام) کی نسل سے باقی ہے اس لیے حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا وجود بھی حضرت علی (علیہ السلام) کے وجود سے باقی ہے
"" انا من علی""۔

حوالہ جات:

١۔ سورہ احزاب ، آیت ٣٦۔
٢۔ سورہ بقرة ، آیت ٢٥٧۔
٣۔ سورہ احزاب ، آیت ٦۔
٤۔ علی اصغر رضوانی، امام شناسی و پاسخ بہ شبھات (٢) ، ص ٢٤٣۔
    
تاریخ انتشار: « 1396/05/01 »

منسلک صفحات

حدیث علی منی کی سند

حدیث '' علی منی'' کے اہل سنت راوی

حدیث علی منی کی دلالت

حدیث علی منی کے صادر ہونے کی جگہ

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1092