حدیث منزلت حضرت علی (علیہ السلام) کی شان میں نازل ہوئی یادوسرے افراد کی شان میں نازل ہوئی ہے ؟!
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حدیث منزلت حضرت علی (علیہ السلام) کی شان میں نازل ہوئی یادوسرے افراد کی شان میں نازل ہوئی ہے ؟!

سوال: کیا حدیث منزلت ،حضرت علی (علیہ السلام) کے علاوہ کسی اور شخص کی شان میں بھی نازل ہویی ہے؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب:  بعض افراد نے ""حدیث منزلت"" میں تحریف کی ہے یعنی علی (علیہ السلام) کے بجایے ابوبکر اور عمر کو ذکر کیا ہے اور جعلی حدیث کے ذریعہ ان دونوں کو حضرت موسی کے نزدیک بمنزلہ ہارون ذکر کیا ہے ۔

خطیب بغدادی نے طاہری سے انہوں نے ابوالقاسم علی بن حسین بن علی بن زکریا سے، انہوں نے ابوجعفر محمد بن جریر طبری سے ،انہوں نے بشر بن دحیہ سے، انہوں نے قزعه بن سوید سے ، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: ""ابوبکر اور عمر میرے نزدیک ایسے ہیں جیسے ہارون موسی کے نزدیک تھے (١) ۔
ہم ان کے جواب میں کہتے ہیں یہ روایت جعلی ہے کیونکہ :
١۔ حدیث کا یہ متن صحاح ستہ ، مسانید و سنن اور اہل سنت کی دوسری تمام اہم اور معتبر کتابوں میں بیان نہیں ہوا ہے ، بلکہ ان کتابوں میں صرف حدیث "" علی منی بمنزله ہارون من موسی "" ذکر ہویی ہے ۔
٢۔ عمر اور ابوبکر والی حدیث ، سند کے اعتبار سے ضعیف ہے کیونکہ قزعه بن سوید، احمد کی رایے میں مضطرب الحدیث اور ابن معین کی نظر میں ضعیف ہے ، ابی حاتم رازی کہتے ہیں : ان سے استدلال نہیں کیا جاسکتا (٢) ۔
ابن حجر نے ابودایود، نسایی اور عنبری سے نقل کیا ہے کہ وہ ضعیف ہے (٣) ۔
ذھبی نے ""لسان المیزان"" میں نقل کیا ہے : قزعه کے پاس منکر حدیثیں ہیں جن کو اس نے ابن ابی ملیلکہ سے نقل کیا ہے (٤) ۔
اس سند میں دوسرا شخص جس پر تهمت ہے وہ بشر بن دحیہ ہے ۔ ذہبی نے کہا ہے : گویا اس نے اس حدیث کو ان پر تہمت لگایی ہے (٥) ۔
دوسرا شخص علی بن حسین شاعر ہے ،ابن حجر نے ان کی سوانح عمری میں کہاہے: علی بن زکریاشاعرنے محمد بن جریر طبری سے جھوٹی روایت نقل کی ہے خود ان پربھی حدیثیں جعل کرنے کے الزام ہے اور اس کا متن یہ ہے "
" ابوبکر منی بمنزله ہارون من موسی"" (٦) ۔
٣ ۔ اہل سنت کے بعض علماء اور حدیث شناس کی نظر میں یہ روایت جعلی ہے جنہوں نے اس حدیث کو جعلی کہا ہے ان کے نام یہ ہیں : ابن عدی، ابن جوزی، ہبی اور ابن حجر عسقلانی ۔
ابن جوزی نے جعلی حدیث نقل کرنے کے بعد کہا ہے : "" یہ حدیث صحیح نہیں ہے اس کوجعل کرنے کا الزام علی بن حسین شاعر پر ہے (٧) ۔
ابن حجر نے بھی بشر بن دحیہ کے ترجمہ میں جعلی حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے : ذھبی نے اس حدیث کو بشر کی جعلی اور جھوٹی حدیثوں میں شمار کیا ہے ۔ اورقرعہ کا بھی کسی میں شمار میں نہیں ہوتا (٨) ۔

حوالہ جات:

١۔تاریخ بغداد، ج 11، ص 384; کننز العمال، ج 11، ص 567.
٢۔الجرح و التعدیل، ج 7، ص 139.
٣۔ تہذیب التہذیب، ج 8، ص 336.
٤۔ میزان الاعتدال، ج 3، ص 390.
٥۔ میزان الاعتدال، ج 3، ص 390.
٦۔ لسان المیزان، ج 4، ص 219.
٧۔ العلل المتناہی، ج 1، ص 199.
٨۔ علی اصغر رضوانی، امام شناسی و پاسخ بہ شبہات(2)، ص 238.
    
تاریخ انتشار: « 1396/04/31 »

منسلک صفحات

حدیث منزلت حضرت علی (علیہ السلام) کی شان میں نازل ہوئی یادوسرے افراد کی شان میں نازل ہوئی ہے ؟!

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 859