خطیب خوارزمی
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

خطیب خوارزمی

سوال: خطیب خوارزمی کون تھے ؟
اجمالی جواب:
تفصیلی جواب: آپ کا پورا نام ابو موید اور ابومحمد موفق بن احمد بن ابوسعید اسحاق بن موید مکی حنفی، معروف بہ اخطب خوارزم ہے ۔

آپ فقیہ، عالم، مشہور حافظ، محدث ، متعدد حدیث کے راوی، بہترین آواز کے خطیب، علوم عربی میں ماہر، تاریخ و سیرت سے آشنااور ادیب و شاعر تھے آپ کے طبع شدہ خطبے اور اشعار موجود ہیں (١) ۔
آپ کے بعض اساتید کے نام یہ ہیں:
حافظ نجم الدین عمر بن محمد بن احمد نسفی، متوفی ٥٣٧ ، ابوالقاسم جار اللہ محمود بن عمر زمخشری متوفی ٥٣٨۔
جیسا کہ کتاب ""مقابس"" (٢) میں ذکر ہوا ہے وہ لوگ جنہوں نے آپ سے روایت نقل کی ہیں ان کے نام درج ذیل ہیں: ابو جعفر محمد بن علی بن شہر آشوب سروی مازندرانی، متوفی ٥٨٨ اور جو کچھ کتاب مناقب (٣) کے آغاز میں بیان ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان خط و کتابت ہوتی تھی۔
آپ کی بہت زیادہ تالیفات ہیں جن میں سے سات کتابیں بہت زیادہ مشہور ہوییں جن میں سے اکثر زمانے کے اعتبار سے ختم ہوگییںہیں، وہ کتابیں یہ ہیں:
١۔ کتاب ""مناقب الامام ابی حنیفہ""۔
٢۔ کتاب ""رد الشمس لامیر المومنین علی (علیہ السلام) ۔
ابوجعفر بن شہر آشوب جو کہ آپ کے ہم عصر ہیں اور ان سے روایت بھی نقل کرتے ہیں انہوں نے اس کتاب کو اپنی ""مناقب (٤) میں ذکر کیا ہے ۔
٣۔ کتاب "" الاربعین فی مناقب النبی الامین و وصیہ امیر المومنین (علیہ السلام)جیسا کہ ان کے مقتل میں ذکر ہوا ہے ۔ ابوجعفر ابن شہر آشوب نے اس کتاب کو ان سے روایت کی ہے(٥) ۔
٤۔ کتاب ""قضایا امیر المومنین (علیہ السلام) ۔ ابن شہر آشوب نے اس کتاب کا ذکر اپنی کتاب ""مناقب’‘ (٦) میں کیا ہے ۔
٥۔ کتاب ""مقتل الامام السبط الشہید(علیہ السلام) ۔ ""الاجازات "" کے نقل کے مطابق۔ جمال الدین بن معین نے اس کتاب کو ان سے روایت کی ہے ۔
٦۔ دیوان شعر۔ کتاب کشف الظنون میں ذکر ہوا ہے :
ان کا دیوان بہت اچھا ہے اور آپ اشعار کہنے میں اپنے معاصرین کے ہم پلہ تھے(٧) ۔
٧۔ کتاب ""فضایل امیر المومنین (علیہ السلام) جو کہ مناقب کے نام سے مشہور ہے ۔ اور ١٢٢٤ ہجری میں زیور طباعت سے آراستہ ہویی ہے ۔ اس کتاب کو بہت سے ایمہ حدیث نے خود مولف سے روایت کی ہے ۔
جیسا کہ ""بغیه الوعاه "" میں ذکر ہوا ہے آپ تقریبا ٤٨٤ ہجری میں پیدا ہویے اور ٥٦٨ میں انتقال ہوا (٨) (٩) ۔

حوالہ جات:

١۔ مراجعہ کریں : معجم الادباء : ٨ /٣٩۔سید خوانساری کی روضات الجنات : ٢١ (١٢٤/٨) ۔
٢۔ مقابس الانوار، ص ١٢۔
٣۔ مناقب آل ابی طالب ج ١ص ٣١۔
٤۔ مناقب آل ابی طالب ج ١ ص ٤٨٤۔ ج ٢ ص ٣٩٠۔
٥۔ مناقب آل ابی طالب ج ١ ص ٤٨٤۔ ج ١ ص ٣١۔
٦۔ مناقب آل ابی طالب ج ١ ص ٤٨٤۔
٧۔ کشف الظنون ج١ ص ٥٢٤۔
٨۔ بغیة الوعاة ج ٢ ، ص ٣٠٨ ، شمارہ ٢٠٤٦۔
٩۔ شفیعی شاہرودی، گزیدہ ای جامع از الغدیر، ص ٤١٤۔
    
تاریخ انتشار: « 1395/12/03 »

منسلک صفحات

ابواسماعیل علوی کا تعارف

عمروعاص ، امیر المومنین علی (علیہ السلام) کے کلام میں

امیر المومنین علی (علیہ السلام) کا خط عمروعاص کے نام

معاویہ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے کلام میں

عمروعاص ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے کلام میں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 692