معظم لہ کی نظر میں قیام عاشورا کو بیان کرنے کیلئے حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی عظیم رسالت اور ذمہ داری
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

معظم لہ کی نظر میں قیام عاشورا کو بیان کرنے کیلئے حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی عظیم رسالت اور ذمہ داری

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا نے اپنے بھتیجے امام سجاد علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : مستقبل میں تمہارے والد حسین علیہ السلام کی قبر پر ایک ایسا پرچم لہرایا جائے گا جو کبھی پُرانا نہیں ہوگا اور زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گااور کفر کے علمبردار اس کو مٹانے کی جس قدر کوشش کریں گے اسی قدر روز بروز اس کی عظمت میں اضافہ ہوگا ۔
کلمات کلیدی:

قیام کربلا کے ہمیشہ باقی رہنے کے متعلق غور وفکر کرنا ایسا مسئلہ ہے جس کا اسلامی دانشوروں نے مختلف زمانوں میں جائزہ لیا ہے ،لیکن یہ بات کہنا ضروری ہے کہ اس مہم ا مر کا حاصل کرنا اس شجاعت کا نتیجہ ہے جو شب عاشورکے اگلے روز واقع ہوا اور پھر اسراء نے اس کی ذمہ داری کو سنبھالے رکھا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ زینب کبری جس میں اپنی بھائی کی شہادت کی خبر سننے کی طاقت نہیںتھی اس زینب عالی مقام نے گیارہویں محرم کو اپنے بھائی کے خونی بدن کے نیچے ہاتھ دے کر ان کے سر کو اپنی آغوش میں رکھا اور عرض کیا : خدایا ! اس قربانی کو اپنے پیغمبر کے خاندان سے قبول فرما ! (١) ۔

قتل گاہ سے اسیروں کے قافلوں کا گزرنا اور زینب سلام اللہ علیہا کی عظیم ذمہ داری

تاریخ کربلا کا دشوار ترین لمحہ جو کہ اپنی عظمت و بزرگی میں تمام آسمان و زمین کے برابر ہے وہ اسیروں کے قافلہ کا اپنے شہداء کے لاشوں سے وداع ہونا ہے (٢) ۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ ایسی وحشتناک اور غمناک حالت میں کربلا کی زمین کو چھوڑنا جس میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذریت کے لاشے خصوصا سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کا لاشہ بغیر غسل و کفن کے بیابان میں پڑا ہوا ہے اور ان دلخراش مناظر کو دیکھنا جن میں شہداء کے پارہ پارہ لاشوں کو گھوڑوں کے سموں سے کچلا گیا تھا اور پہچاننے کے قابل نہیں تھے ، یہ مناظر ہر دیکھنے والے کا دل ہلا دیتے ہیں لیکن حضرت زینب کبری (سلام اللہ علیہا) میں جو اطمینان اور صبر پایا جاتا تھا اور آپ کے کلمات میں جو استحکام اور صلابت پائی جاتی تھی ،اس نے کسی حد تک اس سنگین فضاکو ختم کردیا اور آل رسول کے لئے قابل تحمل ہوگیا (٣) ۔

زینب جانتی تھیں کہ دشمن اس انتظار میں ہے کہ وہ خاندان پیغمبر میں ضعف و پشیمانی کا چھوٹا سا واقعہ دیکھنے پر قہقہ لگائے گا ، لہذا آپ نے اپنے بھائی کا خون میں بھرا ہوا لاشہ دیکھ کر آسمان کی طرف رخ کیا اور کہا : اللھم تقبل ھذا القربان '' ۔ خدایا ! اس قربانی کو قبول فرمالے (٤) ۔یہ جملہ ہتھوڑے کی طرح دشمن کے سر پر گرا اور ان کی رسوائی کی گھنٹی بجنے لگی (٥) ۔

قیام عاشورا کو بیان کرنے میں بنیادی راستہ حضرت زینب (س) کی شجاعت

جب اسیروں کے قافلہ کو کوفہ اور شام لے جایا گیا تو امام زین العابدین علیہ السلام اور حضرت زینب کبری علیہا السلام کے خطبوں نے شام کی حالت بدل دی اور اموی حکومت کے خلاف جو فضا ایجاد ہوگئی تھی اس کی وجہ سے یزید کے پاس ندامت اور پشیمانی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا اور بنی امیہ کے لئے یہ حالات اس قدر خراب ہوگئے تھے کہ حرم حسینی کی عورتوں نے شام میں عزاداری اور ماتم قائم کیا یہاں تک کہ خاندان اموی کی عورتوں نے بھی اس عزاداری میں شرکت کی اور یہ عزاداری تین دن تک قائم رہی (٦) (٧) ۔

لہذا حضرت زینب کبری علیہا السلام کے خطبوں کی وجہ سے شام بالکل تبدیل ہوگیا اور وہیں پر بنی امیہ کے خلاف انقلاب کا بیج ڈال دیا گیا اور انہی خطبوں کے نتیجہ میں بنی امیہ پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہوگی اور اسلام و قرآن کو بنی امیہ سے جو خطرہ لاحق تھا وہ شہداء کے خون اور عاشورا کا پیغام پہنچانے والوں کے خطبوں سے دور ہوگیا (٨) ۔

کوفہ میں حیرت انگیز خطبہ

واقعہ کربلا کا حیرت ایک حیرت انگیز مسئلہ یہی خطبہ ہے جو حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا نے کوفہ میں دیا (٩) ۔ حذیم بن شریک اسدی (١٠) کہتا ہے : اس روز میں نے زنیب بنت علی (علیہ السلام) کی طرف دیکھا جو خطبہ پڑھ رہی تھیں اور میں نے کبھی بھی ان سے زیادہ کسی عورت کو تقریر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، گویا (علی کی زبان ان کے منہ میں ہے) امیرالمومنین (علیہ السلام) کی زبان میں خطبہ دے رہی ہیں ، لوگوں کی طرف اشارہ کیا ا ور کہا : ''خاموش ہوجائو '' ۔

اچانک سینوں میں سانس رک گئے اور قافلوں کی گھنٹیاں رک گئیں، پھر آپ نے حمد و ثنائے الہی کی اور محمد و آل محمد پر درود و سلام بھیجا ۔

ایک ایسی عورت جس نے کل اپنے چھے بھائیوں ، دو بیٹوں ، بہت سے اپنے رشتہ داروں اور اپنے والد کے اصحاب کا داغ دیکھا ہو ، وہ اب اسیری کی صورت میں شام جارہی ہے ، ان کواس طرح پریشان ، ا فسردہ اور ناتوان ہونا چاہئے کہ عام سی باتوں کو بھول جائیں ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایک شیر کی طرح بولتی ہیں اور ایک سنگین طوفان کی طرح جوش و جذبات میں بے وفا کوفیوں کے چہروں پر ملامت اور سرزنش کا طانچہ لگاتی ہیں ، قلوب اور عواطف کو تسخیر کرتی ہیں ، ظالم و جابر بنی امیہ کی حکومت کے خلاف انقلاب کا بیج بوتی ہیں ، ان پر آفرین ہو اور ہزار آفرین! ہم جانتے ہیں کہ وہ شیر خدا علی علیہ السلام اور اسلام کی بہادر خاتون فاطمہ زہرا علیہا السلام کی بیٹی ہیں ۔

آپ فرماتی ہیں : اما بعد ! اے کوفیو! اے دھوکہ بازلوگوں،عہدو پیمان کو پورا نہ کرنے والوں ! تمہاری آنکھوں کے آنسوں خشک ہوجائیں اور تمہیں کبھی چین وسکون نہ ملے (١٣) ... تمہارے درمیان خود پسندی، دشمنی، جھوٹ ، تملق اور عورتوں کی چاپلوسی کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے (١٤) ۔لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ زینب (سلام اللہ علیہا) شیر کی طرح بولتی ہیں اور عظیم طوفان کی طرح حملہ کرتی ہیں اور فرماتی ہیں (١٥) اللہ کا غضب تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور تم ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہوگے ... تم نابود ہوجائو ، تم نابود ہوجائو ! تمہاری کوششیں تباہ ہوجائیں او رتمہارے ہاتھ کٹ جائیں (١٦) ۔

اسی طرح آپ نے بنی امیہ کی ظالم و جابر حکومت کے خلاف انقلاب کا بیج انہی کی زمین میں بو دیا (١٧) اور اس طرح فرمایا : خداوندعالم کی مہلت تمہیں مغرور نہ کرے کیونکہ خداوندعالم جلدی میں کوئی کام انجام نہیں دیتا (اور ظالمین کو مناسب موقع پر سزا دیتا ہے ) اور وہ مظلوم کا انتقام ضرور لیتا ہے ، یقینا خداوندعالم تمہارے انتظار میں ہے (١٨) ۔

ہمارے عقیدہ کے مطابق حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کوفہ کے بازار میں اپنی شجاعت کے جوہر دکھانے کے بعد شام میں یزید کی حکومت کی بنیادوں کو اکھاڑ دیا (١٩) ۔

عاشورا کی خوبصورتی اور رسالت زینب (سلام اللہ علیہا) کی شکوہمندی

اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ واقعہ کربلا میں حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی رسالت عاشورا کی خوبصورتی پر مبتنی ہے کیونکہ جب ابن زیاد نے بہت ہی گستاخی کے ساتھ کہا کہ خداوندعالم نے تمہارے بھائی اور خاندان کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ تو حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) نے بہت ہی صلابت ا ور قدرت کے ساتھ جواب دیا : '' ما رایت الا جمیلا'' ۔ ہم نے خوبصورتی اور نیکی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا ہے (٢٠) ۔

 یقینا انسان نہیں جانتا کہ وہ اس قدر روحی شجاعت اور قدرت کے متعلق کیا کہے ؟ وہ اس بزرگ خاتون کی عظمت کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرنے پر مجبور ہے اور اعتراف کرتا ہے کہ الفاظ اور جملات میں طاقت نہیں ہے کہ ان مخصوص شرائط و حالات میں اس جملہ کی عظمت کو بیان کرسکے وہ فقط یہی کہہ سکتا ہے کہ یقینا تم امیرالمومنین علی علیہ السلام کی بیٹی اور حسین کی بہن ہو (٢١) ۔

یزید کے دربار میں تاریخ اسلام کا سخت ترین خطبہ

یزید کے دربار میں حضرت زینب کبری (سلام اللہ علیہا) کے خطبہ کو تاریخ اسلام کا فصیح ترین اور سخت ترین خطبہ شمار کیا جاسکتا ہے گویاکہ وہ پورا خطبہ ،علی بن ابی طالب علیہ السلام کی بلند وبالا روح اور ان کی بے نظیر شجاعت سے نکل کر حضرت زینب کبری علیہا السلام کی زبان پر جاری ہوا ہے جو انہی کی زبان اور انہی کی منطق میں بیان ہوا ہے (٢٢) ۔ اس مسئلہ کی وضاحت میں اس خطبہ کے انقلابی اور تاریخی سات اہم اہداف کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے :

١ ۔  اسلام کی اس شجاع خاتون نے اپنے چند جملوں سے یزید کے غرور کو خاک میں ملا دیا اور خدا وندعالم کی بارگاہ میں قرآن کریم کی ایک آیت کے ذریعہ اس کی فکر کو واضح کردیا اور کہا : حکومت ، محل اور ثروت سے استفادہ کرنے کو کبھی بھی امتیاز نہیں بنانا چاہئے تیرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کو خداوندعالم نے انہی کے حال پر چھوڑ دیا ہے ، تاکہ وہ گناہوں کے بوجھ سے بھاری ہوجائیں اور پھر ان کو جہنم میں ڈال دے گا (٢٣) ۔

٢ ۔  خطبہ کے دوسرے حصہ میںفتح مکہ کے وقت یزید کے آبائواجداد کے ساتھ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے برتائو کو بیان کیا کہ آنحضرت نے ان سب کو معاف کردیا تھا لیکن یزید نے پیغمبر اکرم (ص) کی اولاد کو قتل کرنے کے بعد ان کے سروں کو نیزوں پر چڑھایا اوران کے خاندان کو اسیر کرکے ایک شہر سے دوسرے شہر گھومایا اور اس طرح آپ نے یزید کی پیشانی پر باطل کی مہر لگا دی (٢٤) ۔

٣ ۔  تیسرے حصہ میں یزید کے کفر آمیز جملوں کی طرف اشارہ کیا اور اس کے مومن نہ ہونے کی تاکید کی اور بہت جلد اپنے آبائواجداد کے گناہوں میں شامل ہو کر جہنم میں چلا جائے گا (٢٥) ۔

٤ ۔  اس کے بعد شہداء خصوصا کربلا میں خاندان پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بلند و بالا مقام کو بیان کیا اور ان کے وجود کو افتخار شمار کیا (٢٦) ۔

٥ ۔  پھر قیامت میں عدل الہی کی عدالت میں یزید کی حاضری کی طرف اشارہ کیا کہ اس عدالت میں قاضی خود خدا ہے اور اس کے شاہد فرشتے ہیں اور ایسی عدالت کا نتیجہ واضح ہے (٢٧) ۔

٦ ۔  پھر یزید کی تحقیر کرتے ہوئے فرماتی ہیں : اگر تو نے مجھ پر ظلم و ستم کیا ہے اور اسیر کرکے اپنے تخت کے پاس لایا ہے تو تصور نہ کرنا کہ میری نظر میں تیری کوئی اہمیت ہے ، میں تجھے اس لائق بھی نہیں سمجھتی کہ تیرے ساتھ ہم کلام ہوں اور اگر تجھ سے بات کر رہی ہوں تو یہ میری مجبوری ہے (٢٨) ۔

٧ ۔  اپنی خطبہ کے آخری حصہ میں خاندان نبوت پر خدا کی بے انتہا نعمتوں کا شکریہ ادا کیا جو اپنی رحمت و سعادت سے آغاز ہوئیں اور شہامت وکرامت کے ساتھ ختم ہوئیں(٢٩) ۔

حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی ذمہ داری کا راز مقاومت اور صبر

یزید کی استبدادی حکومت کے سامنے حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کی مقامت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس وقت آپ یزید کے سامنے کھڑی ہوئیں تو فرمایا : اے یزید یہ فکر نہ کرنا کہ میں ایک اسیر کی طرح تیرے سامنے کھڑی ہوں بلکہ میرے لئے ذلت کی بات ہے کہ میں تیرے جیسے شخص سے ہم کلام ہوں ، لہذا اسلام کی اس شجاع خاتون کا پیغام یہ ہے کہ کسی بھی حالات میں ذلت کو قبول نہیں کرنا چاہئے اور یہ درس عاشورا کا ایک حصہ ہے (٣٠) ۔

آخری بات

اس مقالہ کے اختتام پر اس جملہ کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے جو حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا نے اپنے بھتیجے امام سجاد علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : مستقبل میں تمہارے والد حسین علیہ السلام کی قبر پر ایک ایسا پرچم لہرایا جائے گا جو کبھی پُرانا نہیں ہوگا اور زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور کفر کے علمبردار اس کو مٹانے کی جس قدر کوشش کریں گے اسی قدر روز بروز اس کی عظمت میں اضافہ ہوگا (٣١) (٣٢) ۔

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:

١۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا،صفحہ ٤٠٣ ۔

٢ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٥٤٦ ۔

٣ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٤ ۔  مقتل الحسین ، مقرم ، صفحہ ٣٠٧ ۔

٥ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا،صفحہ ٥٤٧ ۔

٦ ۔  ... فَخَرَجْنَ حَتَّى دَخَلْنَ دارَ يَزِيدَ فَلَمْ تَبْقَ مِنْ آلِ مُعاوِيَةَ امْرَأَةً إِلَّا اسْتَقْبَلَهُنَّ تَبْكِي وَ تَنُوحُ عَلَى الْحُسَيْنِ عليه السلام فَأَقامُوا عَلَيْهِ الْمَناحَةَ ثَلاثاً (تاریخ طبری ،جلد ٤ ،صفحہ ٣٥٣ ) ۔ یہی بات ''بحارالانوار ، جلد ٤٥ ، صفحہ ١٤٢ میں تفصیل کے ساتھ نقل ہوئی ہے ۔

٧ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا،صفحہ ٦٢ ۔

٨ ۔  کلیات مفاتیح نوین ، صفحہ ٦١١ ۔

٩ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا،صفحہ ٥٦٥ ۔

١٠ ۔  ملہوف میں ان کا نام ''بشیر بن خزیم اسدی '' ذکر ہوا ہے ۔

١١ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا،صفحہ ٥٦١ ۔

١٢ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٥٦٥ ۔

١٣ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٥٦٢ ۔

١٤ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

١٥ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٥٦٥ ۔

١٦ ۔  گزشہ حوالہ ، صفحہ ٥٦٢۔

١٧ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٥٦٥ ۔

١٨ ۔  گزشتہ حوالہ ،صفحہ ٥٦٣ ۔

١٩ ۔  مثال ھای زیبای قرآن ، جلد ١ ، صفحہ ٣٧٣ ۔

٢٠ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا،صفحہ ٥٧٦ ۔

٢١ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٥٧٧ ۔

٢٢ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٦٠٢ ۔

٢٣ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٦٠٣ ۔

٢٤ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٢٥ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٢٦۔  گزشتہ حوالہ ۔

٢٧ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٢٨ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٦٠٤ ۔

٢٩ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٣٠ ۔  حرم حضرت معصومہ قم میں ظہر عاشورا کے نمازیوں کے درمیان حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ١٣/٨/١٣٩٣ ۔

٣١ ۔  کامل الزیارات ،صفحہ ٢٧٤ تا ٢٧٥ ۔ بحارالانوار ، جلد ٢٨ ، صفحہ ٥٧ و جلد ٤٥ ، صفحہ ١٧٩۔ نفس المہوم ، صفحہ ٢١٠ و مقتل الحسین مقرم ، صفحہ ٢٠٨ ۔

٣٢ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا،صفحہ ٥٥٠ ۔

٣٣ ۔  حرم حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے امام خمینی شبستان میں اربعین حسینی کے دن حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان ٢٢/٩/١٣٩٣۔

٣٤ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٣٥ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا،صفحہ ٥٥٠ ۔

تاریخ انتشار: « 5/27/2016 4:34:38 PM »

منسلک صفحات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نظریہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کی خصوصیات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں علمائے اسلام کے اتحاد کی خصوصیات

معظم لہ کے نقطہ نظر سے استکبارستیزی کی گفتگو میں اسٹریٹجک عوامل

دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کیلئے معظم لہ کی حکمت عملی

معظم لہ کی نظر میں سعودی جرائم سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی حکمت عملی اور پالیسیاں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 467