معظم لہ کے کلام میں روز عاشورا ، شہادت امام حسین علیہ کی نشانیاں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

معظم لہ کے کلام میں روز عاشورا ، شہادت امام حسین علیہ کی نشانیاں

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: امام حسین علیہ السلام کی شہادت اس قدر بلند و بالا ہے کہ یہ صرف پرانی نہیں ہوتی بلکہ اس کی اہمیت روز بروز آشکار ہو رہی ہے ، حق ، عدالت ، انسانی کرامت، راہ الہی میں جہاد اور ذلت قبول نہ کرنا ایسے مفاہیم ہیں جو کبھی بھی پرانے نہیں ہوں گے ۔
کلمات کلیدی:

حضرت سید الشہداء علیہ السلام اور ان کے اہل بیت علیہم السلام پر پڑنے والے مصائب ایسے ہیں جس کی وجہ سے اہل بیت عصمت و طہارت کی پیروی کرنے والے آپ کی شہادت سے پہلے عاشورا ولوں کی معرفت اور جوش و خروش کے لئے فکری اور اجتماعی ماحول آمادہ کرتے ہیں (١) ۔

اس مسئلہ کی علت بہت اہم کردار سمجھی جاسکتی ہے کیونکہ امام حسین علیہ السلام، اسلام کی بقاء کے لئے شہید ہوئے ہیں (٢) ، اسی طرح یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے مصائب کو دوسرے معصومین علیہم السلام سے مقایسہ نہیں کیا جاسکتا (٣) ۔ لہذا اگر چہ حضرت سید الشہداء (علیہ السلام) حکومت یزید کا مقابلہ کرنے میں شہید ہوئے لیکن آپ کی شہادت نے بہت سے قیمتی آثار چھوڑے ہیں (٤) اب ان تفاسیر کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مقالہ میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کے قیمتی نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے عاشورا کے روز امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی نشانیوں کو قارئین کے سامنے پیش کریں گے :

شہادت امام حسین علیہ السلام تاریخ بشریت کا ہیجان ترین واقعہ

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ روز عاشورا امام حسین علیہ السلام کی شہادت ، تاریخ بشریت کا انقلابی ترین واقعہ ہے ، یہ واقعہ صرف اس اس لحاظ سے قابل توجہ نہیں ہے کہ ہر سال لاکھوں انسانوں کے احساسات کو اپنی طرف مجذوب کرتا ہے اور دوسری رسومات سے زیادہ اس کی رسومات کو انجام دیا جاتا ہے (٥) بلکہ اس کی اہمیت اس وجہ سے بہت زیادہ ہے کہ دینی اور انسانی پاک و پاکیزہ عواطف کے علاوہ کوئی دوسری چیز اس کا ''محرک'' نہیں ہے اور ان مظاہروں کو جو اس کی یادتازہ کرنے کیلئے انجام دئیے جاتے ہیں ، کسی بھی مقدمہ چینی اور پروپگینڈہ کے محتا ج نہیں ہیں اس لحاظ سے بھی یہ اپنی نوعیت میں بے نظیر ہے (٦) ۔

شہادت حضرت سید الشہداء میں امت پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اصلاح بہت بڑی نشانی

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ١٥ رجب ٦٠ ہجری قمری میں معاویہ کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے یزید نے اپنے باپ کی طرح زور و زبردستی اور بغیر کسی قانون کے خلافت پر قبضہ کرلیا ،یزید کے زمانہ میں فساد، فحشا اور ظلم معاویہ کے زمانہ سے بہت زیادہ ہوگیا ، جب کسی حکومت کا حکمراں شراب خوار، جوئے باز، کتوں اور بندروں سے کھیلنے والا اور تمام گناہوں میں آلودہ ہو (٧) اس حکومت کا معاشرہ بھی اعتقادی، اجتماعی اور اخلاقی فساد میں مبتلا ہوگا (٨) ۔

اس وجہ سے ا مام حسین علیہ السلام نے اپنے نانا اور اسلامی معاشرہ کی اصلاح کی غرض سے قیام کیا اور اس راستہ میں شربت شہادت نوش کیا ، لیکن آپ نے اسلامی معاشرہ کو تبدیل کردیا اور اس ہدف سے نزدیک ہوگئے ۔ اگر امام حسین علیہ السلام یہ کام نہ کرتے تویقینا آج اسلام کی کوئی خبر نہ ہوتی اور اگر ہوتی تو قابل توجہ نہ ہوتی (٩) ۔

امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو زندہ کرنے کے سایہ میں شہادت طلبی

ان تمام تفاسیر کو مدنظر رکھتے ہوئے جس وقت منکرات بہت زیادہ ہوگئے اور معروف و نیکیاں فراموش ہوگئیں تو صلحا، عباد، مہاجرین اور انصار حکومت سے الگ ہوگئے اور ظالم، فاسد ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و الہ وسلم) کے زمانہ کے جلاوطن اور فرار لوگوں نے حکومت کی باگ ڈور سنبھال لی (١٠) ۔ امام حسین علیہ السلام نے ایسے ماحوال میں اپنے تمام وجود (قلب، زبان اور عمل) کے ساتھ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری کو ادا کیا (١١) ۔ روز عاشورا اپنے خون کو پیش کرکے اس بزرگ وظیفہ کو انجام دیا اور اسلام کے نونہال کی آبیاری کی اور اس کو نابود ہونے سے بچا لیا (١٢) ابوعبداللہ الحسین علیہ السلام ،ان کے بچوں اور اصحاب کے خون نے بھی اسلام کی کھیتی کی سیچائی کی اور اس کوآفتوں سے بچا لیا (١٣) ۔ امام حسین علیہ السلام سے متعلق زیارات میں خصوصیا زیارت وارثہ میں پڑھتے ہیں : '' اشھد انک قد اقمت الصلاة و آتیت الزکاة و امرت بالمعروف و نھیت عن المنکر و اطعت اللہ و رسولہ حتی اتیک الیقین'' ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ (امام حسین علیہ السلام) نے نماز قائم کی ،زکات ادای ،امربالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دیا اور شہادت تک خد ا اور اس کے رسول کی اطاعت کی (١٤) ۔

روز عاشورا امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا نتیجہ ،اسلامی امت کی بیداری

یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ مسلمانوں کی بیداری کے لئے اللہ کی راہ میں شہادت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ۔ لہذا امام حسین علیہ السلام کی شہادت نے روز عاشورا ہی سے لوگوں کو بیدار کرنا شروع کردیا تھا (١١٥) ۔ کیونکہ ٦١ ہجری کے لوگ اس قدر خواب غفلت اور جہالت میں زندگی بسر کررہے تھے کہ امام حسین علیہ السلام اور کے وفادار اصحاب کے خون کے علاوہ کوئی اور چیز اسلام کی کھیتی کو نجات نہیں دے سکتی تھی (١٦) ۔

حضرت ابوعبداللہ الحسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی شہادت ، خاندان عصمت و طہارت کے اسیر ہونے اور شہدائے کربلا کے مقدس سروں کو نیزوں پر چڑھانے کے بعد لوگ خواب غفلت سے بیدار ہوگئے (١٧) اور پھر ایک کے بعد ایک انقلاب بپا ہوگیا اور بنی امیہ نے واقعہ کربلا کے بعد کوئی خوشی نہیں دیکھی، یہاں تک کہ اس خون کی وجہ سے بنی امیہ کی حکومت نیست و نابود ہوگئی (١٨) ۔ کیونکہ امام حسین علیہ السلام نے روز عاشورا اپنی شہادت کے ذریعہ سے لوگوں کو بیدار کردیا (١٩) رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ہے : '' ان لقتل الحسین حرارة فی قلوب المومنین لا تبرد ابدا '' ۔ یقینا شہادت حسین علیہ السلام مومنین کے دلوں میں ایسی حرارت (گرمی) ہے جو کبھی خاموش نہیں ہوگی (٢٠) ۔

اس بناء پر کہنا چاہئے کہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب و انصار نے تلواروں ، نیزوں اور تیروں کی بارش میں عزت و شرافت کی موت کو قبول کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ موت ، ہمیشہ زندہ رہنے کا سبب ہے اور اس کے ذریعہ اسلامی معاشرہ کی زندگی اور مسلمانوں میں بیداری آجائے گی اور مسلمانوں کو منافقین اور جاہلی گروہوں سے نجات مل جائے گی (٢١) ۔

عاشورا کے روز امام حسین علیہ السلام کی شہادت نے نفاق کا پردہ فاش کردیا

یقینا جو بھی دو طرح کی باتیں کرتا ہو اور اس کے قول و فعل میں اتفاق نہ پایا جاتا ہو وہ منافق ہے ، بنی امیہ سب سے زیادہ منافق تھے (٢٢) بنی امیہ نے اسلامی خلافت کے لباس میں اسلام کے تمام مقدسات کی توہین کی اور ایک کے بعد ایک کو نابود کرتے رہے (٢٣) ۔اگر امام حسین علیہ السلام کا قیام اور آپ کے اصحاب و انصار کی شہادت نہ ہوتی اور منافقین کے چہرہ سے نقاب نہ ہٹتی تو شاید اسلام کی کوئی چیز باقی نہ رہتی (٢٤) ۔

امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے ذریعہ ظالم و جابر حکومتوں کو اختتام

امام حسین علیہ السلام کی شہادت نے تمام ظالم اور جابر حکومتوں کا تختہ پلٹ دیا ، اگر چہ اس زمانہ میں کوئی ایسی چیز ظاہر نہیں ہوئی لیکن آپ کی شہادت نے یہ راستہ فراہم کردیا کہ کچھ ہی ایام کے بعد ظالم و جابر حکومتوں کا خاتمہ ہونا شروع ہوگیا اور امام حسین علیہ السلام کا ہدف بھی یہی تھا (٢٥ )۔

لہذا امام حسین علیہ السلام کی شہادت نے ظالم و جابر حکومتوں کو لرزہ بر اندام کردیا اور اس کے نتیجہ میں اسلام کو احیاء کیا اور مسلمانوں کو حیرت و گمراہی سے نجات دلائی (٢٦) ۔

امام حسین کا اپنی شہادت سے اموی حکومت کو ذلیل و خوار کرنا

امام حسین علیہ السلام کی شہادت ایسی نہیں ہے جس کو تاریخ فراموش کردے کیونکہ روز عاشورا زمین و آسمان کی تبدیلی اور فرشتوں کے گریہ و زاری کے متعلق شیعہ اور اہل سنت کی کتابوں میں جو روایتیں نقل ہوئی ہیں وہ اس حقیقت کو اچھی طرح بیان کرتی ہیں (٢٧) ۔۔

لیکن سب سے زیادہ تعجب اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جو لوگ مسلمان ہونے کا دعوی کرتے تھے اور ظاہری طور پر نماز پڑھتے اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے وہی لوگ جگر گوشہ رسول سے جنگ کرنے کیلئے کھڑے ہوگئے تھے (٢٨) ۔ اور انہوں نے بہت ہی بے رحمی کے ساتھ تقوی اورایمان کے نمونہ کو شہید کردیا اور ان کی حرمت کو پائمال کردیا (٢٩) ۔

جی ہاں ! امام حسین علیہ السلام نے اپنی شہادت سے ان لوگوں کے اوپر حجت تمام کردی جنہوں نے ابھی تک بنی امیہ کے اسلام میں زندگی بسر کی تھی اور معاویہ جیسا امیرالمومنین دیکھا تھا اور اب فاسق و فاجر، شراب خوار یزید ان پر خلافت اور امامت کا دعوی کررہا تھا اور وہ فقط اپنے خاندان کو مسلمان سمجھتا تھا اور امام حسین علیہ السلام اور ان کے پاک و پاکیزہ خاندان کو دین اسلام سے خارج سمجھتا تھا (٣٠) ۔

امام حسین علیہ السلام کی شہادت بندگی اور عشق و عرفان کی مظہر

امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب و انصار خداوندعالم کے عشق میں اس طرح فنا تھے کہ وہ اپنے بدن پر تلواروں اور نیزوں کی ضربات کا بھی احساس نہیں کر رہے تھے (٣١) ۔ جی ہاں ! یہ لوگ، ابراہیم کی طرح آتش نمرود میں داخل ہوئے اور وہ آتش ان پر خاموش ہوگئی اور محبوب کے دیدار کی لذت نے انہیں سب کچھ بھلا دیا (٣٢) ۔

لہذا یہ کہنا چاہئے کہ ان حساس لمحات میں امام اور ان کے اصحاب و انصار کے عشق و عرفان کا جذبہ اس قدر تعجب آور ہے کہ جس کو بیان کرنے سے الفاظ قاصر ہیں (٣٣) ۔

اسی طرح امام علیہ السلام بہت ہی صراحت کے ساتھ ان کو شہادت اور بہشت کی طرف پرواز کرنے کی خبر دیتے ہیں اور وہ بہشت کے شوق و دیدار میں گریہ کرتے ہیں اور خوشحال ہوتے ہیں(٣٤) ۔ ان کے کلمات میں تسلیم و رضا اور اور معارف الہی کی علامتیں بہت ہی واضح ہیں ، نہ کوئی شکوہ ہے ، نہ بے تابی اورنہ اظہار ندامت و پشیمانی ، ہر جگہ صبر و شکر اور تسلیم و رضا کی باتیں ہیں (٣٥) ۔

امام حسین علیہ السلام کی شہادت میں آخرت کی نشانیاں ظاہر ہیں

امام علی بن الحسین علیہ السلام نے فرمایا : عاشورا کے روز جس وقت امام حسین علیہ السلام پر بہت سخت وقت پڑا تو سب نے دیکھا کہ ایسے خطرناک حالات میں انسان کے چہرہ کا رنگ بدل جاتا ہے اور اس کے جسم میں لرزہ آجاتا ہے ، لیکن امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب و انصار کے چہرہ چمک رہے تھے ا ور ان کے دل مطمئن تھے اور ان میں سے بعض اصحاب دوسرے بعض اصحاب سے کہتے تھے کہ ان کو دیکھو کہ وہ کس طرح مطمئن ہیں او رموت سے کوئی خوف و ہراس نہیں ہے (٣٦) ۔اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا : صبر کرو ! موت فقط ایک زینہ ہے جو تمہیں سختیوں اور پریشانیوں کے ساتھ بہشت کی طرف پہنچا دے گا اور وہاںپر ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتیں ملیں گی (٣٧) ۔ اس ایثار اور صبر کے پیکر راہنما کے کلام سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کا دل بہت ہی زیادہ مطمئن تھا جو نہ اپنی موت سے ڈر رہا تھا اور نہ اپنے اصحاب، انصار اور اولاد کی موت سے ڈر رہا تھا (٣٨) ۔

زندگی کے آخری لمحات میں موت پر مسکرانہ اور چہروں کا نورانی ہوجانا فقط ان لوگوں کے لئے میسر ہے جن کے پورے وجود کو محبوب کے عشق و دیدار نے اپنے اندر سما لیا ہو اور وہ دنیا کو ایک قید خانہ سمجھتے ہوں اور موت کو قیدخانہ کا دروازہ کھلنے کا وسیلہ سمجھتے ہوں (٣٩) ۔

آخری بات

اس مقالہ کے اختتام پر کہنا چاہئے کہ امام حسین علیہ السلام خدا کی راہ میں شہادت ، شہامت، شجاعت اور آزادی کا بہترین اور کامل ترین نمونہ تھے (٤) ۔ کیونکہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت اس قدر بلند و بالا ہے کہ یہ صرف پرانی نہیں ہوتی بلکہ اس کی اہمیت روز بروز آشکار ہو رہی ہے ، حق ، عدالت ، انسانی کرامت، راہ الہی میں جہاد اور ذلت قبول نہ کرنا ایسے مفاہیم ہیں جو کبھی بھی پرانے نہیں ہوں گے ۔جو انقلاب اور شہادت خداوندعالم کی ذات پاک سے وابستہ ہو وہ کس طرح پرانی ہوسکتی ہے ،خداوندعالم کی ذات ازلی او ر ابدی ہے اور جو چیز بھی اس سے وابستہ ہوجائے وہ بھی ازلیت اور ابدیت میں تبدیل ہوجاتی ہے (٤١) ۔ اس بناء پر امام حسین علیہ السلام نے اپنی شہادت کے ذریعہ ہمیں آزادگی ، عزت، عظمت، خلوص نیت اور جہاد و ایثار کا درس سکھایا ، وہی امور جن کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے (٤٢) ۔

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:

١۔  احکام عزاداری ،صفحہ ١١٥ ۔

٢ ۔  احکام عزاداری ،صفحہ ١١٧ ۔

٣ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٤ ۔  احکام عزاداری ،صفحہ ١٣١ ۔

٥۔  احکام عزاداری ،صفحہ ١٣۔

٦ ۔  احکام عزاداری ،صفحہ ١٣۔

٧ ۔  اہل سنت کا مشہور اور متعصب مورخ ابن کثیر کہتا ہے :  یزید، موسیقی، شراب خواری، گانا گانے، شکار (تفریحی) کرنے ، غلاموں ،کنیزوں، کتوں اور بندروں سے کھیلنے،جانوروں کو ایک دوسرے لڑانے میں بہت مشہور تھا ، روزانہ صبح کو شراب سے مست نشے میں اٹھتا تھا اور اپنے گھوڑے پر بندر کو سوار کرتا تھا ، بندروں اور غلاموں کو زرین ٹوپیاں پہناتا تھا اور جب اس کا بندر مرجاتا تھا تواس پر گریہ کرتا تھا (عاشورا ، صفحہ ٢١٩) ۔

٨ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ ٣١ ۔

٩ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ ٣٢ ۔

١٠ ۔  معاویہ نے عمروبن عاص، زیاد بن ابیہ، مغیرة بن شعبةاور سمرة بن جندب جیسے لوگوں کو مصر، بصرہ اور کوفہ جیسے شہروں پر حکمراں بنارکھا تھا ، یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اس متعلق نہج البلاغہ کے ٦٢ ویں مکتوب میں ایک تعجب خیز پیشین گوئی کی تھی ، اس کی زیادہ تفصیل کتاب عاشورا کے صفحہ ١٦٣ پر مطالعہ کریں ۔

١١ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ ٤٢ ۔

١٢ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ٤٣ ۔

١٣ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ ٤٣ ۔

١٤ ۔  مفاتیح نوین، صفحہ ٣٨٢ ۔ بحارالانوار ، جلد ٩٨ ، صفحہ ١٩٧ ، حدیث ٣٢ ۔

١٥ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ٧٩ ۔

١٦ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ٧٩ ۔

١٧ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ ٧٩ ۔

١٨ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ٣٠ ۔

١٩ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ٣٠ ۔

٢٠ ۔  مستدرک الوسائل ، جلد ١٠ ، صفحہ ٣١٨ ، حدیث ١٣ ۔

٢١ ۔  عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا، صفحہ ٤٢٥ ۔

٢٢ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ ١٠٧۔

٢٣ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ ١٠٧ ۔

٢٤ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ ١٠٧۔

٢٥ ۔  عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا، صفحہ ٤٢٥ ۔

٢٦ ۔  عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا، صفحہ ٤٢٥ ۔

٢٧ ۔  مراجعہ کریں : بحار الانوار ، جلد ٤٥ ، صفحہ ٢٠١ تا ٢١٩ ۔ سیر اعلام النبلاء ، جلد ٤ ، صفحہ ٤٢٥ تا ٤٢٨ ۔

٢٨ ۔  شاعر کے بقول : یکبرون لان قتلت و انما / قتلوا بک التکبیر و التھلیلا ۔ جس وقت تمہیں قتل کیا تو تکبیر کہی ، لیکن حقیقت میں تکبیر اور تہلیل کہہ کر قتل کرنے کے ذریعہ تکبیر اور تہلیل کو قتل کردیا (بحارالانوار ، جلد ٤٥ ، صفحہ ٢٤٤ ) ۔

٢٩ ۔  عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا، صفحہ ٤٢٥ ۔

٣٠ ۔  عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا، صفحہ ٤٢٥ ۔

٣١ ۔  عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا، صفحہ ٤٢٥ ۔

٣٢ ۔  عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا، صفحہ ٤٢٥ ۔

٣٣ ۔  عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا، صفحہ ٤٢٥ ۔

٣٤ ۔  عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا، صفحہ ٤٢٥ ۔

٣٥ ۔  عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا، صفحہ ٤٢٥ ۔

٣٦  ۔  عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا، صفحہ ٤٢٥ ۔

٣٧ ۔  عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا، صفحہ ٤٢٥ ۔

٣٨ ۔  عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا، صفحہ ٤٢٥ ۔

٣٩ ۔  عاشورا ، ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ، پیامدھا، صفحہ ٤٢٥ ۔

٤٠ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ ٩ ۔

 ٤١ ۔  گیارہویں انٹرنیشنل کانفرنس میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا پیغام (٣/٣/١٣٩٤) ۔

٤٢ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

تاریخ انتشار: « 5/27/2016 4:29:47 PM »

منسلک صفحات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نظریہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کی خصوصیات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں علمائے اسلام کے اتحاد کی خصوصیات

معظم لہ کے نقطہ نظر سے استکبارستیزی کی گفتگو میں اسٹریٹجک عوامل

دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کیلئے معظم لہ کی حکمت عملی

معظم لہ کی نظر میں سعودی جرائم سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی حکمت عملی اور پالیسیاں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 421