قیام عاشورا میں تہذیب عبادت کی تجلی
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

قیام عاشورا میں تہذیب عبادت کی تجلی

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: امام حسین علیہ السلام نے ظہر عاشور کے وقت نماز جماعت قائم کی ، اس نماز جماعت قائم کرنے کا پیغام یہ ہے کہ نماز کو سخت ترین حالات میں بھی ادا کرنا چاہئے ،کیونکہ ظہر عاشورا میں نماز جماعت قائم کرنا بہت اہم کام ہے ۔
کلمات کلیدی:

یقینا ظہر عاشورا کے وقت امام حسین علیہ السلام کا عبادت کا شوق اپنے پروردگار کی بارگاہ میں عبادت کی بہترین اور خوبصورت مثال ہے ، ایسی با عظمت نماز جو کربلا کی تاریخ ساز جنگ کے وقت تمام تر محدودیت اور موانع کے باوجود قائم ہوئی اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام کو اپنے معبود سے راز و نیاز کرنے کا کس قدر شوق تھا اور یہ اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت سیدالشہداء علیہ السلام نماز کے عاشقوں کے لئے عبودیت اور بندگی کا نمونہ عمل ہیں ، ہمیشہ سب کو انہی کی اقتداء کرنا چاہئے ، یہی وجہ ہے کہ اس مقالہ میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم کے بلند و بالا نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے قیام عاشورا میں بندگی اور عبودیت کے مقام کو قارئین کے سامنے پیش کریں گے :

مفہوم عبودیت کی حقیقت میں غور وفکر

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات میں مفہوم عبودیت کو ایک انسان کی روح کے درجہ کمال تک پہنچنے ، خداوندعالم سے نزدیک ہونے اور اس کی ذات کے سامنے تسلیم ہونابیان کیا گیا ہے ، ایسی عبادت جو صرف رکوع، سجود ، قیام اور قعود پر منحصر نہیں ہے بلکہ کمال مطلق کے سامنے بغیر کسی قید وشرط کے تسلیم ہونے کو بیان کرتی ہے ،ایسی عبادت جو ہر طرح کے عیب و نقص سے پاک و پاکیزہ ہے (١) ۔ اور ایسا گوہر ہے جس میں ربوبیت چھپی ہوئی ہے (٢) ۔

قیام عاشورا ،عبودیت کا بلند ترین درجہ

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کربلا میں عبودیت کی ثقافت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : تاریخ بشر میں ٦١ ہجری کے عاشورا جیسا حادثہ موجود نہیں ہے اور کسی بھی مورخ نے ایسا واقعہ اپنی تاریخ میں نہیں لکھا ہے ۔

یہ حادثہ اس سکہ کی طرح ہے جس کے دو مختلف اور ایک دوسرے سے بالکل جدا دو رخ ہیں ، اس کے ایک طرح خیانت، بے وفائی، ظلم وستم، پلیدی ، قساوت، بے رحمی اور مہمان کشی ہے اور دوسری طرف وفاداری، جانبازی ، جوانمردی ، شہامت، ظلم و ستم کو قبول نہ کرنا، صبر اور قضائے الہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے (٣) ۔

 تجلی عبودیت کا راز، عبادت اور بندگی سے محبت

معظم لہ نے فرمایا : نو محرم کو شام کے وقت جب عمر بن سعد نے امام علیہ السلام سے زبردستی بیعت لینے یا امام اورآپ کے اصحاب کو قتل کرنے کیلئے حملہ کرنے کا حکم دیا تو امام نے اپنے بھائی عباس علیہ السلام سے مخاطب ہو کر فرمایا : اے عباس ! میری جان تم پر قربان جائو اور ان سے کل صبح نمودار ہونے تک کی اجازت لے لو اور ا یک رات کی مہلت لے لو ، تاکہ آج رات خداوندعالم کی بارگاہ میں راز و نیاز کرسکیں، خدا جانتا ہے کہ میں نماز اور قرآن کی تلاوت کو کس قدر دوست رکھتا ہوں (٤) ۔

حق کو باطل سے جدا کرنے کی بنیادی خصوصیت عبودیت پروردگار

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے شب عاشورمیںخالص عبادی معارف کو بیان کرتے ہوئے اس طرح فرمایا : جی ہاں ! کربلا میں دو لشکر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوگئے ،ان میں سے ایک آدم کی پاک و پاکیزہ اور خالص ترین اولاد تھے اور دوسرے خبیث ترین اور کثیف ترین شیطان کے مددگار تھے ۔ ایک لشکر رات بھر کی مہلت مانگ رہا تھا تاکہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے خدا سے تنہائی میں راز و نیاز کرسکیں اورراز و نیاز کے ساتھ اپنے خدا سے ملاقات کے لئے آمادہ ہوسکیں اور دوسرا لشکر پستی اور ذالت کی انتہاء تک پہنچ گیا تھا جو پیغمبر خدا کی یادگار کو قتل کرنے کیلئے آمادہ تھا (٥) ۔

ان تمام تفاسیر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہنا چاہئے کہ اس لحاظ سے کربلا کا واقعہ دوسرے تمام واقعات سے الگ ہے ۔ عجیب رات تھی ! امام علیہ السلام کے اصحاب اپنے پروردگار کی بارگاہ میںمناجات کر رہے تھے اور کربلا کی پوری فضا ان کے آوازوں سے بھری ہوئی تھی ، گویا کہ عرش الہی میں فرشتوں کی آواز گونج رہی ہے (٦) ۔

عبودیت کے حقیقی معنی ظہر عاشورا کی نماز

معظم لہ نے واقعہ کربلا میں عبودیت کی خوبصورت اور بہترین خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے اس طرح فرمایا : روز عاشورا ظہر کے وقت ابوثمامہ صائدی ، امام علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور عرض کیا : یا اباعبداللہ ! میری جان آپ پر قربان ! میں چاہتا ہوں کہ جب خداوندعالم سے ملاقات کروں تو آخری نماز (جس کا وقت آپہنچا ہے) آپ کے ساتھ پڑھ چکا ہوں (٧) ۔ امام علیہ السلام نے آسمان کی طرف سر بلند کیا اور فرمایا : ''ذکرت الصلاة ، جعلک اللہ من المصلین الذاکرین ! نعم ، ھذا اول وقتھا'' ۔ تم نے نماز کا خیال رکھا ، خداوندعالم تمہیں نمازیوں میں قرار دے ۔ جی ہاں ، اس وقت فضیلت نماز کا وقت ہے (٨) ۔ لہذا امام علیہ السلام کے بعض اصحاب سامنے کھڑے ہوگئے اور سینہ کو سپر بنالیا اور امام علیہ السلام نے اپنی آخری نماز تیروں کے سایہ میں ادا کی (٩) (١٠) ۔

معظم لہ نے نماز ظہر عاشورا میں عبودیت اور بندگی کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا : یہ تاریخی اور بے نظیر نماز ، روح نماز کو زندہ کرتی ہے اور مفہوم نماز کو راہ حق تلاش کرنے والوں کے لئے آشکار کرتی ہے اور راہ معبود میں عبودیت اور پاکیزگی کے حقیقی معنی کو ظاہر کرتی ہے ، اس نماز نے خیالی معبودوں اور دنیا پرست شیطانی بتوں پر خط بطلان کھینچ دی اور اگر آج گلدستہ اذان سے تکبیر اور اذان کی آواز آرہی ہے تو وہ اس نماز اور اذان کی برکت سے باقی ہے اور کتنا اچھا لگتا ہے جب عزاداری کی انجمنیں ظہر عاشورا کے وقت جس جگہ بھی ہوتی ہیں ، متوقف ہوجاتی ہیں او رنماز ادا کرتی ہیں (١١) ۔

آخری مناجات

امام علیہ السلام نے اپنی گرانقدر عمر کے آخری لمحات میں اپنے پروردگار سے اس طرح مناجات کی : خدا یا ! اے بلند و بالا مقام و مرتبہ رکھنے والے! جو کہ (سزا اور انتقام لینے میں) بہت طاقتور ہے ! مخلوقات سے بے نیاز ہے ! بہت وسیع کبریائی کا مالک ہے ! تو جو چاہے اس پر قادر ہے ! ، تیری رحمت نزدیک اور تیرا اندازہ صحیح ہے ! تیری نعمتیں بہت زیادہ ہیں ، جب بھی تجھے پکارا جائے توتو نزدیک ہے ! اپنی مخلوقات پر محیط ہے ! تو توبہ کرنے والوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے ! جس چیز کا ارادہ کرے اس کو انجام دیتا ہے ! ضرورت مند تجھے پکار تے ہیں اور وہ تیرے مشتاق ہیں اور حزن و اندوھ کے ساتھ تیری بارگاہ میں گریہ کرتا ہوں اور بہت ہی کمزوری کے ساتھ تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں ، صرف تجھ پر توکل کرتا ہوں (١٢) ۔

آخری بات

معظم لہ نے اختتام پر نماز اور عبودیت کے درمیان ختم نہ ہونے والے رابطہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : خداوندعالم سے ارتباط قائم کرنے کیلئے نماز بہترین وسیلہ ہے اور معبود کے سامنے عبودیت کی بہترین مثال نماز ہے (١٤) امام حسین علیہ السلام نے ظہر عاشور کے وقت نماز جماعت قائم کی ، اس نماز جماعت قائم کرنے کا پیغام یہ ہے کہ نماز کو سخت ترین حالات میں بھی ادا کرنا چاہئے ،کیونکہ ظہر عاشورا میں نماز جماعت قائم کرنا بہت اہم کام ہے (١٥) ۔ اس بناء پر خطباء ، واعظین اور ذاکرین کو چاہئے کہ نماز کے وقت کی رعایت کریں اور نماز کے وقت نماز کے علاوہ کوئی دوسرا کام انجام نہ دیں (١٦) ۔

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:

١ ۔  اخلاق در قرآن ، جلد ١ ، صفحہ ٣٣٥ ۔

٢ ۔  مصباح الشریعة ، صفحہ ٥٣٦ (میزان الحکمة کے نقل کے مطابق ، لفظ عبد) ۔

٣ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ ٢٩ ۔

٤ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٣٩٠ ۔

٥ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٣٩١ ۔

٦ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٧ ۔  گزشتہ ، صفحہ ٤٧٢ ۔

٨ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٩ ۔  اعیان الشیعہ ، جلد ١ ،صفحہ ٦٠٦ ۔

١٠ ۔  عاشورا ریشہ ھا، انگیزہ ھا، رویدادھا، پیامدھا، صفحہ ٤٧٣ ۔

١١ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٤٧٣ ۔

١٢ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٥٢٩ ۔

١٣ ۔  گزشتہ حوالہ ، صفحہ ٥٣٠ ۔

١٤ ۔  شیعہ پاسخ می گوید ، صفحہ ١٤٣ ۔

١٥ ۔  حرم حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا) کے امام خمینی شبستان میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ١٣ / ٨/١٣٩٣ ۔

١٦ ۔  احکام عزاداری ، صفحہ ١٤١ ۔
تاریخ انتشار: « 5/27/2016 4:21:32 PM »

منسلک صفحات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نظریہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کی خصوصیات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں علمائے اسلام کے اتحاد کی خصوصیات

معظم لہ کے نقطہ نظر سے استکبارستیزی کی گفتگو میں اسٹریٹجک عوامل

دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کیلئے معظم لہ کی حکمت عملی

معظم لہ کی نظر میں سعودی جرائم سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی حکمت عملی اور پالیسیاں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 253