معظم لہ کے کلام میں قیام عاشورا کے پیغامات
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

معظم لہ کے کلام میں قیام عاشورا کے پیغامات

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: ہم جو یہ کہتے ہیں ' یا لیتنا کنا معک' اس کے معنی یہ ہیں کہ شہدائے کربلا کے قدم پر قدم رکھیں اور اپنے آپ کو عاشورا کی تعلیمات اور پیغامات سے ہماہنگ کریں جس کے لئے شہدائے کربلا شہید ہوئے ہیں ۔
کلمات کلیدی:

عاشورائے امام حسین علیہ السلام کے پیغامات اور تعلیمات اس قدر اہم ہے کہ ہم یہ دعوی کرسکتے ہیں کہ اگر عاشورا کی ثقافت پر تکیہ کرتے ہوئے قدم اٹھائیں تو کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی ،کیونکہ عاشورا کے مفاہیم ایسے ہیں جو کبھی پرانے نہیں ہوتے (١) ۔

کیونکہ عاشورا کے پیغامات میں آزادی اور ظلم سے مقابلہ کرنے کی باتیں بیان ہوئی ہیں ، عاشورا کے پیغامات ،زیارتوں ، امام حسین علیہ السلام کے خطبات ،  کوفہ وشام میں جناب زینب علیہا السلام اور امام زین العابدین علیہ السلام کے خطبوں اوراصحاب امام حسین علیہ السلام کی رجز خوانی میں موجود ہیں (٢) ۔

یہی وجہ ہے کہ اس مقالہ میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کے قیمتی نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے قیام حسینی کے اہم ترین پیغامات کو قارئین کے سامنے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

اصل غیرت دینی

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قیام عاشورا کی تعلیمات میں دینی غیرت اور اسلامی اقدار کی حفاظت کو بیان کیا گیا ہے ، مثال کے طور پر حضرت قمر بنی ہاشم (علیہ السلام) کا جب داہنا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو آپ نے فرمایا : اگر چہ تم نے میرا ایک ہاتھ کاٹ دیا ہے لیکن میں بھی پھر بھی دین کی حمایت کروں گا ، یہ جملہ بتاتا ہے کہ شہدائے کربلا نے دین کی حفاظت کیلئے شربت شہادت نوش کیا تھا (٣) ۔

نیکی کی ہدایت اور برائی سے روکنا

قیام عاشورا میں امام علیہ السلام کا ایک پیغام یہ تھا کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکرکو دوبارہ زندہ کیا جائے (٤) ۔ لیکن افسوس کہ اس مسئلہ کی اہمیت کے باوجود بعض لوگوں کا اصرار ہے کہ معاشرہ میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے پیغام کو کم رنگ کردیا جائے تاکہ معاشرہ میں اسلام کے برعکس غلط کام انجام دئیے جاسکیں (٥) ۔

لہذا اس مسئلہ میں امام حسین علیہ السلام ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ عزاداری کے سایہ میں معروف اور نیک کاموں کو وسعت دیں اور منکرت کو معاشرہ سے ختم کردیں ، یقینا ہر سال عزاداری کی عظمت اور وسعت میں اضافہ ہونا چاہئے (٦) ۔ لیکن اگر اسی طرح معروف اور نیکیاں فراموش ہوتی رہیں اور منکرات کو وسعت ملتی رہی تو کبھی بھی امام حسین علیہ السلام کی اس تعلیم تک نہیں پہنچ سکیں گے (٧) ۔

اسی طرح یہ بھی کہنا چاہئے کہ اگر امربالمعروف اور نہی عن المنکر عام لوگوں کے ذریعہ معاشرہ میں سرایت کرجائے تو بہت سی مشکلات حل ہوجائیں گی ، لیکن دشمن کی کوشش ہے کہ اس واجب امر کو تشدد کے ساتھ ظاہر کیا جائے ، جبکہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے معنی تشدد اور سختی نہیں ہے بلکہ بہت ہی ملائم ، نرم اور دلسوزی کے ساتھ یہ باتیں بیان کرنا چاہئیں (٨) ۔

راہ معبود میں عبودیت اور پاکیزگی

یہ بات بھی واضح ہے کہ ظہر عاشورا کو امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب نے نماز جماعت اسی وجہ سے قائم کی تھی تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ سخت ترین حالات میں بھی نماز کو قائم کرنا ضروری ہے (٩) ۔

اس بناء پر اگر نماز جماعت ، حضور قلب کے ساتھ اول وقت پڑھی جائے تو معاشرہ کی بہت سی ثقافتی اور اجتماعی مشکلات حل ہوسکتی ہیں (١٠) ۔

اس بناء پر کہنا چاہئے کہ اس بے نظیر اور تاریخی نماز نے روح نماز کو زندہ کردیا اور راہ حق کو تلاش کرنے والوں کے سامنے نماز کے مفہوم کو آشکار کردیا اور عبودیت اور پاکیزگی کے حقیقی معنی کو ظاہر کردیا ،خیالی معبودوں ، شیطانی بتوں ، دنیا پرستوں اور زور وزبردستی کے بندوں کے اوپر باطل کی مہر لگا دی اور اگر آج شہروں کی مسجدوں کے گلدستہ اذان سے تکبیر اور وحدانیت کی آواز بلند ہے تو وہ اسی نماز اور اذان کی برکت سے ہے اور کتنی اچھی بات ہے کہ ماہ محرم میں نماز ظہر کے وقت جس جگہ بھی عزاداری کے جلوس ہوتے ہیں وہ سب رک جاتے ہیں اور اسی جگہ پر نماز ظہر پڑھتے ہیں (١١) ۔

ابوعبداللہ الحسین (ع) کی مظلومیت کا ایک پیغام علی اصغر علیہ السلام کی شہادت ہے

قیام عاشورا کی قیمتی تعلیمات میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ عاشورا کے تمام پیغامات سننے کے لائق ہیں ، لیکن شیرخوار بچے کی شہادت تمام واقعات سے زیادہ شیرین اور عبرت ناک ہے (١٢) ۔

اس کا پہلا پیغام یہ ہے کہ دشمنان حق سے مقابلہ کرنے میں کوئی بھی مستثنی نہیں ہے ۔ شیر خوار سپاہی بھی جوانوں اور بوڑھوں کے ساتھ ساتھ میدان جنگ میں آتے ہیں اور اپنی نوبت کے لحاظ سے شہداء کی صفوں میں کھڑے ہوجاتے ہیں ، یہ بات بھی واضح ہے کہ ہر سپاہی کے پاس ایک اسلحہ ہوتا ہے ،کسی کے پاس تیر ہوتا ہے اور کسی کے پاس نیزہ یا تلوار، کسی کے پاس نازک گلا اور پاک وپاکیزہ خون کے چند قطرے جو اس کی مظلومیت کی بہترین دلیل ہے ۔ ایسا خون جس کو آسمان کی طرف بھی پھینکا گیا اور زمین کی طرف بھی اور دونوں نے اس سے عظمت و بلندی حاصل کی (١٣) ۔

دوسری بات یہ ہے کہ ظالم دشمنوں نے اپنی قساوت اور جرائم کو آخری حد تک پہنچا دیا ،یہاں تک کہ شیرخوار بچے پر بھی رحم نہیں کیا اور اس کے باپ کی آغوش میں شہید کردیا (١٤) ۔

آخری پیغام یہ ہے کہ خدا کی راہ میں تمام درد و رنج اور مصیبتوں کو برداشت کرنا آسان ہے ، کیونکہ پوری دنیا اس کے سامنے ہے اور یہ سب اس کے سامنے انجام پایا ہے (١٥) ۔

مختلف ابعاد میں امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت

ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی مظلومیت ایک نہیں تھی بلکہ واقعہ کربلا میں ہر طرف مظلومیت ہی مظلومیت نظر آتی ہے : امام علیہ السلام کو دعوت دینا اور پھر آپ سے بے وفائی کرنا ، مہمان کو قتل کرنا ، آپ کے اہل بیت، اصحاب ، بچوں اور عورتوں پر پانی بند کرنا ، ایسی غلط جنگ جس میں ٧٢ آدمیوں ک مقابلہ میں تیس ہزار کا لشکر تھا ، شہداء کے لاشوں کو دفن نہ کرنے دینا ، آل پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی عورتوں اور بچوں کو اسیر کرنا اور انہیں شہر بہ شہر گھومانا یہ ایسی مظلومیت ہے جس نے امام حسین علیہ السلام کے قیام کو دوسرے انقلاب سے بہت زیادہ الگ کردیا ہے (١٦) ۔

استقامت اور پایداری

امام حسین علیہ السلام کے آخری کلمات میں غور وفکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے پاس اس قدر نفس مطمئنہ موجود تھا کہ آپ موت کو چند قدم کے فاصلہ سے دیکھ رہے تھے ، اپنے اصحاب اور عزیزوں کی شہادت کو دیکھ رہے تھے ، لیکن لمحہ بہ لمحہ اپنے معشوق اور معبود کے دیدار کے لئے تڑپ رہے تھے (١٧) ۔

آپ نے ان حساس لمحات میں اس عظیم انقلاب کی تمام تر ذمہ داریاں اپنے بیٹے امام سجاد علیہ السلام کے سپرد کیں تاکہ وہ اس انقلاب کو آخری مرحلہ تک پہنچائیں ، آپ نے ان کو آخری وصیت کی اور اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو ان کی اطاعت کرنے کا حکم دیا (١٨) ۔

امام علیہ السلام اس حساس اور طوفانی لمحات میں بھی اپنے شیعوں اور اپنے ماننے والوں کو فراموش نہیں کرتے اور اپنی مظلومیت کا پیغام اپنے بیٹے کے ذریعہ ان تک پہنچاتے ہیں تاکہ وہ سمجھ جائیں کہ اپنے ہدف کے آخری مرحلہ میں کس طرح ہمت سے کام لینا چاہئے (١٩) ۔

عزت مندی اور سازش کو قبول نہ کرنا

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عاشورا کے پیغامات اور اہم ترین دروس میں اسرائے کربلا کا کردار بھی مدنظر رہے ، مثال کے طور پر جس وقت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کوشام میں یزید کے سامنے بولنا پڑتا ہے تو آپ فرماتی ہیں ، میرے لئے بہت ہی غیرت کی بات ہے کہ میں تجھ سے بات کروں ، میں تجھے بہت کمزور سمجھتی ہوں ، اسیری کی حالت میں اس شجاعت سے بات کرنا ہمارے لئے درس ہے کہ ہمیں ہر حال میں دشمن کے سامنے تسلیم نہیں ہونا چاہئے اور اپنے اصول و شرایط سے پیچھے ہٹ کر ذلت قبول نہیں کرنا چاہئے (٢٠) ۔

آخری بات

اختتام پر کہنا چاہئے کہ ہم جو یہ کہتے ہیں '' یا لیتنا کنا معک'' اس کے معنی یہ ہیں کہ شہدائے کربلا کے قدم پر قدم رکھیں اور اپنے آپ کو عاشورا کی تعلیمات اور پیغامات سے ہماہنگ کریں جس کے لئے شہدائے کربلا شہید ہوئے ہیں (٢١) ۔

لہذا امام علیہ السلام کے ماننے والے عاشق اس وقت عشق اور پیروی کا دعوی کرسکتے ہیں جب وہ اپنے زمانہ کے موجود مفاسد کی طرف غور وفکر کریں اور ان میں جس قدر بھی ہمت اور طاقت ہے ، اس سے مقابلہ کریں اور یقینا اس قدر عزادارجب بھی کوئی منطقی ارادہ کریں گے تو معاشرہ سے مفاسد اور برائیاں ختم ہوجائیں گی (٢٢) ۔

اس بناء پر محرم کی عزاداریوں میں عاشورا کے پیغامات کی طرف توجہ کریں ، عزاداری بہت ہی اچھی اور ضروری چیز ہے ، لیکن اس عزاداری کے ساتھ ساتھ عاشورا کے پیغامات کی طرف توجہ کرنا بھی ضروری ہے (٢٣) ۔

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:

١ ۔  حرم حضرت فاطمہ معصومہ علیھا السلام کے شبستان امام خمینی(رہ) میں عزاداران حسینی (ع) کے درمیان حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٤/٨/١٩٩٣) ۔

٢ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٣ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٤ ۔  اہداف قیام حسینی ، صفحہ ٣٨ ۔

٥ ۔  حرم حضرت فاطمہ معصومہ علیھا السلام کے شبستان امام خمینی(رہ) میں عزاداران حسینی (ع) کے درمیان حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٤/٨/١٩٩٣) ۔

٦۔  اہداف قیام حسینی ،صفحہ ٤٤

٧ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٨ ۔  حرم حضرت فاطمہ معصومہ علیھا السلام کے شبستان امام خمینی(رہ) میں عزاداران حسینی (ع) کے درمیان حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٤/٨/١٩٩٣) ۔

٩ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

١٠ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

١١ ۔  عاشورا ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ،پیامدھا ، صفحہ ٤٧٣ ۔

١٢ ۔  عاشورا ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ،پیامدھا ، صفحہ ٥٠٠ ۔

١٣ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

١٤ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

١٥ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

١٦ ۔  عاشورا ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ،پیامدھا ، صفحہ ٣٣ ۔

١٧ ۔  عاشورا ریشہ ھا ، انگیزہ ھا ، رویدادھا ،پیامدھا ، صفحہ ٥٠٥ ۔

١٨ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

١٩ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٢٠ ۔  حرم حضرت فاطمہ معصومہ علیھا السلام کے شبستان امام خمینی(رہ) میں عزاداران حسینی (ع) کے درمیان حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٤/٨/١٩٩٣) ۔

٢١ ۔  گزشتہ حوالہ ۔

٢٢ ۔  اہداف قیام حسینی ،صفحہ ٣٣ ۔

٢٣ ۔  حرم حضرت فاطمہ معصومہ علیھا السلام کے شبستان امام خمینی(رہ) میں عزاداران حسینی (ع) کے درمیان حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٤/٨/١٩٩٣) ۔
تاریخ انتشار: « 5/27/2016 4:15:05 PM »

منسلک صفحات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نظریہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کی خصوصیات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں علمائے اسلام کے اتحاد کی خصوصیات

معظم لہ کے نقطہ نظر سے استکبارستیزی کی گفتگو میں اسٹریٹجک عوامل

دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کیلئے معظم لہ کی حکمت عملی

معظم لہ کی نظر میں سعودی جرائم سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی حکمت عملی اور پالیسیاں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 132