حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نظریہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کی خصوصیات
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نظریہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کی خصوصیات

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: حجاب ،اسلام کی ترقی یافتہ تہذیب سے جدا نہ ہونے والا جزء ہے اور کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ مسلمان عورت کو(کسی بھی وجہ سے) اس دینی تہذیب کو چھوڑنے پر مجبور کرے ۔
کلمات کلیدی: حجاب ، پرده، امنیت، ضامن، تبلیغ، عفاف، عفت،کمیشن، تشکیل

مقدمہ
١٣١٤ ہجری شمسی کے چوتھے مہینہ کی ٢١ تاریخ کو ایران کے شہر مشہد مقدس کی مسجد گوہر شاد میں حجاب کے خلاف لوگوں پر ظلم و ستم کیا گیا اور ان کا خون بہایا گیا تھا ، اسی وجہ سے اس دن کو حجاب اور عفاف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، لہذا اسلامی نظام میں حجاب اورعفاف کو جاری کرنے کی خصوصیات زیادہ سے زیادہ آشکار ہوجاتی ہیں، اسی وجہ سے اس مقالہ میں مرجع عالی قدر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے معاشرہ میں اسلامی حجاب و عفاف کی خصوصیات اور اس کے تجزیہ کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
پہلے مرحلہ میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریہ کے مطابق یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسلام کی ترقی یافتہ تہذیب میں حجاب ،اسلام سے جدا نہیں ہوسکتا ،کیونکہ اسلام میں حجاب کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور حجاب کے سلسلہ میں متعدد آیات نازل ہوئی ہیں اور کوئی بھی اس سے انکار نہیں کرسکتا اور آیات حجاب کے متعلق غلط توجیہات کو بھی قبول نہیں کیا جاسکتا ہے (١)۔
لہذا حجاب کے متعلق مسجد گوہر شاد میں رضا خان کے جرائم کے المیہ کے بعد کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی اور بہت ہی آسانی اور سادگی سے اس کو نظرانداز  نہیں کیا جاسکتا (٢)۔ اسی وجہ سے معظم لہ نے رضا خان کے جرائم کو مدنظر رکھتے ہوئے تاجیکستان میںحجاب کے خلاف قدم بڑھانے کے متعلق اس ملک کے صدر کو دوستانہ طور پر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ہے : ہم نے رضا خان کے زمانہ میں اس کام کا تجربہ کیا ہے، وہ بھی حجاب کی مخالفت کرتا تھا اور عورتوں کے سروں سے چادر اتار لیتا تھا ، یہاں تک کہ اس نے مسجد گوہر شاد میں بہت سے لوگوں کو شہید بھی کیا ، لیکن لوگوں نے اس کی بات کو قبول نہیں کیا اور انہوں نے رضا خان کے خلاف قیام کیا اور اصل حجاب کو اپنے ملک میں دوبارہ عملی جامہ پہنایا (٣)۔
لہذا بہتر یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ حجاب کے متعلق اپنے شرعی وظائف کو انجام دیں، اصل حجاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے انکار کیا جائے، یا مسلمانوں کو اس سے جدا کر دیا جائے (٤)۔
کیونکہ قرآن مجید کے مطابق مسلمان ، حجاب کے پابند ہیں بلکہ قرآن مجید میں حجاب کے متعلق بہت سی آیات آموجود ہیں اوران کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ پوری دنیا میں مسلمانوں کی نشانیوں کا ایک جزء ہے (٥)۔
اس بناء پر راقم الحروف نے بھی معظم لہ کی تقاریر کے بعض اہم حصوں کو اس مقالہ میں جمع کیا ہے تاکہ حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے بلند و بالا نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کے مخلف ابعاد کا تجزیہ اور تحلیل کی جائے اور پھر اس کے نتائج کو قارئین گرامی کے سامنے پیش کیا جائے :


اس بحث کی ضرورت
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حجاب اسلام کا مسلم الثبوت جزء ہے اور تمام فقہائے اسلام اس پر متفق ہیں اورہر طرح کی بدحجابی اور بے پردگی شریعت مقدسہ کے برخلاف ہے ۔ خاص طور سے مذہبی شہروں اور دینی مقامات پر اس کی زیادہ سے زیادہ رعایت کی جائے اوران مقامات پر بدحجابی اور بے پردگی کا گناہ بہت زیادہ ہے اوراس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر جگہ پر چادر پہننا خاص طور سے مقدس مقامات پر بہت ہی ضروری ہے (٦)۔
جی ہاں، حجاب کا شمار ضروریات دین میں ہوتا ہے اور یہ قرآن مجید سے لیا گیا ہے اور تمام اسلامی مذاہب اس کو قبول کرتے ہیں اور ضروریات دین سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کے ساتھ ذرہ برابر بھی معاشرت رکھتا ہو وہ سمجھ جائے گا کہ مسلمان حجاب کے پابند ہیں (٧)۔
لہذا حجاب ، عفاف اور دوسرے اعتقادی مسائل کو معاشرہ میں منتشر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اجتماعی اور تہذیبی مشکلات ، اقتصادی، سیاسی اور امنیتی مشکلات کا سبب بن سکتی ہیں (٨)۔
اس بناء پر حجاب ایک اسلامی وظیفہ ہے اور ضروریات دین کا جزء ہے جس کی قرآن مجید کی آیات اور اسلامی روایات میں متعدد بار تاکید کی گئی ہے اور یہی نہیں بلکہ دوست اوردشمن سب جان چکے ہیں کہ حجاب اسلامی پروگراموں کا جزء ہے، اسی وجہ سے دشمنان اسلام اس کے متعلق بہت زیادہ حساس ہیں (٩)۔
لیکن چونکہ بے پردگی، خاندانوں کی بنیادوں کو کمزور کردیتی ہے لہذاحجاب کو ایک اجتماعی وظیفہ کے عنوان سے بیان کرنا چاہئے اور ہمیں بدحجابی اور برہنگی کا مقابلہ کرنا چاہئے اگر کوئی اس کے منفی آثار کا انکار کرتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں ،چاہے ہم تسلیم کریں یا تسلیم نہ کریں حقیقت یہ ہے کہ بدحجابی اور برہنگی کے برے آثار پائے جاتے ہیں (١٠)۔
اگر معاشرہ کے حجاب کی حفاظت نہیں کریں گے تو نظام کو بہت بڑا نقصان پہنچے گا کیونکہ انقلاب کے مخالفین بے پردگی کے ذریعہ نظام کو کمزور کرنا چاہتے ہیں(١١)۔
ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کہنا چاہئے کہ یقینا مسلمان عورتوں کے لئے حجاب کا شمار ضروریات دین میں ہوتا ہے جو قرآن مجید اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی سیرت میں صریح طور پر بیان ہوا ہے اور تمام اسلامی مذاہب کے علماء اس پر متفق ہیں ۔ حقیقت میں حجاب ، مسلمان عورتوں کے لئے عزت و شرف اور ان کے احترام کا سبب ہے،اسی طرح بہت سے مفاسد سے اسلامی معاشرہ کی پاکیزگی اور طہارت کا سبب ہے (١٢)۔ یعنی اسلام کی نظر میں جس قدر بھی عورت عفاف و حجاب کے مسائل کی رعایت کرے گی اسی قدر وہ تقوی اور پاکیزگی سے نزدیک تر ہوگی (١٣)۔
 لہذا اسلامی جمہوریہ ایران میں حجاب کا مسئلہ اسلام کا ایک فرعی حکم بن گیا ہے اور دینی اصول میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ کیونکہ مسلمان جب دوسرے ممالک میں اسلام کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو حجاب کی رعایت کرتے ہیں ۔ دشمن بھی اسلام کو کمزور کرنے کیلئے حجاب کی مخالفت کرتے ہیں ۔ جمہوریہ اسلامی ایران میں بھی  انقلاب کے مخالفین نظام کی مخالفت کرنے کیلئے بے حجابی پر تکیہ کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے عورتوں کے سروں سے مقنعہ کو اتار دیا تو اسلامی نظام کو ایک حد تک کمزور کردیا ہے ۔ لہذا یونیورسٹی کے اندر اور باہر حجاب کی رعایت پر زور دینا چاہئے (١٤)۔
اس بناء پر ضروری ہے کہ ہم اس اہم مسئلہ پر تاکید کریں کہ مسئلہ حجاب کا شمار واجبات بلکہ ضروریات دین ا سلام میں ہوتا ہے، خاص طور سے ہمارے زمانہ میں جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں وہ سمجھ گئے ہیں کہ مسلمانوں کے تمام فرقوں کا ایک جزء حجاب ہے جو آہستہ آہستہ ایک نشانی میں تبدیل ہوگیا ہے اور مسلمان اس پر پابند ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دشمن حجاب سے وحشت کرتا ہے (١٥)۔


حجاب اور عفاف کے لفظ اور مفہوم کو سمجھے میں غور وفکر کی ضرورت
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی عفاف اور حجاب کے معنی اور مفہوم کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : راغب نے مفردات میں کہا ہے : ''العفة حصول حالة للنفس تمتنع بھا عن غلبة الشھوة '' (١٦)۔ نفس کے لئے ایک حالت کے حاصل ہونے کو عفت کہتے ہیں (١٧)جس کی وجہ سے شہوت انسان پر غالب نہیں آتی، دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ شہوات کو کنٹرول کرنے کو عفت کرتے ہیں ۔ جس وقت ہم شہوت کہتے ہیں تو اس سے فقط جنسی شہوت مراد نہیں ہوتی بلکہ عام معنی مراد ہوتے ہیں جیسے مال و مقام اور کھانے پینے کی شہوت، جنسی شہوت وغیرہ ۔عفت ان تمام شہوتوں کو کنٹرول کرتی ہے (١٨)۔
پس قوہ شہویہ کے حد اعتدال کو عفت کہتے ہیں وہ بھی عام شہوت یعنی ہر چیز کے جاذبہ کو شہوت کہتے ہیں جیسے مال ومقام اور جنسی شہوت وغیرہ کہ اگر یہ حد سے گزر جائے تو حرص ولالچ ہے اور اگر حد اعتدال تک نہ پہنچے تو سستی اورکاہلی ہے اور اگر حد اعتدال تک پہنچ جائے تو عفاف ہے (١٩)۔
 لغت میں دو چیزوں کے درمیان کسی چیز کے حائل کرنے کو حجاب کہتے ہیں (٢٠)۔ اسی وجہ سے قلب اور پھیپھڑوں کے درمیان جو پردہ پڑا ہوا ہے اس کو''حجاب حاجز'' کہتے ہیں (١٢)۔
قرآن مجید میں بھی یہ کلمہ ، پردہ اور حائل کے معنی میں استعمال ہوا ہے (٢٢)۔
لہذا عورتوں کے متعلق حجاب شرعی سے مراد چہرہ اورگٹوں تک ہاتھوں کے علاوہ پورے بدن کے چھپانے کو کہتے ہیں (٢٣)۔
اسی وجہ سے واجب حجاب کے متعلق کافی ہے کہ عورت چہرہ اور ہاتھوں کے علاوہ اپنے پورے بدن کو ہر چیز سے چھپا سکتی ہے اور کوئی خاص لباس شرط نہیں ہے لیکن تنگ اور چست لباس پہننا اسی طرح زینت کا لباس پہننے میں اشکال ہے (٢٤)۔


حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹیں
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کے لاگو ہونے میں مختلف علل و اسباب کورکاوٹوں کے عنوان سے بیان کیا ہے،جن میں سب سے اہم موانع مندرجہ ذیل ہیں :


١۔  حجاب اور عفاف کے مسئلہ میں آزادی بیان کی تحریف
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے حجاب اور عفاف کے مسئلہ میں بعض غلط افکار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :  اصلاح کے قصد سے تنقید کرنا چاہئے، تخریب کاری کے قصد سے نہیں ،انتقاد مفید، دوستانہ اور تعمیری ہوں ،خراب کاری، اذیت دینے اورانتقام لینے والی تنقید نہیں ہونا چاہئے اور یہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے وہی شرائط ہیں جو فقہ میں بیان ہوئے ہیں اگر اس حد سے تجاوز نہ کریں تو بہت بہتر ہے ۔
لیکن اگر بعض امور جیسے اقتصادی پابندی کی وجہ سے خاموشی اختیار کریں اور یہ کہیں کہ حجاب ، عفاف اور اخلاقی مفاسد کے بارے میں کچھ نہ کہو تو یہ غلط ہے (٢٥)۔


٢۔  حجاب اور عفاف کے مسئلہ میں بغیر مہارت کے قدم رکھنا
معظم لہ نے اہم میدانوں جیسے عفاف اور حجاب کے مسئل میں بزرگ علماء کے حصہ لینے کے متعلق فرمایا : ایسے افراد کی طرف سے تنقید ہونا چاہئے جن کے پاس اس سلسلہ میں علم و آگاہی موجود ہے،معاشرہ کی اصلاح اور شرئط کے لئے اہل علم اور یونیورسٹی کے اساتید کی ضرورت ہے (٢٦)۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ بدحجابی معاشرہ میں کوئی تاثیر نہیں ڈالتی، جبکہ معاشرہ میں بہت سے فساد اسی بدحجابی کی وجہ سے ہیں جو دونوں طرف کو آلودہ کرتی ہے (٢٧)۔


٣۔  بعض لوگوں کا غفلت سے کام لینا
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں حجاب کے متعلق بعض مسئولین کا سیاسی نقطہ نظر اور کسی پروگرام کا نہ ہونا معاشرہ میں حجاب وعفاف کے لاگو نہ ہونے کا سبب ہے ۔
لہذا معظم لہ نے درخواست کی ہے کہ معاشرہ میں بے پردگی اور آزادی سے جنگ کیلئے صحیح پروگرام مرتب کئے جائیں اور معظم لہ نے ان لوگوں پر تنقید کی ہے جواس مسئلہ سے لا پرواہی کرتے ہیں اور ان لوگوں کو روکنا چاہتے ہیں جو بے پردگی سے مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں (٢٨)۔


٤ ۔  حجاب اور عفاف کے جاری ہونے میں اخلاقی آزادی حقیقی رکاوٹ
معظم لہ کی نظر میں مغربی دانشوروں کا وجود اور مغربی لوگوں کے ذریعہ بے پردگی کی برائی کو ختم کردینا معاشرہ میں حجاب وعفاف کی ترقی میں رکاوٹ کا اہم سبب قرار پایا ہے ۔
انہوں نے فرمایا :  حجاب کے آزاد ہونے کی باتیں غرب پرست افراد کی طرف سے بلند ہوتی ہیں اور مسئولین کو چاہئے کہ وہ بے پردگی سے مقابلہ کرنے میں اپنی پوری کوشش کریں تاکہ لوگ اخلاقی آزادی قبول کرنے کیلئے انہیں مجبور نہ کریں (٢٩)۔
انہوں نے مزید فرمایا : بعض لوگوں پروپگینڈہ کرتے ہیں کہ زبردستی حجاب کو رواج نہیں دیا جاسکتا جبکہ بعض اہم اداروں کے پروگراموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ثقافتی پروگراموں سے نقصان پہنچانے والے نقاء کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے (٣٠)۔
اسی طرح معظم لہ نے مغربی نظریوں کو جاری کرنے میں بعض حکمرانوں کے نظریات پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا : حجاب اور پردہ شرعی اور اخلاقی لحاظ سے ایک وظیفہ ہے،اس نظریہ کے برخلاف جو بعض مغرب سے متاثر لوگ کہتے ہیں کہ تم اس مسئلہ پر کیوں اصرار کرتے ہو اور اس کو آزاد چھوڑ دو (٣١)۔
معظم لہ نے اس حقیقی نقصان کی تشریح میں بعض مسئولین کے نظریات پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا : افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں بعض حکمرانوں کی باتوں اور بعض میڈیا کی تعبیرات اور بعض مقامات پر حجاب کے مسئلہ کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے حجاب کا مسئلہ بدحجابی سے بے حجابی میں تبدیل ہوگیا ہے، جبکہ حجاب کا مسئلہ بہت اہم ہے جیسا کہ قرآن مجید نے فرمایا ہے : ''ذلکم اطھر لقلوبکم و قلوبھن'' ۔
لہذا معظم لہ نے معاشرہ میں بدحجابی اور بے حجابی کے منفی نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : حجاب کا مسئلہ بہت اہم اہم ہے اوریہ صرف ایک سادہ حکم نہیں ہے، جب حجاب کا مسئلہ کم ہوجائے گا یا بالکل ختم ہوجائے گا تو ناجائز تعلقات ، جرم، نا امنی اور دوسرے مسائل زیادہ ہوجائیں گے اور جب ایسا ہوجائے گا تو خاندانوں کا مرکز نیست ونابود ہوجائے گا (٣٢)۔


بے حجابی اور بے عفتی کے نتائج
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں بے حجابی اور بے عفتی، اسلامی معاشرہ اور خاندانوں کی بنیادوں کو مختلف مشکلات سے دوچار کردیتی ہے جن میں سے بعض مشکلات کی طرف یہاں پر اشارہ کرتے ہیں :
١۔  بے حجابی،برہنگی کا مقدمہ ہے
معظم لہ نے اس سلسلہ میں فرمایا ہے : حجاب کا حکم اسلام کے موکد ترین احکام میں سے ایک ہے ۔ قرآن مجید نے متعدد آیات جیسے سورہ نور کی ٣١ ویں اور ٦٠ ویں آیات میں، اسی طرح سورہ احزاب کی ٣٣، ٥٣ اور ٥٩ ویں آیات میں حجاب کے مسئلہ پر بہت زیادہ تاکید کی ہے جن میں بعض مقامات پر ایماندار عورتوں کو مخاطب کیا ہے اور بعض مقامات پر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کو مخاطب قرار دیا ہے اورکبھی بوڑھی عورتوں کو جدا کرتے ہوئے دوسری عورتوں کے حکم کو بیان کیا ہے، اس طرح مختلف عبارات میں اس اسلامی وظیفہ کی اہمیت کو سب کے سامنے واضح کیا ہے ۔
واضح سی بات ہے کہ حجاب کو ختم کردینا ، برہنگی، جنسی آزادی اور کسی قید و شرط کے نہ ہونے کا مقدمہ ہے، جس سے پیدا ہونے والے مفاسد اور مشکلات کسی کے اوپر پوشیدہ نہیں ہیں ۔


٢ ۔  بے حجابی، ذلت اور خودنمائی کا مقابلہ
معظم لہ نے اپنے دوسرے بیان میں بے حجابی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : بے حجابی اس بات کا سبب بنے گی کہ بعض عورتیں اپنے اندام کو دکھانے کیلئے ہر ایک مقابلوں میںشرکت کریں ا ور ہوسباز مردوں کو تحریک کرنے کی محفلوں میں جائیں ۔ یہ کام ہمارے زمانہ میں بہت زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں پڑھائی اوراقتصادی مشکلات کی وجہ سے شادی کی عمر بہت زیادہ ہوگئی ہے اور معاشرہ کا ایک عظیم حصہ کنوارے پن کی زندگی گزار رہا ہے۔


٣ ۔  بے حجابی، روح اور نفسیاتی بیماریوں کی جڑ ہے
اخلاقی لحاظ سے بے حجابی خاندانوں کی ناامنی اور جرائم کے ظاہر ہونے کا سبب ہے،اس کے علاوہ اعصابی ہیجان اور نفسیاتی بیماریوں کے ایجاد ہونے کا سبب قرار پاتی ہے،جس کا نتیجہ خاندانوں کے درمیان سستی اور معاشرہ میں عورت کو کم اہمیت بنادیتی ہے ۔


٤ ۔  بے حجابی کے سایہ میں طلاق
اگر حجاب کی رعایت نہ کی جائے تو دونوں میں قلبی اور اخلاقی آلودگی پیدا ہوجاتی ہے، جب حجاب ختم ہوجائے گا تو اس سے ناجائز تعلقات قائم ہونا شروع ہوجائیں گے اور جب ناجائز تعلقات زیادہ ہوجائیں گے تو میاں اور بیوی کے تعلقات ختم ہوجائیں گے کیونکہ بہت سی طلاقیں اسی کے سایہ میں واقع ہوتی ہیں اور پھر اسی کی وجہ سے بچوں کی سرپرستی کا مسئلہ مستقبل میں ان کو جرائم انجام دینے پر مجبور کردے گا (٣٥)۔
برطانیہ میں جرائم پیشہ افراد کی فائلوں کی تحقیق کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ناجائز اور بے سرپرست بچے معاشرہ میں سب سے زیادہ جرائم انجام دیتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرہ کو بہت زیادہ پریشانی لاحق ہوتی ہے، اس بناء پر حجاب صرف ایک شرعی وظیفہ نہیں ہے بلکہ ایک اجتماعی وظیفہ بھی ہے تاکہ معاشرہ سالم باقی رہ سکے (٣٦)۔


٥ ۔  برائیوں کے مقابلہ میں غفلت سے کام لینا
معظم لہ نے فرمایا :  اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ سالم اور پاک و پاکیزہ رہے اور میاں و بیوی کے روابط متزلزل نہ ہوں تو حجاب اور برائیوں کے مسائل کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
٦ ۔  بے شمار مفاسد کی اصلی جڑ بے حجابی ہے
بہت سے مفاسد اور جرائم کی اصلی وجہ یہی بدحجابی اور بے حسی ہے، گزشتہ زمانہ میں حجاب ہمارے لئے فروع دین کی ایک فرع تھی لیکن آج کے حالات میں اصول دین میں تبیدل ہوگیا ہے کیونکہ یہ اسلام کی علامت بن گیا ہے ۔
بدحجابی کے بہت سے غلط نتائج سامنے آتے ہیں جیسے خاندانوں کی بنیادوں کا کمزور ہونا، فحشاو فساد کا زیاد ہوجانا، بے سرپرست بچوں کا پیدا ہونا،معاشرہ میں مرد اور عورتوں کے لئے بہت سے گناہوں کا موجود ہوجانا(٣٧)۔
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے بہت سے اجتماعی اور اخلاقی مفاسد کی پیدائش کو بے حجابی بیان کیا ہے اور تاکید کی ہے :  حجاب ایک اہم وظیفہ ہے بلکہ شرعی وظیفہ کے علاوہ ایک اجتماعی وظیفہ بھی ہے اور خاندانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلہ کا پہلے سے زیادہ اہتمام کریں (٣٨)۔


اسلامی نظام میں حجاب اور عفاف کی خصوصیات
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نقطہ نظر سے اسلامی نظام میں حجاب اور عفاف کی اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں :


١ ۔  حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے میں اسلامی تعلیمات کی خصوصیات
معظم لہ کی نظر میں حجاب اور عفاف کی رعایت کرنے پر اسلامی تعلیمات مقدم ہیں، انہوں نے ایک بیان میں فرمایا ہے : ایک مرتبہ ملک کے کچھ لوگوں سے سوال کیا گیا تھا کہ اس ملک کی تہذیبی مشکلات کیا ہیں ؟ کچھ لوگوں نے جواب دیا تھا : نشہ آورچیزوں کو استعمال کرنا اور ان کی عادت پڑ جانا ، کچھ لوگوں نے جواب دیا تھا ہماری تہذیبی اہم مشکل ڈش انٹینا، فاسد میڈیا اور مغربی مفاسد ہیں، اکثر لوگوں نے جواب دیا تھا کہ بدحجابی اور بے حجابی ثقافتی اہم مشکل ہے اور بعض نے کہا تھا کہ سب اہم مشکل یہ ہے کہ جوان بہت زیادہ عمر ہونے کے بعد شادی کرتے ہیں۔
یہ سب باتیں صحیح ہیں لیکن ان سب سے اہم یہ ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات سے بہت دور ہوگئے ہیں، اگر معاشرہ میں اسلامی تعلیمات حاکم ہوجائیں تو تہذیبی اور ثقافتی مشکلات دور ہوجائیں گی (٣٩)۔


٢ ۔  حجاب اور عفاف کو جاری کرنے میں حکومت اور دوسرے اداروں کا کردار
اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سب اہم کردار حکومت اور دوسرے ادارہ جات کا ہے، حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے حکومت کی ذمہ داریوں کوشمار کرتے ہوئے فرمایا :
حجاب کے مسئلہ کو ان اداروں، ہسپتال اور مراکز سے مستقیم یا غیر مستقیم شروع کیا جاسکتا ہے جو حکومت کے زیر تحت ہیں ۔ یونیورسٹی، مدارس اور دوسرے دفاتر بھی حجاب کے مسئلہ پر پہلے سے زیادہ زور دے سکتے ہیں، دور درشن بھی مستقیم اور غیر مستقیم اس مسئلہ کی تبلیغ کرسکتا ہے (٤٠)۔
معظم لہ نے ایران میں بدحجابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : دور درشن مستقیم یا غیر مستقیم طور پر اس مسئلہ کی طرف توجہ دے کیونکہ بے حجابی اور بدحجابی بہت سی اجتماعی اور اخلاقی مفاسد کا سبب بن گئی ہے (٤١)۔
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حکومت، اقتصادی مسائل کو حل کرنے کے علاوہ ثقافتی مسائل کیلئے بھی اپنے پروگراموں کومرتب کرے، فرمایا : حکومت ثقافتی اور حجاب کے مسائل کو سب سے پہلے اپنے اداروں اور سرکاری نوکری کرنے والوں سے شروع کرے تاکہ یہ معاشرہ میں سرایت کرجائے ۔
انہوں نے تعلیمی اداروں میں حجاب سے متعلق بحثوں کو سراہتے ہوئے فرمایا:  حجاب کی بحث تعالیمی نصاب میں منطقی طور پر داخل ہو اور اس میں بے پردگی کے نقصانات کو بیان کیا جائے تاکہ سب جان لیں کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اوراس کو سادگی سے چھوڑا نہیں جاسکتا (٤٢)۔
لہذا سبھی لوگ اس بات کے منتظر ہیں کے اسلامی حکومت اس مسئلہ پر زیادہ سے زیادہ توجہ دے اور اس کو آسان نہ سمجھے،کیونکہ یہ مسئلہ بہت ہی اہم ہے جو خاندانوں اور اسلامی ملک کی امنیت سے مربوط ہے (٤٣)۔
اللہ کا شکر ہے کہ ایران کے لوگوں نے اس سلسلہ میں بہت ہمت سے کام لیا ہے، اب مسئولین اور مراکز بھی اس سلسلہ میں اپنا اہم قدم اٹھائیں اور لوگوں کی ہمت کو تکمیل کردیں (٤٤)۔


٣ ۔  حجاب اور عفاف کے سلسلہ میں بنیادی کمیشن تشکیل دینے کی ضرورت
اسی طرح معظم لہ نے حجاب اور عفاف کے مسئلہ میں بعض فردی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے اتحاد،عقل اور ایک کمیشن مقرر کرنے کے عنوان سے فرمایا : حکومت اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنے تحت اداروں اور مراکز سے اس مسئلہ کی اصلاح کا کام شروع کرے، دوسری طرف پارلیمنٹ بھی اخلاقی مفاسد سے جنگ کیلئے ایک پروگرام پیش کرے اور اس طرح فردی اور ذاتی افکار کو الگ کردیا جائے اور گرودہ در گروہ سب مل کر اس مشکل کو ختم کریں (٤٥)۔
لہذا معظم لہ کی نظر میں اداروں،مراکز، مدارس ، یونیورسٹی اور دوسرے مقامات پر حکومت کی طرف سے ایک حکم نامہ جائے تاکہ اس مسئلہ کو رواج دیا جاسکے اور بدحجابی کو ختم کیا جاسکے، امربالمعروف کرنے والوں کے احکام بھی اس سلسلہ میں راہ گشا ہوسکتے ہیں (٤٦)۔


٤ ۔  عفاف اور حجاب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پولیس کا کردار
مرجع عالیقدر اورقرآن کریم کے بزرگ مفسر نے شب و روز پولیس کی زحمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا : بدحجابی کو ختم کرنے میں پولیس کی زحمتوں کی قدردانی کی جائے،کیونکہ پولیس کے سپاہی پہلے عورتوں کو یاد دلائیں اور اگر ان کا یاد دلانا موثر واقع نہ ہو ، یا اس کا عکس العمل نامناسب ہو تو اس کے ساتھ سختی سے کام لیا جائے (٤٧)۔


٥ ۔  حجاب و عفاف اور علماء کی ذمہ داری
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اسلامی معاشرہ میں حجاب اورعفاف کو عملی جامہ پہنانے میں علماء کے کردار کو بہت ہی اہم اور راہ گشا قرار دیا اور فرمایا : تمام لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے متعلق مسئول ہیں ،لیکن علماء کی ذمہ داری دو گنی اور زیادہ ہے،ان کو منکرات کے مقابلہ میں قیام کرنا چاہئے کیونکہ اگر یہ عرف میں تبدیل ہوگیا اور بدحجابی مرسوم ہوگئی تو پھر کچھ نہیں کیا جاسکتا (٤٨)۔
لہذا حجاب ،عفاف اور دوسرے اعتقادی مسائل کو معاشرہ میں منتشر کرنا چاہئے کیونکہ اجتماعی اور ثقافتی مشکلات ،ا قتصادی، سیاسی اور امنیتی مشکلات کیلئے پیش خیمہ ہوسکتی ہیں (٤٩)۔
اس بناء پر خطبائے محترم اعتقادی بنیادوں کو قوی کرنے، اسلامی احکام و اخلاق سے آشنائی اور حجاب و عفاف کو تقویت پہنچانے کیلئے قرآن کریم اور اسلامی روایات سے استفاد ہ کریں اور لوگوں کودشمنان نظام کے سامنے ہوشیار اور متحد رہنے کی دعوت دیں (٥٠)۔
مراجع کرام، حوزہ علمیہ اور مدارس کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہئے، اگر ہماری خواہش یہ ہو کہ ہم پوری عمر حوزہ علمیہ قم میں رہیں، درس پڑھیں اورتعلیم کے نتیجہ کو اسلام،مکتب اہل بیت علیہم السلام اور معاشرہ کی ثقافتی اصلاح میں استعمال نہ کریں توپھر کیا فائدہ ہے، معاشرہ کو ہمارے علم سے استفادہ کرنا چاہئے (٥١)۔
 ٦ ۔  حجاب اور عفاف ،ثقافتی اقدامات کے محتاج ہیں ،اس میں زبردستی اور سلبی برخورد نہیں کرنا چاہئے
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے بے مثال نظریہ کے مطابق حجاف اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تہذیب و ثقافت کودوسری چیزوں کے اوپر مقدم کرنا ہوگا ، تہذیبی اور ثقافتی کاموں کو بدحجابی اور فساد سے مقابلہ کرنے کے لئے بہترین راستہ قرار دینا چاہئے، انہوں نے فرمایا : ہم تشدد اور قید و بند کے قائل نہیں ہیں، لہذا ثقافتی کام اور تدبیر کے ساتھ اس راہ میں قدم رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اگر تدبیر اور قاطعیت ہو ، تشدد نہ ہو تو سب کام صحیح طریقہ سے حل ہوجاتے ہیں (٥٢)۔
اسی طرح دوسرے حصہ میں فرمایا : ہم اپنی بات بہت ہی ادب واحترام، منطقی اور صاف و شفاف بیان کرتے ہیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ حجاب اور ڈش کے متعلق کوئی بات نہ کی جائیں ان سے کسی قسم کا کوئی خوف وہراس نہیں رکھتے (٥٣)۔
لہذا بدحجابی سے تشدد کے ذریعہ کام لینا صحیح نہیں ہے ۔اس سلسلہ میں ثقافتی کام اور نصیحت بہترین طریقہ شمار کیا جاتا ہے، الحمدللہ رہبر معظم حضرت آیة اللہ خامنہ ای اور مجلس شورای اسلامی کی ہمت اور دوسرے قوانین اس طرف متوجہ ہیں (٥٤)۔
اس بناء پر ہمیں ثقافتی مسائل جیسے عفاف اور حجاب سے غافل نہیں ہونا چاہے کیونکہ حجاب اسلام کا ایک نمونہ ہے (٥٥)۔
لہذا اس سوال کو بیان کرنے کی ضرورت ہے کہ عفاف اور حجاب کا مسئلہ بہت گہرائیوں میں باقی کیوں رہ گیا ہے؟ ،اس کے علل و اسباب کا تجزیہ اور تحلیل کرنے کی ضرورت ہے اوردیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیسے افکار و نظریات نے ان مسائل کو جاری نہیں ہونے دیا (٥٦)۔
معظم لہ نے غیر ثقافتی کاموں سے مقابلہ کرنے میں ثقافتی پروگراموں کے جاری ہونے کے متعلق فرمایا : حجاب ایک تہذیب و ثقافت ہے، لہذا حجاب کی تہذیب کو معاشرہ میں وسیع پیمانہ پر پھیلانا چاہئے، گزشتہ زمانہ میں مغرب حجاب کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتا تھا ، لیکن آج حجاب کو اسلام کی نشانی اور اسلام میں داخل ہونے کیلئے دروازہ کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے، یہاں تک کہ آزادی کی آغوش کا دروازہ یعنی فرانس ایک اسکارف کو بھی تحمل نہیں کرتا اور اس سے ڈرتا ہے (٥٧)۔
معظم لہ نے حجاب کے مسئلہ کو سیاسی اور امنیتی کرنے سے متعلق خطرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :  اگر خدا نخواستہ ایک دن ایساآگیا کہ وہ ایران میں حجاب پر پابندی لگانے میں کامیاب ہوگئے تو میرے عقیدہ کے مطابق پچاس فیصد نظام خطرہ میں پڑ جائے گا، لہذا ہمیں زیادہ سے زیادہ حجاب کے اوپر سرمایہ گزاری کرنے کی ضرورت ہے (٥٨)۔


٧ ۔  حجاب امنیت کا ضامن ہے
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں اسلامی حجاب کی رعایت معاشرہ میں امنیت کی ضامن ہے (٥٩)۔
٨۔  رعایت حجاب ، شیعیت کی عملی تبلیغ ہے
معظم لہ کی نظر میں حج کے ایام میں عورتوں کا حجاب اور اخلاقی مسائل کی رعایت کرنا تشیع کی تبلیغ کو فروغ دینا ہے،انہوں نے فرمایا : حج کے ایام میں جب حجاب کی بہت زیادہ رعایت کی جاتی تھی تو اُن کے خطباء اپنے لوگوں سے کہتے تھے کہ حجاب اور پردہ ایرانیوں سے حاصل کرو ، لیکن اب اس کے برعکس ہوگیا ہے اور وہ کہتے ہیں ایسا نہ ہو کہ ایرانی حجاب تم پر اثرانداز ہوجائے لہذا علماء اور قافلہ سالار حضرات، عورتوں کو نرم لہجہ میں حجاب اور عفاف کی رعایت کرنے پر مجبور کریں(٦٠)۔

آخری بات
نظام و قانون کے دشمن خیال کرتے ہیں کہ بے حجابی کو رواج دے کر نظام اور قانون کو زبردست نقصان پہنچا سکتے ہیں لیکن ہماراعقیدہ ہے کہ اگر بے حجابی کو برطرف کردیں تو نظام اور قانون کی حفاظت اور تقویت میں بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں (٦١)۔
عورت کی شخصیت کی حفاظت، جوانوں کو انحراف سے بچانے اور اسلامی معاشرہ میں فساد کو پھیلنے سے روکنے کیلئے حجاب بہت ضروری ہے اور جس طرح عورتوں اور مردوں کیلئے اصل لباس پہننا آزادی کے ساتھ سازگار ہے اسی طرح حجاب بھی آزادی کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے (٦٢)۔
خداوندعالم نے قرآن کریم میں حجاب و عفاف کی رعایت کو قلب کی طہارت اور شیطانی وسوسوں سے دوری کا سبب قرار دیا ہے (٦٣)۔

 

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
www.makarem.ir
حوالہ جات:
حوالہ جات :
١۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان ، 5/3/1390.
٢ ۔  امام رضا (ع) کے حرم کے بزرگ صحن میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان ،۲۴/4/ ۱۳۸۹.
٣ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان ،20/2/1394.
٤۔  گزشتہ حوالہ ۔
٥ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٦ ۔  احكام بانوان ؛ ص181.
٧ ۔ احكام بانوان ؛ ص185.
٨ ۔  وزیر تعاون سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان 30/8/1392.
٩ ۔  موسسہ فرہنگی حجاب ریحانة النبی کے ذمہ داران سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان،23/4/1392.
١٠ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
١١ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
١٢ ۔  فرانس میں حجاب کے مسئلہ پر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان، بهمن 1393.
١٣ ۔  انتخاب تفسیر نمونہ ، جلد ٣، صفحہ ٣١٣ ۔
١٤ ۔  بیانات آیت الله العظمی مکارم شیرازی، دیدار وزیر علوم، تحقیقات و فن‌آوری،15/12/1392.
١٥ ۔  كتاب النكاح ؛ ج‏1 ؛ ص53.
15 . كتاب النكاح ؛ ج‏1 ؛ ص53.
16 . مفردات راغب، صفحه 339، چاپ دفتر نشر كتاب.
17 . اخلاق اسلامى در نهج البلاغه (خطبه متقين) ؛ ج‏1 ؛ ص339.
18 . اخلاق اسلامى در نهج البلاغه (خطبه متقين)، ج‏1، ص: 340.
19 . گفتار معصومين(ع) ؛ ج‏1 ؛ ص138.
20 . لسان العرب" ماده" حجب".
21 . تفسير نمونه ؛ ج‏17 ؛ ص401.
22 . تفسير نمونه، ج‏17، ص: 402.
23 . احكام بانوان ؛ ص181.
24 . رسالة توضيح المسائل (فارسى) ؛ ص397.
٢٥ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان 30/2/1393.
٢٦ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان ،31/2/1393.
٢٧۔  امام رضا (ع) کے حرم کے بزرگ صحن میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان 2/6/1392.
٢٨۔  امام رضا (ع) کے حرم کے بزرگ صحن میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان ، ۲۴/4/ ۱۳۸۹.
٢٩ ۔  امام رضا (ع) کے حرم کے بزرگ صحن میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان ،۲۴/4/ ۱۳۸۹.
٣٠ ۔ موسسہ فرہنگی حجاب ریحانة النبی کے ذمہ داران سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان،23/4/1392.
٣١۔  گزشتہ حوالہ ۔
٣٢ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان ،5/3/1390.
٣٣ ۔ اخلاق در قرآن ؛ ج‏2 ؛ ص319.
٣٤ ۔  اخلاق در قرآن، ج‏2، ص: 320.
٣٥ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان 3/4/90.
٣٦ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان 3/4/90.
٣٧۔  امام رضا (ع) کے حرم کے بزرگ صحن میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان ، ۲۴/4/ ۱۳۸۹.
٣٨ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان ، 5/3/1390.
٣٩۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان ،3/2/1393.
٤٠ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان،5/10/1392.
٤١ ۔ بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی در دیدار معاونین رسانه ملی،5/4/1390.
٤٢ ۔  امام رضا (ع) کے حرم کے بزرگ صحن میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان 2/6/1392.
٤٣ ۔  حضرت معصومہ قم (سلام اللہ علیہا ) کے امام خمینی حال میں نماز عید سعید کے خطبوں کے دروان حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ۔
٤٤ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان19/6/1389.۔
٤٥ ۔ آیت الله العظمی مکارم شیرازی در دیدار اعضای فراکسیون رهروان ولایت مجلس شورای اسلامی23/7/1391.
٤٦ ۔ بیانات آیت الله العظمی مکارم شیرازی در دیدار اعضای فراکسیون روحانیون مجلس شورای اسلامی6/7/1391.
٤٧ ۔  حرم امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کے درمیان حضرت آیةا للہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ،24/4/1391.
٤٨ ۔ بیانات آیت الله العظمی مکارم شیرازی در دیدار اعضای فراکسیون روحانیون مجلس شورای اسلامی6/7/1391.
٤٩ ۔  وزیر تعاون سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان 30/8/1392.
٥٠ ۔  ماہ محرم کے استقبال میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان 12/8/1392.
٥١ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان 3/2/1393.
٥٢ ۔  شورای اسلامی شہر تہران کے صدر سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان،13/12/1385.
٥٣ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان ،21/3/1393.
٥٤ ۔  امام رضا (ع) کے حرم کے بزرگ صحن میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان ، ۲۴/4/ ۱۳۸۹.
٥٥۔  بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی، در دیدار برخی از اعضای مجمع روحانیون مجلس شورای اسلامی،24/3/1389.
٥٦ ۔  بیانات حضرت آیة الله العظمی مکارم شیرازی در دیدار رئیس و اعضای مجمع روحانیون مجلس شورای اسلامی24/3/1389.
٥٧ ۔  پارلیمنٹ میں شیراز کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ،13/12/1385.
٥٨ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٥٩ ۔  حرم امام رضا علیہ السلام کے زائرین اور مجاورین کے درمیان حضرت آیةا للہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ۔
٦٠ ۔  سازمان حج وزیارت کے صدر سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ۔
٦١ ۔  موسسہ فرہنگی حجاب ریحانة النبی کے ذمہ داران سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ،23/4/1392.
٦٢ ۔  احكام بانوان ؛ ص187.
٦٣ ۔  امام رضا (ع) کے حرم کے بزرگ صحن میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان 2/6/1392.
 
تاریخ انتشار: « 2/28/2016 1:40:15 PM »

منسلک صفحات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نظریہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کی خصوصیات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں علمائے اسلام کے اتحاد کی خصوصیات

معظم لہ کے نقطہ نظر سے استکبارستیزی کی گفتگو میں اسٹریٹجک عوامل

دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کیلئے معظم لہ کی حکمت عملی

معظم لہ کی نظر میں سعودی جرائم سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی حکمت عملی اور پالیسیاں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 428