: معظم لہ کے نقطہ نظر سے استکبارستیزی کی گفتگو میں اسٹریٹجک عوامل
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

: معظم لہ کے نقطہ نظر سے استکبارستیزی کی گفتگو میں اسٹریٹجک عوامل

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: اس اہم اور اسٹریٹجک مسئلہ پر تاکید کرنا ضروری ہے کہ ہم کبھی بھی استکبار کے دبائو میں نہیں آئے ہیں اور نہ کبھی آئیں گے / انقلاب کی برکت سے اسلامی جمہوریہ ایران سب کے لئے نمونہ عمل بن گیا ہے اور مختلف ممالک جیسے لبنان ، عراق، شام ، یمن اور دوسرے ممالک ، عالمی استکبار اور امریکہ کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں اور اسرائیل و امریکہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
کلمات کلیدی: استکبار ستیزی، عالمی استکبار، مظلوم ، جنگ طلبی، تجاوز گری، تسلط، وابستگی ، مظلوم

ایرانی سال کے پانچویں مہینہ آبان کی ١٣ تاریخ ''عالمی استکبار سے مقابلہ'' کے عنوان سے یاد کی جاتی ہے،یہ دن امریکی استکبار کے خلاف ،انقلابی جوانوں کے جوش وخروش کی یاد دلاتا ہے،کیونکہ صنعتی ممالک کا سب سے بڑا سفارت خانہ جس نے حقوق بشر سے دفاع کی آوازوں کو آسمان تک پہنچا رکھا ہے، استعمار کیلئے جاسوسی کا سب سے خطرناک گھر بن گیا تھا (١) اوراس کے مودب ڈپلومیٹ اور اعضاء CIAکے جاسوس بن گئے تھے (٢)۔
لہذا چونکہ قرآن مجید ''استکبار '' کو انسان کی بدترین صفت اور بدترین خصلت بیان کی ہے جو تمام گناہوں کا سرچشمہ ہے بلکہ ''استکبار'' کفر،بہت سے ظلم وستم اور حق کشی کا سرچشمہ شمار ہوتا ہے (٣)۔ آج بھی تمام انسانی معاشروں میں مفاسد پھیلانے اور اجتماعی مشکلات ایجاد کرنے میں استکبارسب سے آگے ہے اورہمارے زمانہ میں بشریت کی سب سے بڑی مصیبت یہی استکبار ہے جس کی وجہ سے سب آگ میں جل رہے ہیں ،لیکن کسی کو بھی اسے ختم کرنے کی فکر نہیں ہے (٤)۔ لہذا اس تفسیر کے ساتھ استکبار ی طاقتوں سے جنگ کرنے کی ضرورت کو بیان کرنا بہت ہی ضروری ہے، اسی وجہ سے اس مقالہ میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کے ارزش مند نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے استکبار ستیزی کی گفتگو میں قارئین کیلئے اسٹراٹیجک خصوصیات بیان کی گئی ہیں ۔

مفہوم استکبار میں غور وفکر
لفظ ''استکبار'' کے مفہوم کوبیان کرنے میں دو معنی کا قائل ہونا ضروری ہے، پہلے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنے آپ کو بزرگ کرنے کی سعی و کوشش کرے یعنی ہر لحاظ سے بزرگ ہونے کے شرائط آمادہ کرے،یہ استکبار صحیح اور ممدوح ہے ۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ اپنے آپ بزرگ کی مہر لگا لیں چاہے اس قابل نہ ہوں ،یہ معنی غلط اور مذموم ہیں اور قرآن مجید میں اس کی مذمت بیان ہوئی ہے، جیسا کہ شیطان کے بارے میں پڑھتے ہیں : ''ابی و استکبر'' ۔ اس نے حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے تکبر کیا (٥) ، (٦)۔ لہذا ''مستکبر'' کا لفظ ان تمام لوگوں پر اطلاق ہوتا ہے جو اپنے آپ کو بزرگ سمجھتے ہیں، لیکن منفی ابعاد میں ان لوگوں پر اطلاق ہوتا ہے جنہوں نے انبیاء کی دعوت کے سامنے استکبار سے کام لیا اور ان کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا (٧)۔


استکبار ستیزی کی گفتگو کو بیان کرنے کی ضرورت
یقینا استکبار کی بری عادت کے بہت سے مخرب آثار ، انسانوں کی روح و جان اور اعتقادات میں اس طرح پائے جاتے ہیںکہ انسان کی فردی یا اجتماعی زندگی کا کوئی حصہ ان کے مصائب سے امان میں نہیں ہے (٨) کیونکہ ان کے کاموں کے نتائج جیسے شرک و کفر، بہت سے گناہوں کو آسان بتانا، لوگوں کے درمیان نفرت اور تفرقہ ایجاد کرنا، بہت سی جنگوں کورواج دینا ، خونریزی، ویرانی، ظلم وستم ، بہت زیادہ ہیں، لہذا خود خواہ ایک گروہ دنیا کے لوگوں کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں تھام لیتے ہیں اور اس گروہ میں سے ہر شخص ایک دوسرے برتری حاصل کرنا چاہتا ہے اور اسی وجہ سے ان کے درمیان اختلاف ہوجاتا ہے، اس راہ میں بے گناہ لوگوں کا خون بہہ جاتا ہے اور بہت سے گھر ویران ہوجاتے ہیں (٩)۔
اسی طرح استکبار ستیزی کو رواج دینے کی ضرورت کے باب میں کہنا چاہئے کہ تکبر اور استکبارکا مسئلہ ایسا ہے جو خلقت کے آغاز میں شیطان کے عصیان کا سبب بنا اور دنیا میں فساد کا بدترین مرکز بن گیا(١٠)۔ لہذا اسلامی کتابوں میں ذکر ہوا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلا گناہ جو انجام پایا وہ ابلیس کاگناہ تھااور وہ بھی استکبار کی وجہ سے وجود میں آیا تھا اور اس کا نتیجہ کفر اورخداوندعالم سے جنگ قرار پائی (١١)۔ لہذا شیطان تکبر اورخدا کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے کافروں کے زمرہ میں قرار پایا اور اس کے بعد دوسرے مستکبرین وجود میں آگئے (١٢)۔ لیکن عدالت کا جاری کرنا اور ظلم سے جنگ کرنا صرف اسلام میں منحصر نہیں ہے (١٣) اور استکبار کے نتائج انسانی معاشرہ کے نظام کو درہم وبرہم کر رہے ہیں اور انسانوں کے آپس کے روابط کو تار ومار کررہے ہیں اور بہت سی جنگوں کا سرچشمہ بہت سی قوم و ملتوں کی برتربینی ہے ۔ جنگ جہانی اول اور دوم (١٤) اقوام متحدہ میںزوردار ممالک کو(وٹو کا) حق حاصل ہے یہ سب استکبار کی وجہ سے ہے جنہوں نے دنیا کے نظام کو درہم وبرہم کررکھا ہے (١٥) لہذا عقلائی اور روایی گفتگو کے لحاظ سے '' وَالْاسْتِسْلامُ وَضِدُّهُ الْاسْتِكْبارُ '' حق کے سامنے تسلیم ہونے اور استکبار سے جنگ کرنے میں (١٦) سب متحد ہوجائیں اور بہت ہی ہوشیاری کے ساتھ عالمی استکبار اور دشمنوں کے گندے اور خراب فتنوں کو ختم کردیں (١٧)۔

 استکبار ستیزی کا لازمہ دشمن کی شناخت ہے
بدیہی ہے کہ عالمی استکبار سے مقابلہ کرنے کیلئے سب سے پہلے ان کے کردار کو پہچاننے کی ضرورت ہے اور جب تک عالمی استکبار کی حقیقت کودرک نہیں کریں گے اس وقت تک ان سے جنگ کرنے کا صحیح راستہ نہیں مل سکتا (١٨)۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اپنے دوست اور دشمن کو نہیں پہچانتے،لہذا بہت سے منحرف مسلمان ، امریکہ اوراسرائیل کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتے ہیں تاکہ حزب اللہ لبنان کو جو کہ مقاومت اور مردانگی کا سمبل ہے، تاراج کردیں (١٩)۔ اسی طرح عراق کی طرف سے ایران پر تھونپی گئی جنگ میں تمام اسلامی ممالک عراق کی مدد کرنے کیلئے متحد ہوگئے تاکہ ایران کو نیست و نابود کردیں ۔ لیکن کیا واقعا ایران، اسلامی ممالک کا دشمن ہے؟ ایران نے آج تک کسی ملک کی ایک بالشت جگہ پر قبضہ نہیں ہے اور کسی کوناحق قتل نہیں کیا ہے (٢٠)۔ اس وقت بھی استکبار کا اصلی ہدف شام ہے، استکبار نے اپنی پوری طاقت کو وہاں پر متمرکز کر رکھی ہے اور ان کواسلحہ بھیجتے ہیں اور ان پر حملہ کرتے ہیں ۔ اب یہاں پر اصلی سوال یہ ہے کہ کیا ٹرکی کو استکبار کا دوست ہونا چاہئے اور شام کا مقابلہ کرنا چاہئے؟ ! ہمیں ٹرکی سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ استکبار کی موافقت کرے گا اور اپنے آپ کو ان کے سامنے اس طرح تسلیم کردے گا (٢١)۔ جی ہاں اگر ہم مسلمان اپنے دوست اور دشمن کو پہچان لیتے توہماری یہ افسوسناک حالت نہ ہوتی (٢٢)۔


استکبار ستیزی میں بنیادی حکمت عملی مستند اسلام ہے
اس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ ہمارے رہبر حضرت علی بن ابی طالب (علیہ السلام) وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اسلام اورتوحید سے دفاع اور ظلم وستم سے جنگ کے سلسلہ میں فرمایا ہے : '' لَقَدْ نَهَضْتُ فيها وَ مابَلَغتُ العِشرين وها انَا ذا قَدْ ذَرَّفْتُ على السِّتِّينَ '' ۔ میں تو ابھی بیس برس کا بھی نہ تھا کہ حرب وضرب کے لئے اٹھ کھڑا ہوا اور اب تو ساٹھ سے اوپر کا ہوگیا ہوں ۔
(٢٣) ، (٢٤)۔
لہذا اسلام اور مسلمانوں کی مظلومیت پر اشک بہانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ قیام کرنے کی ضرورت ہے (٢٥)۔ استکباری طاقتوں کی نظر میں ان کو سب سے زیادہ خطرہ بنیادی اسلام سے ہے،ایسا اسلام جونہ مشرقی ہے اور نہ مغربی ہے،ایسا اسلام جس کی خارجی سیاست کی بنیاد مشرقی اور مغربی طاقتوں کے اوپر نہیں ہے (٢٦)۔


استکبار ستیزی میں بنیادی اصل اثر و رسوخ سے مقابلہ ہے
اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ بعض ممالک جیسے امریکہ اور یوروپ پوری دنیا میں اثر ورسوخ کو پھیلانا چاہتے ہیں، لہذا استعماری سیاستوں اور '' خصوصی منافع کی حفاظت'' کو بنیاد بناتے ہوئے استعمار ہمیشہ اپنا چہرہ بدلتا رہتا ہے، لیکن سب سے اہم نکتہ جس سے غفلت کرنا پشیمانی کاسبب ہوجاتا ہے، وہ روزانہ استعمار کا زیادہ سے زیادہ چہرہ بدلنا ہے، وہ کبھی نو آوری اور روشن فکری کے لباس میں آتا ہے ! کبھی ثقافت اور علم کے لباس میں، کبھی دین ومذہب ، کبھی آزادی اور کبھی حقوق بشر کے لباس میں دکھائی دیتا ہے ! کبھی اقتصادی حوالہ سے مفت میں مدد کرنے اور کبھی طبی اور امداد کے لباس میں، کبھی ہسپتال ، لائبریری بنوانے اور کبھی استاد اور شاگرد کے مبدل لباس میں اور کبھی انٹرنیشنل نمایش گاہ کے عنوان سے ہمارے سامنے آتا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ ہروقت ایک بت کی شکل میں موجود رہتا ہے اور لوگوں کا دل لبھا کر چھپ جاتا ہے ... ''ہر وقت دوسروں کے لباس میں استعمار آتا ہے '' ... '' اور پوری دنیا کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے'' ! .. (٢٧)۔جبکہ یہ اہم نہیں ہے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ ہم اس کو اس کی تمام خصوصیات کے ساتھ ہر لباس اور ہر چہرہ میںپہچان لیں اور اس کو وہیں سے واپس کردیں (٢٨)۔
مثال کے طور پر ایران سے مذاکرات میں امریکہ نے یہ لالچ کیا کہ ایران میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرلے اور اپنے پلید ارادوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو تبدیل کردے ۔ لہذا دشمنوں نے اس بات کی توقع کرلی کہ ایران پر پابندیاں ہٹانے کے بہانے سے ایران میں داخل ہوجائیں گے اور اس کی اخلاقی بنیادوں کوکھوکلی کردیں گے، اگر چہ یہ بھی نہیں معلوم کہ اس معاہدہ پر پابند بھی رہیں گے یا نہیں ۔ لہذا ایران میں نفوذ کرنے کیلئے امریکہ کے فتنوں سے مقابلہ اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے (٢٩)۔


استکبار سے جنگ میں اتحاد اور نظم کو قوی کرنے کی ضرورت
پہلے مرحلہ میں ا ور امریکہ کی تفرقہ اندازی کی سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل امور کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے :
١ ۔  اختلاف ایجاد کرنا جو اس وقت ایک ''شعار'' (نعرہ) کی صورت میں تبدیل ہوگیا ہے '' اختلاف ڈالو اورحکومت کرو '' ۔
٢ ۔  انتہا پسند قومی پرستی کا دامن پکڑنا۔  ہر قوم ومذہب سے کہتے ہیں تم اپنی آپ حفاظت کرو، تم اپنی تاریخ خود بنائو ، ایرانی سے کہتے ہیں تمہیں افغانیوں اور لبنانیوںسے کیا لینا، ان کو بھی یہی کہتے ہیں اوراسی طرح کی باتیں سب کے کانوں میں بیان کرتے ہیں (٣٠)۔ تاکہ مسلمانوں اور ان کے ١٤٠٠ سال قدیمی تہذیب میں شگاف ڈال سکیں (٣١)۔
افسوس کہ آج اسلام میں اختلاف ہی اختلاف نظر آرہا ہے اور مسلمان استکبار کے فتنوں سے آپس میںلڑ رہے ہیں (٣٢) لہذا عالمی استکبار سب سے پہلا کام جو انجام دیتا ہے وہ ملکوں اور قوموں میں اختلاف ڈالتا اور دوسرے مرحلہ میں اپنے پلید اہداف اور منصوبوں کو عملی جامہ پہنا تا ہے،پوری تاریخ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوجائے گا استکباری عوامل نے ہمیشہ اپنی شیطانی سیاست سے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ایجاد کیا ہے اور آج ان کا منشاء یہ ہے کہ اسلامی ممالک کواقتصادی، ثقافتی اور سیاسی سے لحاظ سے کمزور کرکے ان کے اوپر مسلط ہوجائیں۔ لہذاہمیں اپنے دشمن کے سامنے متحد ہونے کی ضرورت ہے (٣٣)۔


استکبار ستیزی کی گفتگو میں دوسروں سے وابستگی اور تسلط کی نفی،بہترین حکمت عملی ہے
یقینا استعمار کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ روز بروز ''وابستگی'' کو تقویت اور وسعت دے رہا ہے، چاہے وہ صنعت اورکھیتی کے لحاظ سے ہو . چاہے سیاست، علم اور دوسرے کام ہوں ۔ جہاں بھی وابستہ سیاست، وابستہ صنعت، وابستہ ثقافت، وابستہ فوج اور خلاصہ یہ ہے کہ زندگی کے طریقہ وابستہ ہوں گے (٣٤) وہیں استعمار کا بزرگ شیطان موجود ہوگا ، چاہے وہ ظاہری طور پر ہو اور چاہے پوشیدہ طور پر ۔ اور جہاں بھی وابستگی کو دور کردیا جائے گا وہاں پر شیطان کو چھوڑنے کی باتیںہوں گی (٣٥)۔
اب ان تمام اوصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ عالمی استکبار پہلے اپنی ٹکنولوژی بھیجتا ہے اور پھر اس کو چلانے والے افراد بھیجتا ہے اور اس کے بعد ثقافت اور سیاست گزاری کا سیسٹم روانہ کردیتا ہے اور اس طرح معاشروں کی اقتصادی اور ثقافتی حالت ضعیف ہوجاتی ہے کہ اگر سیاسی لحاظ سے ان کی مخالفت کریں گے تووہ اس ملک کی صنعت کا گلا گھونٹ دیں گے اور اس ملک کی دوسری ضروری اشیاء کو اس ملک میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور پھر اس ملک کا بائیکاٹ کردیں گے (٣٦)۔
اس بناء پر استکبار شروع میں استعمار کے نام پر ملتوں اور قوموں سے خیانت کرتا تھا اور اس کے بعد اقتصادی وابستگی کو پیش کرکے ثقافتی حملہ کرنے لگا تاکہ اسلام سے جنگ کرسکے (٣٧)۔ لہذا اب بھی اسلام کے بہت سے دشمنوں نے مسلمانوں پر جنگ کو مسلط کررکھی ہے اور اسلامی ممالک میں داخل ہو کر اُن کے اموال پر اپناقبضہ جما رکھا ہے (٣٨)۔ لیکن ہر مثبت کارکردگی، تسلط پیدا کرنے والے عوامل کے ہاتھوں سے نجات اور استقلال و آزادی حاصل کرنے کا راستہ ہے (٣٩) کیونک دین ''مستضعفین'' کو نجات دلانے، ظالموں اور ستمگروں کے چنگل سے آزاد کرانے اور تسلط کے زمانہ کو ختم کرنے کیلئے ہے (٤٠)۔
مثال کے طور پر ہمارے لئے اور دنیا کی ان تمام آزاد قوموں کے لئے جو مستقل اور آزاد زندگی بسر کرنا چاہتی ہیں اور کسی بھی طاقتور قدرت کے تسلط میں نہیں رہنا چاہتی ہیں،ان سب کے لئے بہترین اقتصادی راستہ وہی ہے جو مشرق اور مغرب سے وابستہ نہیں ہے،ایسا راستہ جو ہمییں ہر طرح کی وابستگی کو ترک کرنے کی دعوت دیتا ہے،ایسا راستہ جو ہمیں تمام ابعاد میں خودکفائی کی طرف لے جاتا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ ایسا راستہ جو ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنے ساتھ رہیں ،دوسروں کے ساتھ نہیں (٤١)۔
ہم اس راستہ تک پہنچنے کیلئے بہترین راستہ اسلامی اقتصاد میں جانتے ہیں ،ایسا اقتصاد جس کے اندر استعمارکے خلاف تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں اور مشرق و مغرب کے استعماری اقتصاد سے بہت دور ہے (٤٢)۔


استکبار ستیزی،جنگ طلبی اور تجاوز گری کی کامل نفی ہے
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی استکباری فکر اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اپنے منافع کی حفاظت کے لئے بے دفاع لوگوں کو بھی ہدف قرار دے اور انسانیت کے خلاف اپنی عادت کو زیادہ سے زیادہ نمایاںکرے (٤٣)۔ لہذاانہوں نے حقوق بشر ، ڈموکراسی اور آزادی کے عنوان سے تجاوز اور جنگ طلبی کے پروگرام مرتب کئے ہیں ،مادی دنیا کی آگ بھڑکانے والے آج حقوق بشر کا بہانہ بناتے ہیں اور اپنے وسیع پروپگنڈہ کے ذریعہ لوگوں کے ذہنوں کو اس ملک سے جنگ کرنے پرآمادہ کرتے ہیں (٤٤)
پھر ان جھوٹے نعروں کے سایہ میں اس ملک پر حملہ کرتے ہیں اور اس پر قابض ہوجاتے ہیں(٤٥)۔ جنگ کی آگ بھڑکانے والوں کا دوسرا بہانہ لوگوں کی حکومت دوسرے لوگوں پر ہے ۔ مثال کے طور پر وہ عراق پر حملہ کرتے ہیں تاکہ صدام کی ڈکٹیٹری حکومت کو ختم کردیں اور ڈموکراسی ایجاد کریں، لیکن یہ ظاہری بات ہے لیکن ان کا حقیقی ہدف عراق کے تیل کے کنویں ہیں (٤٦)۔
جنگ کے آگ روشن کرنے والوں کا دوسرا جھوٹا بہانہ آزادی ہے، یہ لوگ کسی ملک پر قبضہ کرنے کیلئے آزادی کے نعرے لگاتے ہیں اور آزادی کے نام پر وہاں کے لوگوں اور حکومت کو اپنی ہوا و ہوس کا نشانہ بنالیتے ہیں (٤٧)۔
استکبار اور اسلام کے دشمنوں کی فتنہ انگیزی کی مثالیں افغانستان، عراق، پاکستان اور شام میں نظر آتی ہیں کہ مستکبرین جس ملک میں بھی داخل ہوتے ہیں اس ملک کو ویرانہ میں تبدیل کردیتے ہیں، جی ہاں استکباری ممالک ، شام کی قسمت کو اس کے لوگوں پر کیوں نہیں چھوڑدیتے؟ شام کے لوگ اپنے ملک کی قسمت کو اپنے ہاتھوں سے تعمیر کریں اوراپنی مشکلات کو خود برطرف کریں (٤٨)۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تمام بدبختی، استعمار گری، دوسروں کے حقوق کو پائمال کرنا ، معاشرہ کے ضعیف طبقہ کا حق غصب کرنا ، امریکہ جیسے تجاوز گر ممالک کی وجہ سے ہیں جو یقینا شیطان بزرگ ہے اور جس نے دنیا میں آگ لگا رکھی ہے اور یہ اپنے ناجائز اہداف تک پہنچنے کیلئے ہر جرم کا ارتکاب کرتا ہے (٤٩)۔
استکبار ستیزی میں تکلیف گرائی ایک اہم موضوع ہے
یہ بات بھی بالکل عیاں ہے کہ آج مادی دنیا میں روحی آرام و سکون کم ہوگیا ہے بلکہ روحی اور نفسیاتی بیماریاں بڑھتی جارہی ہیں اور اگر حالات ایسے ہی آگے بڑھتے رہے تو ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ یہ دنیا نفسیاتی ہسپتال میں تبدیل ہوجائے گا (٥٠)۔
لیکن خداوندعالم پر ایمان رکھنے سے تمام مشکلات حل ہوجاتی ہیں اور انسانوں کے قلوب خدا کو یاد کرنے سے مطمئن ہوجاتے ہیں، اس بناء پر اگر ہم حق کے راستہ پر گامزن ہوں اور خدا کی راہ میں جہاد اور جنگ کریں تو وہی نصرت اور مدد ہمارے لئے بہتر ہوگی ۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ وہ امریکہ جس کی فوجی قدرت بہت زیادہ ہے، ایران سے ڈرتا ہے؟کیا اسرائیل اپنے ترقی یافتہ اسلحہ کے باوجود ایران سے نہیں ڈرتا؟ کیا یہ خوف و وحشت اللہ کی نصرت کے علاوہ کچھ اور ہے، جو خداوندعالم نے ان کے دلوں میں ڈال رکھی ہے ۔ حزب اللہ لبنان کی اسرائیل سے ٣٣ روزہ جنگ میں اللہ کی امداد بالکل مشہود اور عیاں تھی (٥١)۔
ایرانیوں نے بھی اسلامی انقلاب اور ایران و عراق کی آٹھ سالہ جنگ میں ایمان کے آثار کو اپنے تمام وجود کے ساتھ لمس کیا ہے جو چیز ایرانیوں کو عالمی استکبار کے سامنے کامیاب و کامران کر رہی ہے وہ یہاں کے غیور جوانوں کا ایمان ہے، لہذا ہم ہمیشہ تاکید کرتے ہیں : جوانوں کے ایمان کو تقویت پہنچانا چاہئے تاکہ انقلاب محفوظ رہے (٥٢)۔


کافرین حربی سے مقابلہ میں استکبار ستیزی بہترین راستہ
ظالم طاقتوں سے مقابلہ کرنے کیلئے استکبار ستیزی کی گفتگو میں عقلی اور منطقی پشت پناہی کو ثابت کرتے ہوئے کہنا چاہئے کہ استکباری ممالک جیسے امریکہ اور اس کے ساتھ متحد ممالک اور اسرائیل جو مسلمانوں سے جنگ کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف کام انجام دینے میں کسی بھی طرح کی مخالفت میں کوتاہی نہیں کرتے، یہ سب کافر حربی ہیں، ان کے ساتھ ہمارا کوئی معاہدہ نہیں ہے (٥٣) بلکہ وہ کافرین جو مسلمانوں کے ساتھ جنگ کررہے ہیں (٥٤) ان سے جنگ کرنے کی ضرورت ہے ۔


استکبار ستیزی کی ذاتی خصوصیت مظلوم کی حمایت ہے
استکبار ستیزی کی گفتگو میں اس خصوصیت کو بیان کرنے کیلئے قرآن مجید کے سورہ نساء کی ٧٥ ویں آیت سے تمسک کرتے ہیں جو ہمارے دعوی پر بہت ہی محکم سند ہے، اس آیت میں بیان ہوا ہے : ''وَمَا لَكُمْ لَاتُقَاتِلُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنْكَ وَلِيّاً(٥٥) وَاجْعَل لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيراً''
اور آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں (کی رہائی ) کے لئے جہاد نہیں کرتے ہو جنہیں (ظالموں کے ذریعہ) کمزور بناکر رکھا گیا ہے اور جو (مظلومین) برابر دعا کرتے ہیں کہ خدایا! ہمیں اس قریہ (مکہ) سے نجات دے دے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے کوئی سرپرست اور اپنی طرف سے مددگار قرار دے دے (٥٦)۔
مذکورہ آیت کی روشنی میں اگر ایرانی قوم ،فلسطین،لبنان، شام، افغانستان،عراق اور یمن کی مظلوم قوموں کی حمایت کرتی ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، کیونکہ یہ اس آیت کے مضمون پر عمل کر رہے ہیں اور ہر مظلوم کی آواز پر لبیک کہنا ضروری ہے چاہے وہ جس جگہ بھی ہو امریکہ سے لے کر افریقہ تک اور یوروپ سے لے کر ایشیا اور آسٹریلیا تک۔ اور جہاں تک ممکن ہو ان کی مدد کے لئے جانا چاہئے اور انہیں ظالموں کے چنگل سے نجات دلانا چاہئے تاکہ ظالم میں دوبارہ ظلم کرنے کی جرائت نہ رہے ۔ بعض اسلامی حکومت پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ قرآن کریم کی آیات کے برخلاف عمل کرتے ہیں اور ظلم و ستم کے نیچے دبے ہوئے فلسطین کے مسلمانوں کی حمایت نہیں کرتے، ان کو ظالم و جابر اسرائیل کے چنگل سے نجات نہیں دلاتے بلکہ ان کے دشمنوں کے ساتھ رابطہ برقرار کرتے ہیں اور فلسطین جیسی اسلامی حکومت کو نیست و نابود کرنے کیلئے ظالم یہودیوں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیتے ہیں (٥٧)۔


آخری بات
آخیر میں اس اہم اور اسٹریٹجک مسئلہ پر تاکید کرنا ضروری ہے کہ ہم کبھی بھی استکبار کے دبائو میں نہیں آئے ہیں اور نہ کبھی آئیں گے(٥٨)  لہذا ایران کے خلاف امریکہ کی دھمکیاں ان کی بربریت اور ظلم وستم کی نشانی ہے (٥٩)۔
کیونکہ انقلاب کی برکت سے اسلامی جمہوریہ ایران سب کے لئے نمونہ عمل بن گیا ہے اور مختلف ممالک جیسے لبنان ، عراق، شام ، یمن اور دوسرے ممالک ، عالمی استکبار اور امریکہ کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں اور اسرائیل و امریکہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں(٦٠)۔
اس بناء پر امریکہ اور عالمی استکبار کے فتنوں کے خلاف مظاہرہ کرکے تمام مسلمان ظالموں او رجابروںکے نظریات کو ختم کردیں گے اور عالمی استکبار کے ارادوں کو نیست و نابود کردیں گے اور چونکہ آج ان کا بغض و حسد بہت عمیق ہوکیا ہے لہذا ہم ہمیشہ سے زیادہ بلند آواز سے کہتے ہیں مرگ بر امریکہ(٦١)۔
خداوندعالم بہت جلدکفر و استکبار اوراستعمار پر لشکر اسلام اور اسلام کے تمام سپاہیوں کو کامیابی عطا کرے گا (٦٢)۔

 

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
حوالہ جات:
حوالہ جات :
[1] خطوط اقتصاد اسلامى ؛ ص2.
[2] خطوط اقتصاد اسلامى، ص: 3.
[3] اخلاق در قرآن ؛ ج‏2 ؛ ص40.
[4] اخلاق در قرآن ؛ ج‏2 ؛ ص21.
[5] سورۀ بقره، آیۀ 34.
[6] پيام قرآن ؛ ج‏1 ؛ ص382.
[7] تفسير نمونه ؛ ج‏19 ؛ ص517.
[8] اخلاق در قرآن ؛ ج‏2 ؛ ص57.
[9] اخلاق در قرآن، ج‏2، ص: 60.
[10] اخلاق در قرآن ؛ ج‏2 ؛ ص84.
[11] انوار هدايت، مجموعه مباحث اخلاقى ؛ ص595.
[12] بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی، دیدار شماری از دانشجویان و دانش آموزان سراسر کشور، مدرسه امیرالمؤمنین(علیه السلام)،1389/8/13.
[13] عاشورا ريشه ‏ها، انگيزه ‏ها، رويدادها، پيامدها ؛ ص89.
[14] اخلاق اسلامى در نهج البلاغه (خطبه متقين)، ج‏1، ص: 140.
[15] گزشتہ حوالہ ۔
[16] اخلاق در قرآن ؛ ج‏1 ؛ ص108.
[17] بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی، در دیدار مشاوران امور روحانیت استانداران کشور،1393/10/11.
[18]   بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی، دیدار شماری از دانشجویان و دانش آموزان سراسر کشور، مدرسه امیرالمؤمنین(علیه السلام)،1389/8/13
[19] از تو سوال مى كنند(مجموعه سوالات قرآنى از پيامبر اكرم صلى الله عليه و آله) ؛ ص64.
[20] گزشتہ حوالہ ۔
[21] بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی، مدرسه امیرالمؤمنین(ع)،1390/5/31.
[22] از تو سوال مى كنند(مجموعه سوالات قرآنى از پيامبر اكرم صلى الله عليه و آله)، ص: 65.
[23] خطبه 27 نهج ‏البلاغه فيض‏ الاسلام و صبحى صالح،( خطبه جهاد).
[24] اخلاق اسلامى در نهج البلاغه (خطبه متقين) ؛ ج‏1 ؛ ص277.
[25] اخلاق اسلامى در نهج البلاغه (خطبه متقين)، ج‏1، ص: 278.
[26] اخلاق اسلامى در نهج البلاغه (خطبه متقين) ؛ ج‏1 ؛ ص278.
[27] خطوط اقتصاد اسلامى ؛ ص4.
[28] گزشتہ حوالہ ۔
[29] بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی،درس خارج فقه؛ مسجد اعظم قم، 1394/7/1.
[30] اخلاق اسلامى در نهج البلاغه (خطبه متقين) ؛ ج‏1 ؛ ص278.
[31] اخلاق اسلامى در نهج البلاغه (خطبه متقين)، ج‏1، ص: 279.
[32] بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی" در دیدار اساتید و دانش پژوهان مرکز ‏تخصصی مذاهب اسلامی حوزه علمیه قم،1393/2/9.
[33] آبیانات حضرت آيت الله العظمي مكارم شيرازي، در ديدار علماي تشيع و تسنن شهرستان تربت جام،1394/5/21.
[34] خطوط اقتصاد اسلامى ؛ ص5.
[35] خطوط اقتصاد اسلامى، ص: 6.
[36] اخلاق اسلامى در نهج البلاغه (خطبه متقين) ؛ ج‏1 ؛ ص161.
[37] بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی،درس خارج فقه؛ مسجد اعظم قم،1387/1/15.
[38] تفسير نمونه ؛ ج‏2 ؛ ص28.
[39] تفسير نمونه ؛ ج‏13 ؛ ص261.
[40] تفسير نمونه ؛ ج‏15 ؛ ص420.
[41] خطوط اقتصاد اسلامى ؛ ص8.
[42] گزشتہ حوالہ ۔
[43] اخلاق اسلامى در نهج البلاغه (خطبه متقين) ؛ ج‏1 ؛ ص140.
[44] از تو سوال مى كنند(مجموعه سوالات قرآنى از پيامبر اكرم صلى الله عليه و آله) ؛ ص66.
[45] از تو سوال مى كنند(مجموعه سوالات قرآنى از پيامبر اكرم صلى الله عليه و آله)، ص: 67.
[46] از تو سوال مى كنند(مجموعه سوالات قرآنى از پيامبر اكرم صلى الله عليه و آله)، ص: 67.
[47] گزشتہ حوالہ ۔
[48] بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی،درس خارج فقه؛ مسجد اعظم قم،1391/7/12.
[49] سوگندهاى پر بار قرآن، ص: 102.
[50] بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی،درس خارج فقه؛ مسجد اعظم قم،1391/1.
[51] داستان ياران: مجموعه بحث هاى تفسيرى حضرت آيت الله العظمى مكارم شيرازى (مدظله) ؛ ص47.
[52] سوگندهاى پر بار قرآن ؛ ص542.
[53] پيام قرآن ؛ ج‏10 ؛ ص362.
[54] احكام خانواده ؛ ص507.
[55] از تو سوال مى كنند(مجموعه سوالات قرآنى از پيامبر اكرم صلى الله عليه و آله) ؛ ص75.
[56] از تو سوال مى كنند(مجموعه سوالات قرآنى از پيامبر اكرم صلى الله عليه و آله)، ص: 76.
[57] گزشتہ حوالہ ۔
[58] بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی،درس خارج فقه؛ مسجد اعظم قم،1391/1/23.
[59] بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی،درس خارج فقه؛ مسجد اعظم قم،1392/11/30.
[60] بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی، دیدارشماری از دانشجویان و دانش آموزان سراسر کشور، مدرسه امیرالمؤمنین(علیه السلام)،1389/8/13.
[61] بیانات حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی،22/11/1392.
[62] تفسير نمونه ؛ ج‏17 ؛ ص179.
 
تاریخ انتشار: « 2/28/2016 1:28:47 PM »

منسلک صفحات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نظریہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کی خصوصیات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں علمائے اسلام کے اتحاد کی خصوصیات

معظم لہ کے نقطہ نظر سے استکبارستیزی کی گفتگو میں اسٹریٹجک عوامل

دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کیلئے معظم لہ کی حکمت عملی

معظم لہ کی نظر میں سعودی جرائم سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی حکمت عملی اور پالیسیاں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 470