حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں علمائے اسلام کے اتحاد کی خصوصیات
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں علمائے اسلام کے اتحاد کی خصوصیات

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: اسلامی مذاہب کے درمیان اختلافات کو بزرگ کرکے مسلمانوں کے درمیان جنگ وخون ریزی کی آگ بھڑکانے میں دوسرے لوگوں کا ہاتھ ہے ... مسلمان اس بات کا موقع نہ دیں کہ وہ اپنے اس غلط کام میں کامیاب ہوسکیں ۔
کلمات کلیدی: اتحاد، وحدت ، محبت، خصوصیت، تکفیری، افراطی ، علماء اسلامی، فتنه و فساد، اعتقادات

مقدمہ
امت اسلامی کے اتحاد میں تمام مذاہب کے علماء کا اتحاد ایک اہم اورغیر قابل انکار ضرورت ہے ، کیونکہ اس نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے کہ فقہی نظریات کا اختلاف ''اسلامی فقہ و شریعت '' میں بہت مختصر اختلاف ہے اور اکثر فقہی مسائل میں تمام اسلامی مذاہب کے فقہاء متفق ہیں ، فقہی ابواب جیسے نماز ،روزہ ، خمس،زکات، حج ، جہاد ،معاملات ،اجتماعی اور خاندانی معاہدوں کے کلیات ، نیز بہت سے عناصر اور اصلی احکام و شرائط جیسے نماز، تکبیر،نیت، قرئت، رکوع ، سجود اور سلام کے ارکان پر تمام اسلامی فقہاء متفق ہیں ۔ اسی طرح وہ تمام احکام جو قرآن کریم کی صریح آیات یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی متواتر احادیث میںبیان ہوئے ہیں اور اسلامی فقہ کے تمام ضروریات مشترک ہیں اور تمام مذاہب اسلامی ان پر متفق ہیں (١) ۔
لہذا تمام اسلامی علماء کا فرض ہے کہ ایک دوسرے کے درمیان اتحاد اور ہمدلی کو قوی کرنے کیلئے ہر طرح کے وسائل سے استفادہ کرنا چاہئے ، لہذا گزشتہ سال حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی سرپرستی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس شہر قم میں داخلی اور بیرونی شخصیات کی موجودگی کے دوران علمائے اسلام کے نقطہ نظر سے تکفیری اور افراطی خطروں کے متعلق بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جوایک اہم اقدام تھا اور اس کانفرنس نے علمائے اسلامی کے درمیان زیادہ سے زیادہ اتحاد کے مواقع فراہم کئے ۔
لیکن گزشتہ دنوں میں اسلامی اتحاد کے سلسلہ میں علمائے اسلامی کی ہمدلی سے متعلق جو اہم خبر مختلف میڈیا میں منتشر ہوئی وہ ''الازہر مصر'' کے صدر شیخ احمد الطیب کے نام حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کا خط تھا جس میں معظم لہ نے امت اسلامی کے اتحاد کی رکاوٹوں کی تحقیق کرنے کیلئے شیعہ اور سنی علماء کی موجودگی میں علمی جلسات کو منعقد کرنے کی دعوت دی تھی ۔


علمائے اسلام کو متحد کرنے میں اہم خصوصیات اور مشترکات پر تاکید
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات میںامت اسلامی کے اندر پائے جانے والے اشتراکات کو اتحاد کیلئے اہم ترین اصل قرار دیا گیا ہے ۔
معظم لہ نے اس سلسلہ میں فرمایا ہے :تمام فقہائے اسلام استنباط کے اہم منابع اور مآخذ میںمشترک ہیں ، احکام کو حاصل کرنے میں قرآن کریم اور سنت دو بنیادی رکن ہیں ، اس میں جو فرق پایا جاتا ہے وہ قرآن کریم ، سنت ، حجیت اجماع اور عقل سے استنباط اور استفادہ کرنے میں پایا جاتا ہے (٢) ۔
شیعوں کے عظیم الشان مرجع عالی قدر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اسلامی امت کے اتحاد میں اس مسئلہ کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس مذہب کے ماننے والوں اور تمام اسلامی فرقوں کے درمیان اختلاف اس قدر نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے مشترک کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کی جائے کیونکہ اسلامی تمام مذاہب کے درمیان نقاط مشترک بہت زیادہ ہیں اور مشترک دشمن بھی سب کو دھمکی دے رہے ہیں (٣)۔
معظم لہ نے اسلامی معاشروں میں اختلاف اور تفرقہ ڈالنے والوں کی شناخت پرزور دیتے ہوئے فرمایا :  اسلامی مذاہب کے درمیان اختلافات کو بزرگ کرکے مسلمانوں کے درمیان جنگ وخون ریزی کی آگ بھڑکانے میں دوسرے لوگوں کا ہاتھ ہے ... مسلمان اس بات کا موقع نہ دیں کہ وہ اپنے اس غلط کام میں کامیاب ہوسکیں اور پوری دنیا میں اسلام کی شناخت کیلئے جو اہم موقع فراہم ہوا ہے اس کو ہاتھ سے نہ جانے دیں (٤) ۔
لہذا حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اسلامی علماء کے درمیان علمی اور ثقافتی مذاکرات کو اختلاف اور تفرقہ سے نکلنے کیلئے بہترین راستہ بتاتے ہوئے فرمایا : اگر علمائے اسلامی ایک دوسرے کے پاس بیٹھ جائیں اور دوستی کے ماحول میں تعصب و لجاجت سے دور ہوکر اختلافی مسائل کی تحقیق کریں تو اختلافات کے کم ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں ، ہم یہ نہیں کہتے کہ تمام اختلاف ختم ہوجائیں گے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اختلاف کا میدان چھوٹا ہوجائے گا(٥) ۔


تکفیریت کے مقابلہ میں اسلامی علماء کا اتحاد
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں اسلامی علماء کے درمیان بہترین مذاکرات اسی وقت قابل تصور ہیں جب تمام مذاہب کے علماء قاطعیت کے ساتھ تکفیری جرائم کا مقابلہ کریں ، لہذا معظم لہ نے فرمایا : ہمارا پہلا ہدف تکفیریوں کے خلاف علمائے اسلام کا اجماع ہے (٦) ،کیا ایسے حالات میں بھی علماء کومتوجہ اور بیدار کرنیوالا نہیں ہونا چاہئے ، کیا ایسے حالات میں بھی علمائے اسلام ، تکفیریوں کے خطرات سے مسلمانوں کو خبردار نہیں کریںگے تاکہ وہ پیچھے ہٹ جائیں (٧) ۔
معظم لہ نے امت اسلامی کی موجودہ حالت کی تشریح اور اختلاف ڈالنے میں استکبار کے گندے اہداف کو کامل کرنے میں تکفیریت کے کردار ،مسلمانوں خصوصا شیعوں کے قتل عام کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :
روزانہ مختلف مذاہب کے ماننے والے چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی ،اپنے مسلمان بھائیوں کے ذریعہ دوسرے مسلمانوں کے لاشوں کے ٹکڑوں کو زمین پر گراتے ہوئے دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کرپاتے جبکہ دشمنان اسلام یوروپ ، امریکہ اور خاص طور پر اسرائیل میں بیٹھ کر خوشیاں مناتے ہیں ا ور تالیاں بجاتے ہیں(٨)۔
لہذا معظم لہ نے اسلامی ممالک کے مفتیوں اور بزرگ علماء کو متوجہ کرتے ہوئے تکفیروں کے مقابلہ اور ان کے جرائم کی مذمت پر تاکید کی اور فرمایا : اس سے پہلے بھی کبھی یہ قتل وغارت ہوتا تھا،کیا آپ علمائے اسلام بتاسکتے ہیں؟ پھر کیوں خاموش بیٹھے ہوئے ہو اور اعتراض نہیں کرتے ہو کہ یہ برادر کشی اور ایک دوسرے کو قتل کرنا صحیح نہیں ہے ، ہم سب جانتے ہیں کہ ان سب کے پیچھے اسلام کے دشمنوں یعنی اسرائیل اور مغربی حکومتوں کو ہاتھ ہے (٩) ۔


علمائے اسلام کے اتحاد میں بدعت ستیزی بہترین اصل ہے
اس بات کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شرازی نے امت اسلامی کے اتحاد اور علمائے میں اتحاد کی بہترین اصل واساس بدعت ستیزی بیان کی ہے ، انہوں نے تکفیریوں کی بدعت گزاری پر بعض علمائے اسلامی کی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : کیا اسلامی کتابوں میں یہ بیان نہیں ہوا ہے کہ جب بھی بدعتیں ظاہر ہوجائیں تو علماء کیلئے ضروری ہے کہ اپنے علم کو آشکار کریں ورنہ رحمت الہی سے دور ہوجائیں گے ؟ خود کش حملوں میں مسلمانوں کو قتل کرنے سے بدتر اور کیا بدعت ہوسکتی ہے ؟ کیا اس سے بدتر اور بری بدعت ، اسلامی تاریخ میں موجود ہے ؟ کن آیات و روایات اور تاریخ اسلام میں بیان ہوا ہے کہ کچھ لوگ اپنے ساتھ بمب لے کر جائیں ، اپنے آپ اور دوسروں کو بمب سے منفجر کرکے نابود کردیں ؟ خود جہنم میں چلے جائیں اور دوسروں کو شہید کے عنوان سے بہشت میں بھیج دیں(١٠) ۔
کیا یہ کام وحشتناک بدعت نہیں ہے ؟ یہ خاموشی قابل قبول نہیں ہے اور خداوندعالم کی بارگاہ میں تمہارے پاس کوئی عذر نہیں ہے ، آئیے سب مل کر مصمم ارادہ کے ساتھ ان وحشتناک اور ہولناک جرائم سے مقابلہ کریںاور اسلام و مسلمین کی خدمت کرتے ہوئے دشمنان اسلام کو ناکام اور مایوس کردیں (١١) ۔
معظم لہ نے تکفیریوں کی پلید ماہیت کو ظاہر کرنے میں اسلامی علماء کی ذمہ داری کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : یہ تکفیری گروہ اسلام، مسلمانوں اور انسانیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں اورہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ان حالات میں اس منحرف گروہ کی تحقیق کریں اور جو فکریں ان کو جہنم کی طرف دھکیل رہی ہیں ان سب کوپہچانیںاور پھر ان کو ختم کردیں (١٢) ۔
قرآن کریم کے بزرگ مفسر نے تکفیری تعلمیات کے حملوں کو دور کرنے میں بنیادی اور مطلوب طریقوں کے سلسلہ میں اسلامی علماء کی گفتگو کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا : وہابیت کے حملوں کو فوجی اور سیاسی وسائل و آلات کے ذریعہ دور کرنا ممکن نہیں ہے بلکہ ہم سب کو کوشش کرنا چاہئے کہ دینی علماء ایک جگہ جمع ہوجائیںاور ان کے اعتقادی مسائل اورنظریات کی تحقیق کریں کیونکہ انہی اعتقادات کے ذریعہ یہ جوانوں کو اپنی طرف جذب کرتے ہیں (١٣) ۔
اس بناء پر علمائے اسلام آمادہ ہوجائیں اور ان کی اعتقادی بنیادوں کو ختم کردیں ۔ سب کو فریاد کرنا چاہئے کہ ان کی کارکردگی اور اقدامات کا اسلام اور قرآن سے کوئی تعلق نہیں ہے ... علمائے اسلام اس گروہ کی فکری بنیادوں کو خشک کردیں ،یہاں پر علمائے اسلام کی ذمہ داری بہت اہم ہے ،خاموشی اختیار نہ کریں کیونکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : جب بدعتیں ظاہر ہوجائیں تو علماء اپنے علم کو ظاہر کریں ورنہ اللہ کی لعنت کے وہ بھی حقدار ہوں گے (١٤) ۔
علماء ہمیشہ ایک دوسرے سے گفتگو اور ملاقات کو جاری رکھیں کیونکہ دور بیٹھنا بدبینی اور نزدیک بیٹھنا خوش بینی کا سبب ہوتا ہے (١٥) ۔


امت اسلامی کے اختلاف کودور کرنے میں علمائے اسلامی کا اتحاد ایک حیاتی قانون
یہ بات بھی قابل ذاکر ہے کہ علمائے اسلامی کے درمیان علمی، تحقیقی اور تقریبی ارتباط اور اتحاد نہ ہونے اور شیعہ و اہل سنت کے درمیان ثقافتی مذاکرات نہ ہونے کی وجہ سے اسلامی معاشرہ میں عجیب و غریب بحران ہوگیا ہے جن میں سے تفرقہ اور اختلاف ایک ہے ، لہذا حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے فرمایا :  تفرقہ کی ایک وجہ آپس میں ایک دوسرے سے مرتبط نہ ہونا ، جب ایک دوسرے سے ارتباط نہیں ہوگا اورایک دوسرے کو نہیں پہچانیںگے توایک دوسرے کی مدد کرنے کو بھی تیار نہیں ہوں گے (١٦) ۔
مثال کے طور پر اہل سنت کے درمیان بہت زیادہ پروپگینڈہ کیا جاتا ہے کہ شیعہ اس قرآن کو قبول نہیں کرتے اور ان کے پاس دوسرا قرآن ہے ، اگر وہ ہمارے پاس آئیں اور ہماری مسجدوں میں قرآن کریم کو دیکھیں اور ہماری تفاسیر کو دیکھیں توان کا یہ وہم وگمان دور ہوجائے گا (١٧) ۔
معظم لہ نے تفرقہ اوراختلاف ایجاد کرنے میں دشمنان اسلام اور تکفیریوں سے وابستہ بعض لوگوں کے فتنہ و فساد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :
تفرقہ اور اختلاف کا دوسرا سبب دشمن کے ہاتھوں کا آلہ کار بن جانا قرار دیا کیونکہ اس دشمن نے اپنی کارکردگی دکھاتے ہوئے وہابیوں ،اہل سنت اور شیعوں کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کردیا ہے ۔ اس فتنہ کو دور کرنے کیلئے شیعہ اور اہل سنت کے درمیان زیادہ سے زیادہ ارتباط قائم کیا جائے تاکہ وہ ہماری منطق کو سمجھ جائیں اور دور سے فیصلہ نہ کریں (١٨) ۔


 اسلامی علماء کے اتحاد کو مضبوط بنانے میں تحریف کے دعوی کی نفی کرنا ایک اہم پہلو
بیشک اسلامی علماء کے درمیان مذاکرات کے آثار وبرکات کو مختلف زاویوں سے تحلیل و تجزیہ کیا جاسکتا ہے لیکن شیعہ اور اہل سنت کی تعلیمات میں تحریف کے فتنہ کی نفی کرنا ایسا کام ہے جس کی وجہ سے اسلامی علماء کو اتحاد اوردوستی کی دعوت دی جاسکتی ہے ۔
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس سلسلہ میں علمائے اسلام کے درمیان بہترین مذاکرات کے کردار کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : تحریف کا دعوی اسلام کے بنیادی ترین رکن سے جنگ کرنا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ بعض جاہل لوگ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے اور اسلامی اتحاد کے علمبرداروں کی آوازوں کو خاموش کرنے کیلئے ہمیشہ فتنہ انگیزی کا سہارا لیتے ہیں اور ہمیشہ اسی طرح کے مسائل کو پیش کرتے ہیں اور بعض مذاہب پر تحریف قرآن کا الزام لگا دیتے ہیں ،وہ اس بات سے جاہل ہوتے ہیں کہ اس کام سے وہ اپنے آپ کو تقویت نہیں پہنچاتے بلکہ قرآن کریم کو ضعیف کرتے ہیں اور ذہنوں میں تحریف کا شبہ زندہ ہوجاتا ہے (١٩) ۔
معظم لہ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا : جو چیز مسلم الثبوت ہے وہ یہ ہے کہ دونوں مذاہب کے اکثر علماء نے تحریف کو قبول نہیں کیا ہے،لہذا کسی بھی مذہب کی طرف تحریف کی نسبت نہیں دی جاسکتی اور قرآن کریم کی تحریف کا اعتقاد رکھنے والے بہت کم لوگ ہیں ، لہذا محکم و متقن دلیلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جن کی طرف اجمالی طور پر اشارہ کیا جائے گا، ان کا عقیدہ باطل اور ان کا قول بے بنیاد ہے (٢٠) ۔
معظم لہ نے کلام وحی میں تحریف نہ ہونے کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا : بنیادی طور پر کس طرح ممکن ہے کہ تحریف کرنے والوں کے ہاتھ کس طرح ایسی کتاب تک پہنچ سکتے ہیں جو اپنے نزول کے آغاز سے ہمیشہ تمام محافل و مجالس، نماز اور غیر نماز میں پڑھی جاتی رہی اور ہر زمانہ میں اس کے بہت زیادہ حافظ رہے ہیں ،یہاں تک اس کے نازل ہونے کے وقت چالیس کاتبان وحی کا نام لیا جاتا ہے اور مسلمانوں کی ضرورت کی تمام تعلیمات اس میں موجود تھیں اور آج بھی موجود ہیں اور یقینا اسی کتاب میں تحریف کا احتمال غیر عاقلانہ ہے (٢١) ۔


علمائے اسلامی کی وحدت کے سایہ میںتکفیریوں کے خلاف قوانین وضع کرنا
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات کے مطابق افراطی گری سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی مذاہب کے فقہاء ایسے قوانین وضع کریں جن کے ذریعہ ان سے مقابلہ کیا جاسکے ، معظم لہ نے ایک حصہ میں فرمایا : اسلامی تحریک کو وسعت اور تمام مذاہب کے فقہاء و مجتہدین کے نظریات کو زمانہ کی ضروریات سے مطابق نظریات کی بنیاد پر (٢٢) مقرر کریںتاکہ اسلامی علماء کے درمیان اتحاد قائم ہوسکے ۔
لہذا معظم لہ نے فرمایا : اسلامی ممالک کے ایک شہر میں اس کنفرانس کا مرکز قائم کیا گیا ہے تاکہ تکفیری تحریکوں کے ثقافتی اور عملی نظریات سے مقابلہ کیا جاسکے اور اس کے اعضاء بھی مختلف ممالک کے علماء ہیں جو افراطی گری کے نظریات کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے راہ حل تلاش کریں اور ایک دوسرے سے مشورہ کرکے اس کو نیست ونابود کرسکیں (٢٣) ۔


آخری بات
اس مقالہ کے اختتام پر یہ کہنا ضروری ہے کہ امت اسلامی کے اتحاد کیلئے اہم ترین خصوصیات
١۔  اختلافی مسائل سے دوری اختیار کرنا اور فقہی و اسلامی لحاظ سے تکفیر اور غلو کے مسئلہ میں بحث کرنا (٢٤) ۔
٢ ۔  مذہبی اختلاف انگیزمذہبی مسائل میں ہر طرح کی بحث کو بیان نہ کریں ، یہاں تک کہ ایک کلمہ بھی ایسا بیان نہ کریں ،بلکہ سب ایک دوسرے کے ہاتھ ہاتھ میں دیں ، شدت پسند اور تکفیری خطرات کے سلسلہ میں تبادل خیال کریں (٢٥) ۔
٣۔  تمام اسلامی مذاہب کے مقدسات کا احترام کریں (٢٦) ۔

 

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
حوالہ جات:
١۔  فقہ مقارن انسائیکلو پیڈیا (دائرة المعارف فقہ مقارن)، جلد ١ ، صفحہ ٣٢٩ ۔
٢۔  فقہ مقارن انسائیکلو پیڈیا (دائرة المعارف فقہ مقارن)، جلد ١ ، صفحہ١٥٨۔
٣۔  فقہ مقارن انسائیکلو پیڈیا (دائرة المعارف فقہ مقارن)، جلد ١ ، صفحہ ١٥٨٩۔
٤۔  ہمارے عقیدے ، صفحہ ١٢٦ ۔
٥ ۔  ہمارے عقیدے ، صفحہ ١٢٧ ۔
٦۔  اسلام، مسلمین اور تمام انسانیت کو تکفیری تحریکوں سے لاحق خطرات اور ان کے حل سے متعلق بین الاقوامی سیمنارکے ذمہ داران سے ملاقات میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ۔ (2/9/1393.) ۔
٧ ۔  اسلام، مسلمین اور تمام انسانیت کو تکفیری تحریکوں سے لاحق خطرات اور ان کے حل سے متعلق بین الاقوامی سیمنارکے ذمہ داران سے ملاقات میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ۔ (2/9/1393) ۔
٨۔  بیانات حضرت آیت‌الله العظمی مکارم شیرازی، جلسۀ تفسیر قرآن کریم، شبستان امام خمینی(ره)،حرم  کریمه اهل بیت(ع)؛ 1391/5/8.
٩ ۔  معظم لہ کا خط اسلامی ممالک کے علماء اورمفتیوں کے نام ،10/5/1391.
١٠ ۔  معظم لہ کا خط اسلامی ممالک کے علماء اورمفتیوں کے نام ،10/5/1391.
١١ ۔  معظم لہ کا خط اسلامی ممالک کے علماء اورمفتیوں کے نام ،10/5/1391.
١٢۔  اسلام، مسلمین اور تمام انسانیت کو تکفیری تحریکوں سے لاحق خطرات اور ان کے حل سے متعلق بین الاقوامی سیمنارکے ذمہ داران سے ملاقات میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ۔ (2/9/1393) ۔
١٣ ۔  اسلام، مسلمین اور تمام انسانیت کو تکفیری تحریکوں سے لاحق خطرات اور ان کے حل سے متعلق بین الاقوامی سیمنارکے ذمہ داران سے ملاقات میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ۔ (2/9/1393.) ۔
١٤ ۔  اسلام، مسلمین اور تمام انسانیت کو تکفیری تحریکوں سے لاحق خطرات اور ان کے حل سے متعلق بین الاقوامی سیمنارکے ذمہ داران سے ملاقات میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ۔ (2/9/1393.) ۔
١٥ ۔  علمائے بوسنی کے صدر حسین کاوارویچ سے ملاقات کے دروان حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان
١٦ ۔  گفتار معصومین (ع) ،جلد ١ ،صفحہ ٦٧ ۔
١٧ ۔  گذشتہ حوالہ ۔
١٨ ۔  گذشتہ حوالہ ۔
١٩ ۔  فقہ مقارن انسائیکلو پیڈیا (دائرة المعارف فقہ مقارن)، جلد ١ ، صفحہ١٦١ ۔
٢٠ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٢١ ۔  فقہ مقارن انسائیکلو پیڈیا (دائرة المعارف فقہ مقارن)، جلد ١ ، صفحہ١٦٢ ۔
٢٢ ۔  فقہ مقارن انسائیکلو پیڈیا (دائرة المعارف فقہ مقارن)، جلد ١ ، صفحہ ١٥١ ۔
٢٣ ۔ اسلام، مسلمین اور تمام انسانیت کو تکفیری تحریکوں سے لاحق خطرات اور ان کے حل سے متعلق بین الاقوامی سیمنارکے افتتاحی پروگرام میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ۔ (،2/9/1393.) ۔
٢٤ ۔  گذشتہ حوالہ ۔
٢٥ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٢٦ ۔  گزشتہ حوالہ
 
تاریخ انتشار: « 2/28/2016 1:22:05 PM »

منسلک صفحات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نظریہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کی خصوصیات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں علمائے اسلام کے اتحاد کی خصوصیات

معظم لہ کے نقطہ نظر سے استکبارستیزی کی گفتگو میں اسٹریٹجک عوامل

دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کیلئے معظم لہ کی حکمت عملی

معظم لہ کی نظر میں سعودی جرائم سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی حکمت عملی اور پالیسیاں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 988