حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کی نظر میں انٹرنیٹ کی ضرورت اور اس کے شرائط
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کی نظر میں انٹرنیٹ کی ضرورت اور اس کے شرائط

makarem news

خلاصہ: آج کی دنیا میں فساد کو پھیلانے والے بہت زیادہ فعال اور آزادی کے ساتھ عمل کر رہے ہیں اور ان کے مقابلہ میں اصلاح اور کامیابی کوپھیلانے والے بھی جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ اپنی سعی و کوشش کریں۔
کلمات کلیدی: سائبر اسپیس، حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) انٹرنیٹ ، ضرورت، شرائط ، ٹکنالوجی، فساد، منشور، سیاسی، اقتصادی، جامع

حال ہی میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کے دفتر کی سایٹ کے جدید نسخہ کی رونمائی ہوئی اور آپ نے انٹرنیٹ سے متعلق اپنے اہم اور بنیادی بیانات ارشاد فرمائے جو کہ دینی مراجع کیلئے جدید ترین ٹکنولوژی اور دنیا کے جدید ترین وسائل سے استفادہ کرنے اور خالص شیعہ تعلیمات کو انٹرنٹ پر نشر کرنے کیلئے بہت ہی زیادہ موثر ثابت ہوئے ، لہذا ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انٹرنٹ کی ضرورت اور شرائط کے موضوع میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات ،ثقافتی امور کے عہدیداران خصوصا انٹرنٹ کی اصلی ذمہ داران کیلئے منشور جامع کے عنوان سے ثابت ہوسکتے ہیں ، لہذا ہم یہاں پر ان کے بنیادی نظریات کو بیان کرتے ہیں :
ثقافتی پیچیدگی ،اقتصادی اور سیاسی مسائل سے منسلک ہے
بیشک انٹرنٹ پر اسلامی تعلیمات کی ترویج اور نشر کرنا مطلوب اور موثر ترین کام ہے جس کے لئے پہلے سے زیادہ کوشش کرنا چاہئے کیونکہ اقتصادی اور سیاسی میدان میںاس کا اثر بہت زیادہ ہے ، اس اہم مسئلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے فرمایا : ہم خیال کرتے ہیں کہ ثقافتی مسائل ، سیاسی اور اقتصادی مسائل میں تبدیل ہوگئے ہیں اور سیاسی ،اقتصادی مسائل بھی ثقافتی مسائل میں تبدیل ہوگئے ہیں اوریہ ایک دوسرے سے متاثر ہورہے ہیں (١)۔
بہرحال ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشرہ کے ثقافتی امور کی موجودہ حالت کو بیان کرتے ہوئے کہنا چاہئے کہ معاشرہ میں ثقافتی مسائل کے حالات ناگفتہ بہ ہیں اوراس کی وجہ ڈش انٹینا، انٹرنٹ اورسائبر اسپیس ہے جو کہ جوانوں کے لئے مصیبت بن گئی ہے(٢)۔
اسی طرح معظم لہ کی نظر میں ثقافتی مشکلات جیسے شادیوں کا کم ہونا اور طلاق کا زیادہ ہوجانا ، آزادی مطلق کا بڑھ جانا اور اجتماعی مشکلات کومدنظر رکھتے ہوئے فضائے مجازی پر نظر رکھنا ضروری ہے ، لہذا آپ نے فرمایا : ہمارے پاس اسلامی حکومت ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر اخلاق فاسدہوجائے گا تو بہت سی مشکلات ایجاد ہوجائیںگی ،اس وقت طلاق کیوں زیادہ ہوگئی ہے؟ شادیاں کم کیوں ہوگئی ہیں ؟ شوہر ، بیوی سے اور بیوی ، شوہر سے بدبین کیوں ہیں ؟ اس کی ایک اہم وجہ یہی ہے (٣)۔
مرجع تقلید حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے فرمایا : یہ آزادی اور قید و شرط کا نہ ہونا خاندانوں کے نظام کودرہم وبرہم کردیتا ہے ،ہم جو اشارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہاری مصلحت یہ ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا دل جلتا ہے۔ ہم ثقافتی مسائل کا معائنہ کرتے ہیں اور جہاں تک ممکن ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کبھی کبھی یہ مسائل ہمارے لئے اخراجات کا سبب بن جاتے ہیں اور ہم ان کو ادا کرتے ہیں ، لہذا ثقافتی مسائل سے متعلق دشمن ہمیشہ انٹرنٹ کو آلودہ کررہے ہیں اور سایٹوں، نیٹ ورکس یہاں تک کہ موبایل کے ذریعہ عمومی افکار پر سم پاشی کررہے ہیں ،اس بناء پر ہمیں بھی اپنی تحریک کو قوی کرکے میدان میں آئیں اور ان اقدامات کو نیست ونابود کردیں (٤)۔


سائبر اسپیس سے بہتر استفادہ ،جنگ نرم سے مقابلہ میں اہم حکمت عملی
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات کے مطابق موجودہ حالات میں سائبر اسپیس کی مقدم ہے اور تمام ذرائع ابلاغ کو ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اپنی طاقت کے مطابق اس سلسلہ میں اپنے وظائف پرعمل کریں تاکہ میدان کو دشمن کے ہاتھوں سے خالی کرایا جاسکے۔
لہذا معظم لہ نے انٹرنٹ کو تخریب یاتعمیر نو کی نوعیت بتاتے ہوئے فرمایا : اگر چہ انٹر نٹ کے عہدیداران نے ہماری دینی ثقافت کو خراب کرنے کیلئے قدم بڑھایا ہے لیکن ہم ان وسائل سے اس طرح استفادہ کریں کہ یہ لوگوں کی ہدایت کا سبب بن جائے (٥)۔
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے دینی تعلیمات سے اچھی طرح استفادہ کرتے ہوئے جدید ذرائع ابلاغ اور جدیدٹکنولوژی کے ذریعہ دشمن کے فتنوں کو ختم کردیں، معظم لہ نے فرمایا : دشمن کی خواہش ہے کہ جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعہ دنیا کو فاسد کردے لیکن چونکہ اس زمانہ میں کوئی بھی عنصر انٹرنٹ کی طرح اس نسل کو متاثر نہیں کرسکتی لہذا ضروری ہے کہ قوی ثقافت اور اسلام کے ذریعہ جدید ٹکنالوژی سے استفادہ کرتے ہوئے دشمن سے مقابلہ کیلئے کھڑے ہوجائیں (٦)۔


انٹرنٹ کی سپریم کونسل کے ساتھ ثقافتی اور ٹکنالوژی کے عہدیداران کے متحد ہونے کی ضرورت
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے انٹرنٹ کی کارکردگی کو بہت اہم اور ناقابل انکار حقیقت بیان کرتے ہوئے اس بات کا مطالبہ کیا کہ تمام مسئولین ، انٹرنٹ کی سپریم کونسل کے ساتھ ثقافتی اور ٹکنالوژی کے عہدیداروں کے ساتھ متحد ہوجائیں ، معظم لہ نے انٹرنٹ کے مینجمنٹ پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا : ضروری ہے کہ مسئولین اس طرح کے تمام امور کو انٹرنٹ کی سپریم کونسل کے سامنے پیش کریں اور تمام قوانین کی رعایت کرتے ہوئے ایسے کام انجام دیئے جائیں جس سے منفی اور غلط کاموں کا سد باب کیا جاسکے (٧)۔

قومی نیٹرورک انفارمیشن کوایجاد کرنے کی ضرورت
مغربی معاشرہ کی بعض ثقافتی نقصانات سے مقابلہ کیلئے ایک قومی نیٹرورک انفارمیشن کی تشکیل کی ضرورت ایک ایسا مطالبہ ہے جس پر معظم لہ نے بہت زیادہ زور دیا ہے ، لہذا انہوں نے فرمایا : اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ قومی نیٹرورک انفارمیشن بہت سی مشکلات کو حل کرسکتا ہے ،لہذا انٹرنت پر موجود بہت سے نقصانات کو ختم کرنے کیلئے انٹرنیٹ کی سپریم کونسل کے ساتھ جلسات منعقد کئے جائیں کیونکہ اگر یہ کام انجام نہ دیا گیا تومستقبل میں بہت سی مشکلات ایجاد ہوں گی (٨)۔
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے انٹر نٹ کے ذریعہ خبریں پہنچانے اور خبر رساں ایجسنیوں کے متلق فرمایا : خبریں اور معلومات پہنچانے کی وجہ سے مخاطب زیادہ سے زیادہ تعداد میں جذب ہوں گے اوردینی و اسلامی تعلیمات کو نشر کرنے میں ہم اپنے ہدف سے نزدیک ہوجائیں گے (٩)۔


انٹر نیٹ سے کبھی بھی متاثر نہیں ہونا چاہئے
اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ اس وقت انٹر نیٹ ، استکباری طاقتوں کے ہاتھوں میں ہے جو تہذیبی اور ثقافتی امور میں بہت بڑی مشکل ہے ، سب لوگ اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں ،لہذا حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے میڈیا سے متاثر نہ ہونے پر زور دیا ہے اور فرمایا ہے : بہار آزادی و اسلامی بیداری کے بعد یمن، عراق و شام کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دشمنان نے اسلام نے اپنی جنگ کو انٹر نیٹ اور میڈیا کی طرف موڑ دیا ہے اور آج تمام سیاست مدار میڈیا اور انٹرنٹ کے ذریعہ اسلام سے جنگ کر رہے ہیں کیونکہ آج وہ اپنا اصلی دشمن اسلام کو سمجھ رہے ہیں (١٠)۔
معظم لہ نے علمائے اسلام کی ذمہ داریوں کو بیان کرتے ہوئے دشمنوں کے اوپر حملہ کرنے کے نظریات سے استفادہ کرنے پر زور دیا اور فرمایا : اس زمانہ میں علماء کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ ہے کیونکہ آج دشمن کا حملہ بہت وسیع ہے لیکن ہمیں اس سے متاثر نہیں ہونا چاہئے اور یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ہم اس قدر دشمنوں اور میڈیا سے کس طرح مقابلہ کریں ؟بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اسلامی ثقافت و تہذیب نے بہت زیادہ ترقی کرلی ہے اور مکتب اہل بیت (ع) ایسا ہی ہے لہذا صحیح پروگرام مرتب کرکے انٹرنیٹ کی مشکلات کو حل کرنا چاہئے (١١)۔

انٹر نیٹ میں جدید ٹکنولوژی سے اچھی طرح استفادہ کرنے کی ضرورت
جہان تشیع کے عظیم الشان مرجع آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے انٹرنیٹ اورمیڈیا سے مقابلہ کرنے کیلئے ترقی یافتہ وسائل سے استفادہ کرنے کے متعلق فرمایا : ہم ٹکنولوژی کے مخالف نہیں ہیں بلکہ اس سے استفادہ کرنے کو واجب سمجھتے ہیں (١٢)۔
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) نے اس دعوی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :  ایک روایت موجود ہے جس میں معصوم نے فرمایا ہے کہ اگر علم ''ثریا'' پر ہوگا تو بعض ایرانی اس کو زمین پر لے آئیں گے ، جس وقت ہم مسلمان ، علمی انقلاب اور قیام میںلگے ہوئے تھے اس وقت یوروپ والے اپنے قرون وسطی کو طے کر رہے تھے (١٣)۔
لہذا معظم لہ نے پورے معاشرہ کو اسلامی اخلاق، اسلامی نظام کے قوانین کی رعایت اور دینی تعلیمات پر چلنے کی تاکید کرتے ہوئے انٹرنیٹ اور میڈیا کے ذریعہ مغربی معاشرہ سے مقابلہ کرنے کیلئے فرمایا : ہم پوری طاقت کے ساتھ ٹکنولوژی سے دفاع کرتے ہیں ، بعض لوگ یہ خیال نہ کریں کہ ہم ٹکنولوژی کے مخالف ہیں ، ایسا نہیں ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ مغربی ٹکنالوژی خاک آلود اور گندے پانی کی طرح ہے ، پانی زندہ رہنے کا وسیلہ ہے لیکن اگر اس میں خاک مل جائے یا گندا ہوجائے تو اس کو صاف کرنے کی ضرورت ہے ، لہذا چونکہ مغربی انٹرنیٹ پر اسلامی اور اخلاقی مسائل کی رعایت نہیں کرتے اور ہم ان تمام چیزوں کی رعایت کرتے ہیں اور ہمارے پاس کچھ قوانین ہیں لہذا ہر ٹکنالوژی کو صاف و شفاف بنانے کی ضرورت ہے (١٤)۔
لہذا جس دنیا میں انٹر نیٹ اور ٹکنالوجی سب سے آگے ہے وہاں پر حق و حقیقت اور اصلاح معاشرہ کو نشر کرنے کیلئے بہترین وسائل سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے اور پاک و پاکیزہ اخلاق اور معنویت کو نشر کرنے کیلئے ان تمام چیزوں سے استفادہ کرنا ضروری ہے (١٥)۔


انٹرنٹ پر شیعی تعلیمات کی ترویج میں زبان اور ترجمہ کا جاننا بہت ضروری
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دین اسلام کی تبلیغ کرنے کیلئے مبلغین کو زبان کا جاننا خصوصا نو ظہور میڈیا اسی طرح انٹرنٹ وغیرہ سے مقابلہ کرنے کیلئے بہت ہی ضروری ہے. اسی وجہ سے حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے امام صادق علیہ السلام کی ایک روایت سے استناد کرتے ہوئے دینی طلاب اور مبلغین کو علوم اسلان منتشر کرنے کیلئے زبان جاننے اور مختلف زبانوں میں ترجمہ کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : امام صادق علیہ السلام کی ایک روایت میں ذکر ہوا ہے کہ قم سے پوری دنیا میں علم جائے گا ، اب اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہنا چاہئے کہ مختلف زبانوں میں اسلامی تعلیمات کے ترجمہ کرنے امام صادق (علیہ السلام) کا قول واضح دلیل ہے اور مختلف زبانوں کو جاننے کی کوشش کرنا بھی ضروری ہے (١٦)۔


قاعدہ فقہی میسور (١٧)، فضائے مجازی (انٹرنٹ) میںکام کرنے پر موثر اور بہترین طریقہ
جہان تشیع کے عظیم الشان مرجع تقلید نے انٹر نٹ پر جدید ٹکنالوژی سے تمام لوگوں کے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قاعدہ میسور کی طرف متوجہ کیا کیونکہ انسان کو اپنے اندر موجود ظرفیت اور طاقت کو استعمال کرنا چاہئے اور فرمایا : اس سلسلہ میں قاعدہ فقہ کے مطابق عمل کریں ، یعنی جس قدر طاقت و قدرت ہو اس کے مطابق انجام دیں اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ ہم انجام نہیں دے سکتے ، اپنے کاموں کو متوقف نہیں کرسکتے (١٨)۔
معظم لہ نے فرمایا : یہ قاعدہ بھی اخلاقی مسائل میں بھی حاکم ہے اور جہاں تک ہوسکے ہمیں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا راستہ فراہم کرنا چاہئے۔ اور جس طرح مختلف جگہوں پر علماء اور طلاب اپنی کارکردگی انجام دے رہے ہیں اسی طرح زیادہ سے زیادہ انٹرنٹ اور جدید ٹکنالوژی میں بھی حصہ لینا چاہئے تاکہ تمام جگہوں پر دیندار افراد علماء سے اپنے سوالات کا جواب حاصل کرسکیں (١٩)۔


فضائے مجاری میں اہم ترین دستاویز شیعی تعلیمات کی ترویج
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے انٹرنٹ اور جدید ٹکنالوژی پر شیعوں کی بہترین اور اہم ترین تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ نشر کرنے کی ضرورت کو بہت ہی بابرکت بتایا ہے اور تعلیمات شیعہ کو وسیع پیمانہ پر پھیلانے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا : یہ بات جان لو اور آگاہ ہوجائو کہ دشمنان اسلام کی تمام تر خراب کاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں انٹر نٹ ، شوشل میڈیا اور ٹی وی چینلوں پر تعلیمات اہل بیت علیہم السلام کو پھیلانے کی کوشش کرنا چاہئے (٢٠)۔
حضرت آیہ اللہ العظمی مکارم شیرازی نے تاکید فرمائی : حوزہ اور یونیورسٹی کے طلباء کیلئے ضروری ہے کہ وہ انٹرنٹ اور شوشل میڈیا کے حملوں کی تحقیق کرکے ان کا جواب دینا چاہئے کیونکہ ان حالات میں دشمن کی میڈیا اسلام کے خلاف پروپگینڈہ میں مشغول ہے ، اسی طرح ٹی وی چینل اور انٹرنٹ چنیل بھی شب رو ز اسلام کے خلاف اپنی باتیں بیان کررہے ہیں (٢١)۔
لہذا انٹرنٹ کو صحیح تعلیم و تربیت کی طرف ہدایت کریں اور اس سلسلہ میں حوزہ علمیہ اور ادارہ تعلیم و تربیت کے مسئولین سے مدد حاصل کریں (٢٢)۔
یہ بات بھی واضح ہے کہ اگر انٹرنٹ پر ہمارے جوانوں نے غفلت سے کام لیا اور اسلامی تعلیمات کو اس پر منتشر نہ کیا تو سب کو اخلاقی اور اجتماعی بہت زیادہ نقصان پہنچے گا ، لہذا حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے ڈیجیٹال اور شوشل میڈیا پر تعلیمات اسلامی کو نشر کرنے کے سلسلہ میں اپنی ہدایات بیان فرمائیں اور خاندانوں میں استحکام و ہدایت کی نصیحت فرمائی اور اسی کے ساتھ ساتھ فرمایا : جوانوں اور نوجوانوں کے دل پاک و پاکیزہ ہیں اور یہ مسئولین کی ذمہ داری ہے کہ جوانوں کے دلوں پر صحیح اور خوبصورت نقش و نگار بنائیں ، لہذا ایسے وسائل سے استفادہ کرنا چاہئے جو خاندانوں کی ہدایت کا سبب ہوں کیونکہ ان چیزوں کو گھر وں میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتے ، اسی بنیاد پر انٹرنٹ کے وسائل کو اس طرح ہدایت کریں جس سے آئندہ نسل کی صحیح تربیت ہوسکے (٢٣)۔


انٹرنٹ پر دینی خلاقیت کی بہت اہم ضرورت
جہان تشیع کے عظیم الشان مرجع تقلید نے انٹر نٹ پر اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ نشر کرنے کے طور طریقوں کو بتاتے ہوئے فرمایا : بعض اقدامات اور کارکردگی پر اکتفاء کرنے سے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے لہذا ایسے کام انجام دینے چاہئیں جس سے ہم آگے کی طرف حرکت کریں۔
معظم لہ نے اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :  روزانہ اور ہر سال انٹرنٹ پر دینی کارکردگی اور خلاقیت کو انجام دینا چاہئے۔


آخری بات
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اپنی بات کے اختتام پر جوامع بشری کی اصلاح اور کامیابی کو ٹکنالوژی سے مسئولین کے استفادہ کرنے کی سعی وکوشش پر منحصر جانا ہے اور فضائے مجازی میں ثقافتی محاذ کے مجاہدین کی سعی و کوشش کو یوم المعاد کیلئے ذخیرہ کے عنوان سے بیان کیا ہے اور فرمایا ہے :
آج کی دنیا میں فساد پھیلانے والے بہت ہی آزادی کے ساتھ عمل کررہے ہیں اور ان کے مقابلہ میں اصلاح و کامیابی کو منتشر کرنے والوں کو بھی ٹکنالوژی اور جدید وسائل سے استفادہ کرنے کی کوشش کرنا چاہئے (٢٤)۔
اسی طرح اہل بیت (ع) کی تعلیمات کی بنیاد یہی ہے کہ گمراہ اور منحرف لوگوں کی ہدایت کی جائے لہذا انٹرنیٹ اور ٹکنالوژی میں بھی لوگوں کی ہدایت ضروری ہے ، اسی وجہ سے اس طرح کے کاموں کو یوم المعاد کے لئے ذخیرہ قرار دینا چاہئے (٢٥)۔

 

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:
حوالہ جات :
١۔  ڈاکٹر لاریجانی سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کا بیان (١٩٩٣/٦/٩)۔
٢ ۔  پورے ملک ایران کے گورنروں کے مشاورین سے ملاقات کے دروان حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٣ / ١٠ / ١١)۔
٣ ۔  ڈاکٹر لاریجانی سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کا بیان (١٩٩٣/٦/٩)۔
٤ ۔  تہران کے میئر ڈاکٹر قالیباف سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کا بیان (١٩٩٢/١/٣٠)۔
٥ ۔  تعلیم و تربیت اور حوزہ علمیہ کے مسئولین اور سربراہ سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٣ / ٢ / ٢٤)۔
٦ ۔ پورے ملک ایران کے گورنروں کے مشاورین سے ملاقات کے دروان حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٣ / ١٠ / ١١)۔
٧ ۔  انٹرنٹ اور فضای مجازی میں کام کرنے والوں کے استفتاء کے جواب میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٣ / ٦ / ٤)۔
٨ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٩ ۔  معظم لہ کی جدید سایٹ کی رونمائی کے پروگرام میں آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٤ / ٧ /٩)۔
١٠ ۔  حوزہ علمیہ اور دار الاعلام لمدرسة اھل البیت (ع) کے مسئولین سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٤ / ٤ /٢٤)۔
١١ ۔  گزشتہ حوالہ
١٢ ۔  ڈاکٹر لاریجانی سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کا بیان (١٩٩٣/٦/٩)۔
١٣ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
١٤ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
١٥ ۔  معظم لہ کی جدید سایٹ کی رونمائی کے پروگرام میں آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٤ / ٧ /٩)۔
١٦ ۔  گزشتہ حوالہ
١٧ ۔  
١٨ ۔  تہران کے میئر ڈاکٹر قالیباف سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (مدظلہ) کا بیان (١٩٩٢/١/٣٠)۔
١٩ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٢٠ ۔  معظم لہ کی جدید سایٹ کی رونمائی کے پروگرام میں آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٤ / ٧ /٩)۔
٢١ ۔  تعلیم و تربیت اور حوزہ علمیہ کے مسئولین اور سربراہ سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٣ / ٢ / ٢٤)۔
٢٢ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٢٣ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٢٤ ۔  معظم لہ کی جدید سایٹ کی رونمائی کے پروگرام میں آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٤ / ٧ /٩)۔
٢٥ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
 
تاریخ انتشار: « 2/28/2016 10:03:00 AM »

منسلک صفحات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نظریہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کی خصوصیات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں علمائے اسلام کے اتحاد کی خصوصیات

معظم لہ کے نقطہ نظر سے استکبارستیزی کی گفتگو میں اسٹریٹجک عوامل

دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کیلئے معظم لہ کی حکمت عملی

معظم لہ کی نظر میں سعودی جرائم سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی حکمت عملی اور پالیسیاں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 799