حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نقطہ نظر سے حرمین شریفین کے مینجمنٹ میں آل سعود کی نا اہلی
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نقطہ نظر سے حرمین شریفین کے مینجمنٹ میں آل سعود کی نا اہلی

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: حادثہ منی میں مختلف ممالک کے ہزاروں اور ایران کے تقریبا ١٣٠ حاجی جاں بحق ہوئے ،اس حادثہ نے مناسک حج کے مینجمنٹ میں آل سعود کی نااہلی کو سب پر واضح کردیا ہے لہذا حرمین شریفین کے مینجمنٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ عیاں ہوگئی ہے۔
کلمات کلیدی: حادثہ منی ،حرمین شریفین ، مینجمنٹ ، کمیٹی کو تشکیل ضرورت، مناسک حج، فقهی، نااهلی، کارنده، حرم الهی، وهابیت

بیشک حادثہ منی کومناسک حج کے دوران مسلمانوں کے قتل عام کے عنوان سے دیکھنا چاہئے کیونکہ ایک مرتبہ پھرحرم امن الہی کے مینجمنٹ میں ''کرین '' کے گرنے کے بعد جس میں ہزاروں حاجی جاں بحق ہوئے تھے ، آل سعود کی نااہلی اور عدم صلاحیت کو اُجاگر کردیا ۔
اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ حادثہ منی ایسے حالات میں واقع ہوا ہے کہ اسلامی علماء خصوصا جہان تشیع کے عظیم الشان مرجع عالی قدر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) نے صریح اور واضح طور پر مناسک حج کے مینجمنٹ کو تبدیل کرنے پر تاکید کی تھی اور حج کے ایام میں بعض اعمال و مناسک جیسے رمی جمرات کو انجام دینے میں ضروری تدابیر کی طرف یاد دہانی فرمائی تھی۔
اسی طرح معظم لہ نے حرمین شریفین کے مینجمنٹ میں سعودی حکمرانوں کی متعدد بار بے لیاقتی اور نا اہلی کی طرف متوجہ کرایا ہے ، لہذا ہم مناسک حج کے مینجمنٹ میں سعودی حکمرانوں کی بے لیاقتی اور نااہلی کو معظم لہ کے مہم ترین بیانات اور نظریات کے مطابق قارئین کے سامنے پیش کررہے ہیں۔


مناسک حج کا متعصب مینجمنٹ ، حرمین شریفین پر وہابیت کے تسلط کا تحفہ
یقینا حادثہ منی واضح طور پر اس نکتہ کو بیان کررہا ہے کہ مناسک حج سے سعودی حکمرانوں کا روبرو ہونا ایک انتخابی اور سیاسی عمل ہے چونکہ حادثہ منی کے بعد شہر مکہ کے ہسپتالوں میں ایرانی مجروحین کے ساتھ سعودیوں کی بدرفتاری اچھی طرح سے مختلف ممالک کے حاجیوں خصوصا شیعہ اور ایرانی حاجیوں کے خلاف ان کی سیاست اور دشمنی کو ظاہر کردیتی ہے، اسی وجہ سے حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے فریضہ حج میں سعودی حکمرانوں اور وہابی کارندوں کے سیاسی کاموں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وہابی اور دوسرے گروہوں کو کسی طرح کا کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی فکر اورنظریہ کو دوسروں کے اوپر تحمیل کریں ،میں دوبارہ تاکید کرتا ہوں کہ وہ فقط اس زمین کی تعمیر،امنیت اور نظم و ضبط کا خیال رکھیں اور اس کو اپنے مذہب کی ترویج کا مرکز قرار نہ دیں ، یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ سعودی عرب کا بادشاہ اپنے آپ کو ''حرمین شریفین کا خادم'' کہتا ہے ، ''حرمین شریفین کا حاکم '' نہیں کہتا ۔ پھر علمائے سلفی اور وہابی اپنے آپ کو ''حاکم الحرمین'' کیوں کہتے ہیں ، جب کہ ان کاعقیدہ ہے کہ اولوالامر کی اطاعت اُن کے اوپر واجب نہیں ہے (١)۔
اسی طرح معظم لہ نے اپنی تقریر کے ایک حصہ میں سعودی حکمرانوں کو ایرانی حجاج کے ساتھ صحیح برتائوکرنے پر تاکید کی اور فرمایا : حج و عمرہ سے متعلق مسائل کو ہمارے اور سعودی کے سیاسی روابط سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے ،حج اور عمرہ اپنے مناسک کے ساتھ انجام پائے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ سعودی عرب کی وزارت حج واوقاف کا صحیح برتائو دونوں طرف کے تعلقات پر اچھا اثر ڈال سکتا ہے (٢)۔
 لیکن ان تمام باتوں کے باوجود حجاج اور ایرانی زائرین کے ساتھ سعودی حکمرانوں کی بدتمیزی اور غلط رویہ نے ان کی نا اہلی کو پہلے سے زیادہ آشکار کردیا ہے، لہذا ہم یہاں پر مناسک حج کے مینجمنٹ میں سعودی کارندوں کی نا اہلی کی طرف اشارہ کریںگے :


مسجد الحرام میں ''کرین'' کے گرنے کا حادثہ ،حج کے مینجمنٹ میں آل سعود کی نااہلی کا بہترین ثبوت
معظم لہ نے بہت ہی واضح لفظوں میں مناسک حج کے مینجمنٹ کے متعلق سعودی حکومت کی کمزوری اور ناتوانی کو بیان کیا ہے اور مسجد الحرام میں''کرین'' کے گرنے کے بعد جس کی وجہ سے بہت سے زائرین جاں بحق ہوئے ، فرمایا : یہ حادثہ بتاتا ہے کہ آل سعود میں حرمین شریفین کے انتظام کی طاقت نہیں ہے ،آپ نے سعودی کارندں کی بے تدبیری پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا : کون سی عقل سلیم اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ جب مسجد الحرام میں لاکھوں کی تعداد میں حج کے لئے حاجی موجود ہوں تو مسجد الحرام کے اوپر ''کرین'' موجود ہو جو طوفان آنے کی وجہ سے گر جائے اور ٢٩٠ حاجی زخمی اور جاں بحق ہوجائیں (٣)۔
معظم لہ نے ایک حصہ میں فرمایا :  جس جگہ (مسجد الحرام) پر لاکھوں کی تعداد میں حاجی آرہے ہوں وہاں پر تم نے ایک نہیں بلکہ بہت سی کرین لگا رکھی ہیں اور سلامتی امور کی نشاندہی کرائے بغیر لوگوں کی جانوں کو خطرہ میں ڈال رکھا ہے۔کم سے کم ایک مہینہ کے لئے ان چیزوں کو ہٹا دینا چاہئے اور پھر دوبارہ کام شروع کرنا چاہئے ، یہ کیسی عقل اورکیسی تدبیر ہے؟ مسجد الحرام امن کی جگہ ہے اور کسی بھی طرح کی بے تدبیری کی وجہ سے وہاں پر حاجیوں کو زخمی اور شہید نہیں ہونا چاہئے (٤)۔
اسی وجہ سے معظم لہ نے مناسک حج میں آل سعود کے مینجمنٹ کے نظریہ کی مذمت کرتے ہوئے اس سلسلہ میں تمام اسلامی علماء اور بزرگوں کی مشارکت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا :  یہ کونسی عقل ہے جو تمہارے پاس ہے؟... ان کو دوسرے علاقوں کے بزرگوں اور علمائے اسلام سے مشورہ کرنا چاہئے ، ان بڑی بڑی عمارتوں کو ویران کردینا چاہئے تاکہ مسجدالحرام کی عظمت اور اہمیت اسی طرح باقی رہے ، مسجدالحرام سے بلند کوئی بھی عمارت نہیں ہونا چاہئے (٥)۔


فعال ڈپلومیسی کے ذریعہ حرم الہی کے مینجمنٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر چہ اسلامی ممالک کے حجاج کو قتل کرنے میں سعودی کارندوں کی ذمہ داری واضح طور پر قابل مشاہدہ ہے ،لیکن حج کے مینجمنٹ میںسعودی حکمرانوں کو حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی تاکید ات اور نظریات پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینا چاہئے تھی۔ خاص طور پر حضرت آیة اللہ العظمی مکام شیرازی کے انقلابی موقف اور سعودی کارندوں کی کمزوری اور حرمین شریفین کے مینجمنٹ میں سعودی حکمرانوں کے مستحق نہ ہونے اور مسجد الحرام میں ''کرین'' کے گرنے کے بعد بہتر یہ تھا کہ حج کمیٹی کے ذمہ داران تمام اسلامی ممالک سے رابطہ کرکے مناسک حج کے مینجمنٹ کو پہلے سے زیادہ بہتر بناتے لیکن مستقبل میں احتمالی حوادث سے بچنے کیلئے کوئی مناسب اور موثر قدم نہیں اٹھایا گیا جبکہ مرجعیت دینی ، ایرانی حکمرانوں اور حج کے مسئولین کے خدشات کو مدنظر رکھا جاتا اور حج کمیٹی کے ذمہ داران ، رہبر معظم انقلاب ، مراجع تقلید خصوصا حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات کو اجراء کرنے کیلئے سعودی حکومت پر دبائو ڈالا جاتا تو یقینا حادثہ منی کی طرح دوسرے حادثات کم ہوجاتے ،لیکن مسئولین کی طرف سے معظم لہ کے مطالبات کو اجرائی نہیں کیا گیا اور مسجد الحرام میں ''کرین ''گرنے کے بعد حج کے مینجمنٹ میں سعودی حکمرانوں کی کمزوری پرجہان تشیع کے عظیم الشان مرجع عالی کی بار بار تاکید کرنے کے باوجود اس بنیادی حکمت عملی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
جدہ کے ائیرپورٹ پر بے احترامی ، مناسک حج کے مینجمنٹ میں سعودی کارندوں کی نا اہلی کا دوسرا تحفہ
جدہ ائیرپورٹ کا المناک سانحہ ،مناسک حج کے مینجمنٹ میں سعودی حکمرانوںکی کمزوری اور نا اہلی کا دوسرا ثبوت ہے ، دوسری طرف آل سعود کے اس نفرت آمیزاقدام کی شدید مذمت میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے شجاعانہ موقف نے حج او رعمرہ میں سعودی کارندوں کے دشمنانہ اقدامات کو آشکار کردیا ۔ معظم لہ نے اس سلسلہ میں اس طرح فرمایا : حج کے مسئولین سے ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا عمرہ مستحب کے لئے ہر قیمت پر جانا ضروری ہے؟ میں عمرہ کو حرام کرنے کا مسئلہ نہیں چھیڑ رہا ہوں ،لیکن کیا ہر قیمت اور ہر ذلت کو قبول کرتے ہوئے عمرہ پر جانا ضروری ہے؟ (٧)۔
یقینا گزشتہ مہینوں کے دوران حرم امن الہی میںامنیت کے فقدان نے سعودی حکمرانوں کی کمزوری اور نا اہلی کوثابت کردیا ہے ، اس وجہ سے معظم لہ نے اس کے اہم نقصانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس جگہ کی امنیت پر تاکید کی اور سعودی مسئولین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : میں سعودی حکمرانوں سے عرض کرتا ہوں کہ تم نے مکہ اور مدینہ میں بہت ہی عظیم تعمیرات انجام دی ہیں لیکن ان سب سے اہم امنیت ہے وہ بھی ناموس کی حفاظت سب سے اہم ہے اور اگر جدہ کے ہوائی اڈے پر امنیت نہ ہو تو کیا مکہ اور مدینہ کے گلی اورکوچوں میں امنیت ہوگی ؟ (٨)۔
لہذا حج کے امور میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے مطالبات، نظام اسلامی کی عزت مندی کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے تمام شعبوں خصوصا مناسک حج میں ضروری ہیں ، اسی وجہ سے معظم لہ نے بے مثال بصیرت کے ساتھ سرکاری طور پر عمرہ کو لغو کرنے کی تاکید کی اور فرمایا : اگر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی امنیت متزلزل ہوجائے تو پوری دنیا تمہارے بارے میں کیا کہے گی اور میں اپنے مسئولین سے عرض کرتا ہوں کہ اس مسئلہ کو آسانی سے درگذر نہ کریں اور بیٹھ کر غور وفکر کریں کہ عمرہ مستحب پر کب جائیں۔ لہذا مستحب عمل کو بجالانے کیلئے ہمیں ہر ذلت کو قبول نہیں کرنا چاہئے (٩)۔
جہان تشیع کے عظیم الشان مرجع عالی قدر نے فرمایا : امام خمینی نے انقلاب اسلامی کے ذریعہ ایران کیلئے عزت و آبرو فراہم کی۔ بہرحال ''جدہ ''کا حادثہ ایسا نہیں ہے کہ اس کو آسانی سے چھوڑ دیا جائے اور میں دعا کرتا ہوں کہ ہمارے تمام پروگرام عزت عطا کرنے والے ہوں اور جہاں پر دیکھیں گے کہ عزت نہیں ہے ،اس کو چھوڑ دیں گے (١٠)۔
یقینا معظم لہ کا متوجہ کرنا حرمین شریفین کے مینجمنٹ میں سعودیوں کی مذمت اور مناسک حج کے مینجمنٹ میںتجدید نظر کرنے کی ضرورت کو یاد دلاتا ہے۔ مناسک حج میں سعودیوں کی نااہلی کو گزشتہ کے تمام حوادث میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جیسے مسجد الحرام میں ''کرین'' کا گرنا، میدان منی کا دردناک حادثہ جس میں مختلف ممالک کے ہزاروں لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔


مناسک حج میں فقہی صحیح مینجمنٹ
بدیہی سی بات ہے کہ مناسک حج میںاژدحام سے بچنے اور بے نظمی کو کنٹرول کرنے کیلئے علمائے اسلام، مراجع کرام خصوصا حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات ہیں جو زمان اور مکان کے لحاظ سے اچھی طرح تمام فتوی اور فقہی احکام کو بیان کرتے ہیں۔
معظم لہ نے اس سلسلہ میں فرمایا : یہ بات بھی واضح ہے کہ زمان ومکان کے ساتھ اجتہاد کے ہمراہ ہونے نے کبھی بھی کتاب و سنت اور قواعد اجتہاد کے بنیادی اصول کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے ،کیونکہ زمان و مکان کو مدنظر رکھتے ہوئے فروعات اور جزئی احکام ، کلی خطابات کے سایہ میں استخراج ہوتے ہیں اور شریعت کے کلی خطابات ہمیشہ اپنی جگہ پر قائم و دائم ہیں (١١)۔
بیشک رمی جمرات کے دوران مختلف مشکلات کے موجود ہونے کو حادثہ منی میں سعودیوں کی نا اہلی کے عنوان سے یاد کیا جاسکتا ہے۔
معظم لہ نے اس مسئلہ کی وضاحت میں رمی جمرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : افسوس کہ قربانی کی رسومات ہمارے زمانہ میں نامطلوب شکل میں پیش کی جارہی ہے ،لہذا علمائے اسلام کو اس کو نجات دلانے میں بہت زیادہ سعی و کوشش کرنا چاہئے ، لہذا رمی جمرات میں موجودہ مشکلات اور ایام حج میں بہت زیادہ ازدھام ممکن ہے کہ فقیہ جامع الشرائط کو اس بات پر مجبور کرے کہ ان اعمال کی نصوص میں غور وفکر کرے (١٢)۔
رمی جمرات حج کا ایک اہم رکن ہے اور معاصر فقہاء (ایدھم اللہ) کے نزدیک مشہور یہ ہے کہ جمرات سے مراد وہی تین ستون ہیں جن پر حاجی حج کے مخصوص ایام میں پتھر مارتے ہیں (١٣)۔
حضرت آیةا للہ العظمی مکارم شیرازی نے جہان تشیع کے مرجع تقلید ہونے کے عنوان سے رمی جمرات کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس طرح فرمایا : حجاج کی ایک اہم مشکل ، رمی جمرات ہے ، خاص طور پر عیدقربان کے دن جب سب لوگ رمی ''جمراة عقبہ'' کیلئے جاتے ہیں اور بہت سے برسوں میں بہت سے لوگ اس عمل کو انجام دیتے ہوئے جان بحق ہوئے ہیں اور بہت سے لوگ جمرات کے اطراف میں زخمی ہوجاتے ہیں اور اکثر اوقات سر، چہرے ، یا آنکھوں کو نقصان پہنچتا ہے (١٤)۔
معظم لہ نے موجودہ مشکلات کو دور کرنے کے راستوں کو علمی اور فقہی راستوں کے ذریعہ حل کرنے پر تاکید کی اور فرمایا : حقیقت یہ ہے کہ یہ ستون رمی جمرہ کی جگہ کی نشانی ہیں اور ''جمرات'' سنگریزوں کے جمع ہونے کی جگہ ہے اور کنکریوں کو انہیں کے اوپر پھینکنا چاہئے (١٥)۔ جمرہ سے مراد ''مجتمع الحصی'' سنگریزوں کے جمع ہونے کی جگہ ہے اور حاجی حضرت ان ستونوں کو نشانہ بنانے کیلئے اپنے آپ کو زحمت میں نہ ڈالیں اور مطمئن رہیں کہ وہ اس جگہ پر علامت اورنشانی ہیں(١٦)۔
معظم لہ اس حکم کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :  جو چیز اس جدید فکر کا باعث بنی ہے اور فقیہ کو اس کی نصوص میں غور وفکر کرنے پر مجبور کیا ہے وہ جمرات کے اطراف میں حاجیوں کا اژدھام ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔ یہ بات باعث بنی کہ اسلام کے اصیل متون میں دوبارہ نظر کی جائے اور ''جمرة'' کے معنی میں زیادہ سے زیادہ تحقیق کی جائے اور معلوم کیا جائے کہ لغت میں جمرہ کے معنی ستون کے نہیں ہیں بلکہ سنگریزوں کے جمع ہونے کی جگہ ہے (١٧)۔ بہرحال جدید حالات اور بہت زیادہ اژدھام ہونے کی وجہ سے لوگوں نے فقہاء سے یہ سوال کیا ہے اور اس کے نتیجہ میں فقہاء نے لفظ جمرہ کے متعلق نئی تحقیق کی ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ یہ فتوی عسر و حرج کی بنیاد پر صادر نہیں ہوا ہے بلکہ فہم و استنباط میں فقیہ کے سامنے ایک نیا افق کھلا ہے جس کے ذریعہ مجتہد اپنے نظریہ کو پیش کرتا ہے (١٨)۔
معظم لہ نے فریضہ حج کے فرعی اختلافات اور ابہامات کو دور کرنے کیلئے اسلامی علماء کی ذمہ داری اور اتحاد پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا : بہتر ہے کہ تمام اسلامی محققین اس مسئلہ کی تحقیق کریں اور جب بھی شیعہ اور سنی بزرگ علماء ضروری تحقیق کے بعد اس مسئلہ پر متفق ہوجائیں گے تو حج کی ایک عظیم مشکل جس کی وجہ سے بہت زیادہ اژدھام ہوجاتا ہے اور بہت سے لوگ زخمی یا جاں بحق ہوجاتے ہیں ،تو انشاء اللہ یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا اوران کا عمل بھی انشاء اللہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور ائمہ اہل بیت علیہم السالم کے عمل کے مطابق قرار پائے گا (١٩)۔
ان تمام وضاحت اور تفاسیر کے بعد کہنا چاہئے کہ اسلامی علماء صحیح اور مطلوب فتوی بیان کرکے مناسک حج کی صحیح مینجمنٹ میں اپنی ذاتی ذمہ داری کو اچھی طرح انجام دے سکتے ہیں لیکن آل سعود کی نا اہلی نے اس میدان کو تمام لوگوں کے کیلئے چھوٹا کردیا ہے ، یعنی اسلامی فقہاء ان تمام تدابیر کو حاصل کرنے کے بعد سعودی کارندوں کی دشمنانہ پالیسی کے پابند ہیں۔


 آخری بات:

حادثہ منی (حرمین شریفین کے مینجمنٹ کیلئے ایک کمیٹی کو تشکیل دینے کی ضرورت)
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اپنے بیان کے اختتام پر مناسک حج کی صحیح مینجمنٹ کی ضرورت اور حرم امن الہی کے زائرین اور حجاج کی بہترین مہمان نوازی کو حضرت علی علیہ السلام کے ایک اہم مطالبہ کے عنوان سے بیان کیا ہے اور تمام سعودی کارندوں کی نااہلی کو حرمین شریفین میں مناسک حج کی مینجمنٹ کو تبدیل کرنے کا اصلی ہدف قرار دیا ہے اور فرمایا ہے : حضرت علی علیہ السلام نے مکہ کے گورنر''قثم بن عباس'' کو جو خط لکھا ہے(٢٠) اس میں تحریر فرمایا ہے : (اما بعد ، فاقم للناس الحج)۔ حمد و ثنائے الہی کے بعد حج کے اعمال (اور خانہ خدا کی زیارت کو اچھی طرح ) لوگوں کے لئے قائم کرو ۔ حج کی رسومات اگر صحیح مینجمنٹ کے ذریعہ انجام دی جائیں تو حج کرنے والے بھی اس پرفیض عبادت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور تمام مسلمانوں کیلئے اس میں بہت سے آثار و برکات پائے جاتے ہیں ،کیونکہ یہ پروگرام جیسا کہ احکام فلسفہ کی روایات میں ذکر ہوا ہے کہ یہ آئین اسلام کی بنیادوں کو تقویت پہنچاتا ہے : ''والحج تقویة للدین'' (٢١)۔
لیکن حرمین شریفین میں سعودی کارندوں کے مینجمنٹ کبھی بھی ابہامات اور اشکالات کا جواب نہیں دیتے ،اس وجہ سے ضروری ہے کہ اسلامی علماء اس سلسلہ میں  غور وفکر کریں ،نصیحت اور اعتراض کریںکہ تمہارا (آل سعود کا) یہ طریقہ صحیح نہیں ہے (٢٢) یقینا آل سعود کے پاس حرمین شریفین کے مینجمنٹ کی طاقت نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ حرمین شریفین کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں اسی طرح عمل کرتے ہیں (٢٣)۔
اسی طرح معظم لہ نے حرمین شریفین کے مینجمنٹ کیلئے اسلامی علماء اور اسلامی ممالک کے سربراہوں کی ایک کمیٹی بنانے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا : منی کا عظیم حادثہ اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ ایک طرف اسلامی علماء اور دوسری طرف سیاستمدار جلد سے جلد کچھ جلسات منعقد کریںاور حرمین شریفین کے مینجمنٹ کے لئے غور وفکر کریں (٢٤)۔
جو لوگ اب تک حج کی رسومات کو ا نجام دینے کیلئے ذمہ دار تھے ،انہوں نے عملی طور پر ثابت کردیا ہے کہ ان میں اس کام کی صلاحیت نہیں ہے اورمستقبل میں اس حادثہ کے واقع ہونے کے امکان نے اس کو ایک وحشتناک عبادت میں تبدیل کردیا ہے اور ان لوگوں نے حج کی قداست پر بہت شدید ضرب لگائی ہے (٢٥)۔
اب جبکہ دنیائے اسلام کے تمام مسلمان آمادہ ہیں تو اس سلسلہ میںغورو فکر کی ضرورت ہے اور حرمین شریفین کے مینجمنٹ کے لئے ایک مدبر اور تجربہ کار گروہ کے معین ہونے کی ضرورت ہے اوراس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ سعودی بھی اس گروہ میں شامل ہوں۔ یقینا اگر اس کام میں کوتاہی کی گئی تو خدانخواستہ مستقبل میں ہونے والے ایسے حادثات پر سب ذمہ دارں ہوں گے۔

 

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:
حوالہ جات :
١۔  وهابيت بر سر دو راهى ؛ ص52.
٢۔  حج کمیٹی کے صدر اور بعض اعضاء سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان 1390/7/3۔
٣ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان 1394/6/21۔
٤۔  گزشتہ حوالہ ۔
٥ ۔  گزشتہ حوالہ
٦ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان 1394/6/21۔
٧ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان 1394/1/19۔
٨ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٩ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
١٠ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
١١۔  دائرة المعارف فقہ مقارن ، جلد ١ ، صفحہ ٢٧٠ ۔
١٢ ۔  دائرة المعارف فقہ مقارن ، جلد ١ ، صفحہ٢٦٩ ۔
١٣ ۔  رمی جمرات در گزشتہ و حال ، صفحہ ٧ ۔
١٤۔  رمی جمرات در گزشتہ و حال ، صفحہ ١١ ۔
١٥۔  رمی جمرات در گزشتہ و حال ، صفحہ ٧ ۔
١٦ ۔  رمی جمرات در گزشتہ و حال ، صفحہ ٩ ۔
١٧ ۔  دائرة المعارف فقہ مقارن ، جلد ١ ، صفحہ٢٨٠ ۔
١٨ ۔  دائرة المعارف فقہ مقارن ، جلد ١ ، صفحہ٢٨٠ ۔
١٩۔  رمی جمرات در گزشتہ و حال ، صفحہ ١٠٨ ۔
٢٠ ۔  مکتوب امام علی ٦٧ ۔
٢١۔  پیام امام امیرالمومنین علیہ السلام ، جلد ١١ ،صفحہ ٣١٢ ۔
٢٢ ۔  قم کی مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان 1394/6/21۔
٢٣ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٢٤ ۔  میدان منی میں دردناک حادثہ پر حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان 1394/7/3۔
٢٥ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٢٦ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
 
تاریخ انتشار: « 2/28/2016 9:57:18 AM »

منسلک صفحات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نظریہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کی خصوصیات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں علمائے اسلام کے اتحاد کی خصوصیات

معظم لہ کے نقطہ نظر سے استکبارستیزی کی گفتگو میں اسٹریٹجک عوامل

دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کیلئے معظم لہ کی حکمت عملی

معظم لہ کی نظر میں سعودی جرائم سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی حکمت عملی اور پالیسیاں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 787