معظم لہ کی نظر میں تکفیری تحریکوں سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی علماء کی ذمہ داری (٣)۔
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

معظم لہ کی نظر میں تکفیری تحریکوں سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی علماء کی ذمہ داری (٣)۔

makarem news

خلاصہ: میں اس بات سے بالکل مطمئن ہوں کہ پوری دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سلسلہ میں علمائے اسلام کبھی بھی خاموش نہیں رہیں گے اور تکفیری دہشت گردوں کے جرائم کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے دینی فرائض کو ضرور انجام دیں گے۔
کلمات کلیدی: تکفیری تحریک، مقصد، مقابله، اتحاد، ضرورت، علماء اسلام، فقهی ، اصول، منطق

پہلے مرحلہ میں یہ کہنا ضروری ہے کہ مسلمان اسلام کے اعتقادات اور اصول تعلیمات میں مشترک ہیں اور علمائے اسلام بھی فقہی اصولوں میں ایک دوسرے سے متفق ہیں ،اگر چہ فروعات اور بعض اصولوں کی تفصیلات میں مختلف نظریات رکھتے ہیں (١)۔
لیکن دنیائے اسلام اس وقت تکفیری تحریکوں سے روبر ہے جو ایک کلمہ کے ذریعہ جس کو چاہتے ہیں مشرک قرار دیدیتے ہیں (٢)۔ متعصب وہابی اور تکفیریوں کیلئے بہت سے مسلمانوں پر ''شرک'' اور کفر کا فتوی لگا دینا بہت آسان ہے ، اگر کوئی ان کے غلط عقاید کے متعلق کچھ کہتا ہے تو اس کیلئے مشرک مشرک کی آواز بلند کرتے ہیں ، گویا کہ اسلام کے مالک یہی ہیں (٣)۔ اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ اسلام میں بہت سے بنیادی مسائل جیسے ''توحید'' جس کو مسلمانوں کے اتحاد کا مرکز ہونا چاہئے ،مسلمانوں کی صفوں میں اختلاف کی دستاویز بن گیا ہے اور تکفیری دہشت گرد تمام مسلمانوں کو مشرک اور بت پرست کہتے ہیں (٤)۔
ان تفاسیر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا چاہئے کہ جب بھی یہ احتمال دیا جائے کہ خاموش رہنے سے کسی غلط کام کو صحیح اور صحیح کام کو غلط قرار دیا جانے لگے تو سب لوگوں پر خاص طور سے علمائے اسلام پر واجب ہے کہ حق کا اظہار کریں اور ایسے حساس وقت پر خاموشی جائز نہیں ہے (٥)۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ علماء سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال اور اقوال آپس میں متحد ہیں ، جس کے اعمال اور اقوال متحد نہ ہوں وہ عالم نہیں ہے (٦) بلکہ علماء وہ صاحب نظر اور دانشمند لوگ ہیں جن کے علم و دانش کے نور نے ان کے تمام وجود کو خدا،ایمان اور تقوی کے نور سے روشن کر رکھا ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کا اچھی طرح احساس کرتے ہیں اور سب سے زیادہ پابند ہیں (٧) لہذا علمائے دین سے اس طرح خطاب ہوتا ہے کہ اپنے کاموں کا خیال رکھو کیونکہ جو کام تم انجام دیتے ہو وہ تمہارے حساب میں بھی لکھا جاتا ہے اور اسلام کے حساب میں بھی لکھا جاتا ہے (٨)۔
لیکن وہابی اور متعصب سلفی وہابی کامل طور پر اسلامی عاقلانہ اور عادلانہ منطق کے مخالف ہیں ، ان کا عقیدہ ہے کہ ''توحید اور شرک'' کے مسئلہ میں اپنے عقاید کو دوسروں کے اوپر تحمیل کریں ، چاہے اس کے لئے انہیں قتل وغارت اور خونریزی کیوں نہ کرنا پڑے (٩) لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس بات کے لئے حاضر کیوں نہیں ہے کہ عملی طور پر دوسرے علمائے اسلام جیسے علمائے الازہر، دمشق، قم اور نجف کے ساتھ منطقی بحث کریں تاکہ حقایق واضح ہوجائیں (١٠) ان کی بحثیں ان کے بعض راہنمائوں کی طرح ''ایھا المشرک الجاھل'' کے جملہ سے شروع ہوتی ہیں اور یہ لوگ اپنے آپ ہی سامنے والے کو مہدور الدم، مشرک اور نادان سمجھ لیتے ہیں ، اس کے بعد اس سے بحث کرتے ہیں (١١)۔
یقینا اگر ایسا کرتے تو مسلمانوں کا اس طرح خون رایگان نہ جاتا اور ان کے مال و دولت کو برباد نہ کیا جاتا ،ان کے اوپر دشمن مسلط نہ ہوتے اور اسرائیل کی چھوٹی سے اقلیت ان کی تمام چیزوں سے کھلواڑ نہ کرتی (١٢)۔
ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے علمائے اسلام کی ذمہ داری خصوصا موجودہ حالات میں بہت سخت ہے (١٣) اسی وجہ سے علمائے اسلام کو تکفیری اور وہابی خرافات کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ مسلمانوں اور دنیا کے لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنا چاہئے اور عراق ، شام اور یمن میں خونریزی کو روکنا چاہئے (١٤)۔

تکفیری تحریکوں کا مقابلہ کرنے کیلئے علمائے اسلام کے متحد ہونے کی ضرورت
اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ تکفیری تحریکوں سے امت اسلامی کو بہت بڑا خطرہ ہے (١٥) لہذا تمام علمائے اسلام ، خداوندعالم کے سامنے مسئول ہیں (١٦) اسی وجہ سے تکفیری کاموں کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی بلکہ اس بڑے خطرہ کو دور کرے کیلئے تمام وسائل سے استفادہ کرنا چاہئے (١٧) اگر چہ اس سلسلہ میں ابھی تک بہت کام ہوا ہے لیکن وہ ناکافی ہے کیونکہ تکفیری تحریکوں کو نابود کرنے کیلئے فقط نظامی وسائل اور سیاسی نظریات کافی نہیں ہیں بلکہ شدت پسند تکفیری تحریکوں سے مقابلہ کرنے کیلئے تمام شیعہ ، اہل تسنن اور عیسائی علماء ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہوجائیں اور ان شدت پسند تحریکوں کا مقابلہ کریں (١٨)۔
اسی وجہ سے ضروری ہے کہ علمائے اسلام ایک جگہ جمع ہوجائیں اورتکفیری تحریکوں کے وجود سے دنیا کو پاک وصاف کردیں اور ثابت کردیں کہ جو لوگ اسلام کا تشدد اور قتل و غارت کے دین کے عنوان سے تعارف کراتے ہیں وہ ہم میں سے نہیں ہیں (١٩)۔

 

منابع و مآخذ:
undefined
حوالہ جات:
null
تاریخ انتشار: « 2/28/2016 9:50:45 AM »

منسلک صفحات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نظریہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کی خصوصیات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں علمائے اسلام کے اتحاد کی خصوصیات

معظم لہ کے نقطہ نظر سے استکبارستیزی کی گفتگو میں اسٹریٹجک عوامل

دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کیلئے معظم لہ کی حکمت عملی

معظم لہ کی نظر میں سعودی جرائم سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی حکمت عملی اور پالیسیاں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 698