حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں یوم قدس کے مظاہروں کی کارکردگی
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں یوم قدس کے مظاہروں کی کارکردگی

حجت الاسلام سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: : یوم قدس منانا بہت اہم اور ضروری ہے اور انٹر نیشنل پیمانہ پر اس کی وسعت جس قدر زیادہ ہوگی اس کا اثر بھی اسی قدر زیادہ ہوگا۔
کلمات کلیدی: یوم قدس، فلسطین، امام خمینی ره، آزادی، اقوام متحده، دشمن، دوست، مکارم شیرازی،

ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو ایران اور دوسرے اسلامی ممالک کے لاکھوں روزہ دارمومنوں کا جوش و خروش ، فلسطین کے مظلوم لوگوں کی آزادی اور تمام اسلامی امتوں کی حمایت کا بہترین نمونہ ہے یہ عظیم انقلاب اور جذبات انسانوں کے پاک و پاکیزہ دلوں سے نکلتے ہیں اور غاصب اسرائیل اور ان کے حامیوں کی مذمت کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ماہ رمضان کے آخری جمعہ یعنی یوم قدس کے مظاہروں میں شریک ہو کر مظلوم فلسطینیوں اور دیگر مظلوموں کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔
اس بناء پر یوم قدس کے موقع پر اسلامی امت اور دوسری امتوں کی بیداری کے بے نظیر آثار کی اہمیت اور حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ، لہذا اس مقالہ میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے قیمتی نظریات اور آثار سے استفادہ کرتے ہوئے یوم قدس کے عظیم مظاہروں اور ریلیوں کی خصوصیات کو قارئین کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


یوم قدس کا نام رکھنے کا تاریخی پس منظر
سب سے پہلے مرحلہ میں یوم قدس کی تاریخ اور اس کا نام رکھنے کے متعلق تحقیق کرنے کی ضرورت ہے ، حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے یوم قدس کا نام رکھنے کی حقیقت کے متعلق فرمایا : بحمداللہ ، اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب کے بعد پوری دنیا میں اسلام کا بول بالا ہوتا چلا گیا اور اسلامی انقلاب کے عظیم الشان رہبر حضرت آیة اللہ العظمی امام خمینی (رہ) نے ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کا نام یوم قدس رکھ دیا تاکہ اس سنہرے موقع کو مسلمانوں کی شجاعت کے عنوان سے محفوظ رکھا جاسکے اور دشمن یہ سمجھ لیں کہ ہمیں ابھی بھی قدس یاد ہے اور ہم نے قدس کو فراموش نہیں کیا ہے اور جب بھی ہم قدرت وطاقت کا احساس کریں گے اپنی کھوئی ہوئی میراث کو دوبارہ حاصل کرلیں گے اور اس وقت ہم بھی اور ہمارا دشمن بھی ہماری اس طاقت کا مظاہرہ کررہا ہے اور ہمیں امید ہے کہ بہت جلد یہ نور ، تاریک رات پر غالب آجائے گا اور صبح صادق نمودار ہوجائے گی ''الیس الصبح بقریب'' (١)۔ کیونکہ اگر اسلام (٢) اور مسلمانوں کی اس بے احترامی کے درد میں ہمیں موت آجائے تو کوئی ملامت کی بات نہیں ہے ، یہ مولا علی علیہ السلام کا فرمان ہے جو آپ نے خطبہ جہاد (٣) میں فرمایا ہے : ''َلَو انَّ امرَءاً مُسْلِماً ماتَّ مِنْ بَعدِ هذا أَسَفاً ما كانَ بِهِ مُلوماً، بَل كانَ بِه عِندى جَدِيرا۔ اگر مسلمان شخص اس واقعہ کو سننے کے بعد غم و اندوھ سے مرجائے تو اس کے اوپر کوئی ملامت نہیں ہے ، بلکہ میرے نزدیک بھی اس کا مرنا بہتر ہے۔
"فَقُبحاً لَكُمْ و تَرَحاً حِينَ صِرْتُم غَرَضاً يُرْمى" تمہارے چہرے برے اور تمہارے دل غمگین ہوں جس وقت تمہارے اوپر ان کے تیر برسائے جارہے ہوں (یعنی دشمن تمہاری طرف تیر پھنک رہے ہوں اور تم بے غیرتی اور اختلاف و تفرقہ کی وجہ سے اپنے سینہ کو ان کے تیروں کا ہدف بنے ہوئے خاموش بیٹھے ہو) تمہارے مال کو لوٹ رہے ہیں ، تمہیں نیست و نابود کررہے ہیں اور تمہارے ساتھ جنگ کررہے ہیں اور تم (٤) جنگ نہیں کر رہے ہو اور وہ خدا کے گنہگار ہیں او رتم خوش ہو ۔
مولی علی علیہ السلام کتنی اچھی بات بیان کررہے ہیں ،گویا کہ امام کے مخاطب ہم ہیں ، بعض مسلمانوں نے اپنی غیرت ، حمیت او رمردانگی کو کھودیا ہے جس کو امام علیہ السلام مخاطب کرکے اپنے خطبہ میں بیان کررہے ہیں (٥)۔
لہذا یوم قدس ، تاریخ اسلام میں بہت ہی زیادہ اہمیت کا حامل ہے جس کو ایک یادگار اور امام خمینی کے افتخارات میں شمار کرنا چاہئے (٦)۔


یوم قدس کے موقع پر مظاہروں کو قائم کرنے کی ضرورت
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے یوم قدس کے موقع پر مظاہروں میں روزہ دار مومنوں کے وسیع پیمانہ پر شرکت کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا :یوم قدس منانا بہت اہم اور ضروری ہے اور انٹر نیشنل پیمانہ پر اس کی وسعت جس قدر زیادہ ہوگی اس کا اثر بھی اسی قدر زیادہ ہوگا۔لہذا یوم قدس مسلمانوں اور آزاد منش لوگوں کے درمیان غاصب اسرائیل کے خلاف اعتراض کرنے کا دن ہے (٧)۔
 اسی طرح معظم لہ نے استکبار ستیزی کے سلسلہ میں متاثر کرنے والے بعض لوگوں کے نظریات کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : یہ نہ کہو کہ یہ مظاہرے بہت سادہ ہیں اور ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ جس وقت ان فریادوں کی آوازیں گونجتی ہیں تو اسرائیل اور ان کے حامیوں کی ہمت اور حوصلہ ٹوٹ جاتے ہیں (٨)۔
انشاء اللہ تم سب مرد، عورتیں، بچے ، جوان اور بوڑھے سب کے سب ان مظاہروں میں الہی فریضہ سمجھتے ہوئے شرکت کریں اور یہ جان لیں کہ تمہارے نامہ اعمال میں یہ کام بہت ہی بہترین اور اچھے کاموں کے عنوان سے ثبت ہوگا اور اسلام و مسلمین کی عزت و آبرو کا سبب قرارے پائے گا (٩)۔
لہذا یوم قدس ، اسلام کی کامیابی اور فلسطین کی آرزئووں کا دن ہے ، الحمدللہ آج یہ عزم و ارادہ مختلف قوموں کے درمیان نظر آرہا ہے اور فلسطین کی آزادی زیادہ دور نہیں ہے (١٠)۔


یوم قدس ،اسلامی امت کے اتحاد و اتفاق کی نشانی
 اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یوم قدس اور فلسطین کے مسئلہ کو اسلامی امت کے اتحاد اور اتفاق کے عنوان سے بہترین کام سمجھنا چاہئے ، لہذا حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نظریات اور کلام میں اس اہم کام کو یوم قدس کے مظاہروں کی بہترین خصوصیت بیان کیا ہے۔
معظم لہ نے ایک جگہ فرمایا ہے : اگر اسلامی ممالک صرف اسی بنیادی قانون پر عمل کرتے اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر متحد ہوجاتے تو فلسطین ا فسوس ناک واقعہ بار بار دہرایا نہ جاتا اور وہ مظلوم مسلمان پوری دنیا کے سامنے اس طرح ذلیل و خوار نہ ہوتے (١١)۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یوم قدس کا ایک فایدہ ، مسلمانوں کا اتحاد ہے ، تمام مسلمان جانتے ہیں کہ یوم قدس ، مسلمین کے متحد ہونے کا سبب ہے اور اس دن تمام لوگ ''اسرائیل مردہ باد'' کا نعرہ لگاتے ہیں اور ''قدس ہمارا ہے'' جو کہ مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے ، اس کو واپس لینے کا نعرہ لگاتے ہیں(١٢)۔ لہذا یوم قدس کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ اس دن کے مظاہرے مسلمانوں کے اتحاد اور اتفاق کا سبب قرار دئیے گئے ہیں اور مسلمانوں کی تمام قومیں اس حقیقت کو درک کرنے کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہیں گہ قدس کو نجات دلائی جائے (١٣)۔
اس بناء پر تمام مسلمان ان مظاہروں میں شرکت کرکے اپنی آواز کو بلند کریں (١٤) ، اسلامی امت اس موقع سے فائدہ اٹھائے اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر متحد ہوجائیں اور اگر بعض اسلامی ممالک کوتاہی کرتے ہیں تو مسلمان جو ش و خروش کے ساتھ آئیں اور تمام اسرائیل اور ان کے حامیوں کو پوری دنیا میں منفور اور ذلیل قرار دیں (١٥)۔


استکبار ستیزی ، اسرائیل کی کامل نابودی
یہ بات بھی جان لینا چاہئے کہ یوم قدس کے بے نظیر مظاہرے ،استکبار ستیزی کو قوی کرنے اور غاصب اسرائیل کو کامل طور سے نابود کرنے میں بہت اہم ہیں،اسی وجہ سے حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں اسرائیل کی کامل نابودی اور استکباری طاقتوں کے روز بروز متزلزل ہونے کے لئے یوم قدس کی اہم کارکردگی کی طرف توجہ ضروری ہے۔
معظم لہ نے اس سلسلہ میں فرمایا ہے : یوم قدس کے مظاہروں نے اسرائیلی بنیادوں کو متزلزل کردیا ہے ، پوری دنیا کے مسلمان اور ایرانی قوم ، یوم قدس کے روز جو مظاہرے کرتے ہیں اس سے غاصب اسرائیل اور ان کے حامیوں کی حکومتیں لرزنے لگتی ہیں (١٦)۔ لہذا مختلف قوموں کا وسیع پیمانہ پر جمعہ کے روز مظاہرے کرنا اسرائیل کی نابودی کے لئے بہت اہم ہے ، بعض لوگ کہتے تھے کہ کچھ لوگوں کے مظاہروں سے کیا ہوسکتا ہے ، اس کے جواب میں کہنا چاہئے کہ یہ مظاہرے ہی تھے جن کی وجہ سے مصر اور تونس کی حکومتیں بدل گئیں اور بحرین و یمن کی حکومتوں کوبھی مظاہروں ہی نے متزلزل کررکھا ہے (١٧)۔
ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کہنا چاہئے کہ یہ لوگوں کے مظاہرے ہیں جنہوں نے دشمنوں کو روعب و وحشت میں ڈال دیا ہے (١٨) کیونکہ آج اسرائیل  پوری دنیا میں ذلیل ہے اور عام لوگوں کے نظریات بھی غاصب اسرائیل کے برخلاف ہیں ، انشاء اللہ لوگوں کا زیادہ سے زیادہ مظاہروں میں شرکت کرنا اسرائیل کی کامل نابودی کے مقدمات فراہم کریں گے (٩)۔
ان حقایق کا وجود یعنی بچوں کو قتل کرنے والی اسرائیلی حکومت کا متزلزل ہونا اس بات کا سبب بنا کہ حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی یوم قدس کے بزرگ ترین مظاہروں کو اسرائیل اور اس کے حامیوں کے لئے یوم عزاء قرار دیں ، لہذا معظم لہ کی نظر میں یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرنے کی تاثیر بہت زیادہ ہے اور اس میں خرچ بھی بہت کم ہے (٢٠)۔
اسی طرح انہوں نے یوم قدس کے مظاہروں کو استکباری طاقتوں کے پیچھے ہٹنے کا سبب قرار دیا ہے اور فرمایا : یوم قدس غاصب اسرائیل کے خلاف اتحاد و اتفاق اور قوی اعتراض کے دن میں تبدیل ہوجانا چاہئے (٢١) یوم قدس فقط مسلمانوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ غیر مسلمان بھی فلسطین کی آزادی کا انتظار کررہے ہیں اور وہ اسرائیل کو غاصب سمجھتے ہیں ، اس دن کے مظاہروں میں شرکت کرنا اسلام کے لئے بہت اہم ہے اور مظاہرے جس قدر طاقت کے ساتھ انجام پائیں گے اسی قدر استکبار کو پیچھے ہٹایا جائے گا (٢٢)۔
موجودہ تمام کار کردگی یوم قدس کے عظیم مظاہروں سے حاصل ہوتی ہے جن کی وجہ سے استکباری طاقتوں کی بنیادیں متزلزل ہوتی ہیں اور اسرائیل کے پنجوں سے قدس کی نجات کا راستہ بھی انہی مظاہروں میں چھپا ہوا ہے۔
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : یوم قدس بہت ہی موثر کام ہے جس میں سب کو شرکت کرنا ضروری ہے کیونکہ اس سے دشمن کی بنیادیں متزلزل ہوتی ہیں (٢٣)۔
اسی طرح مسلمان اس دن کا احترام کرتے ہوئے اپنی تیاری کریں تاکہ اسرائیل کے ہاتھوں اسلام کی غصب شدہ زمینوں اور مسلمانوں کے سب سے پہلے قبلہ کو نجات دلائی جاسکے (٢٤)۔


انٹرنیشنل یوم قدس کے مظاہرے الہی فریضہ
ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کے دن یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرنا اور حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے بیان میں اسلامی امت کے معنوی مقام کو بیان کرنا روزہ دار مومنین کی دینی اور عبادی تعلیمات کی ترقی شمار ہوتی ہے۔
معظم لہ نے اس سلسلہ میں فرمایا : یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرنا ایک الہی فریضہ ہے اور یہ کام ہمارے نامہ اعمال میں ثبت ہوگا (٢٥)۔
انہوں نے دوسری جگہ فرمایا : میں تمام لوگوں کو یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرنے کی دعوت دیتا ہوں اور میرا عقیدہ ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں خدا سے نزدیک ہونے کیلئے ایک وسیلہ یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرنا ہے اور سب لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں (٢٦)۔
یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرنا سب کیلئے ضروری ہے اور یہ یوم المعاد کے لئے ذخیرہ ہوگا (٢٧)۔
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے فرمایا : جس وقت کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ میرا شوہر یوم قدس کے مظاہرہ میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے لہذا مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ تو میں کہتا ہوں کہ آج موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یوم قدس کے مظاہرہ میں شرکت کرنا واجب شرعی ہے اور تمہارے شوہر تمہیں اس کام سے منع نہیں کرسکتے ، یہ کام اسرائیل سے مقابلہ کرنے کیلئے بہت موثر ہے (٢٨)۔
اسی طرح معظم لہ کی نظر میں یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرنا ثواب ہے اور یہ ثواب تقرب الہی کا سبب بن سکتا ہے ، انہوں نے ایک جگہ فرمایا : یہ کام (یوم قدس کے مظاہرہ میں شرکت کرنا) ثواب کے عنوان سے شرکت کرنے والوں کے نامہ اعمال میں ثبت ہوگا (٢٩)۔
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے فرمایا : یوم قدس کے مظاہرے بزرگ ترین نہی عن المنکر ہے کیونکہ اگر یہ مظاہرہ نہیں ہوں گے تو سب لوگ اس بات کو بھول جائیں گے کہ اسرائل نے فلسطین کو غصب کررکھا ہے (٣١)۔
مسلمانوں کا پہلا قبلہ اسی زمین پر ہے اور یہ زمین وہ جگہ ہے جہاں سے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) معراج پر گئے اور بہت دنوں تک مسلمان اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے لہذا تمام مسلمانوں کو اپنے پہلے قبلہ کی حفاظت کرنا چاہئے (٣٢) لہذا ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کو جس میں دل پاک ہوجاتے ہیں اور لوگ اسلام و مساجد کی طرف متوجہ رہتے ہیں ، ضروری ہے کہ سب متحد ہو کر اسرائیل کے خلاف نعرے لگائیں (٣٣)۔
یقینا تم لوگ مظاہروں میں شرکت کرکے عبادت انجام دیتے ہیں (٣٤)۔


اسرائیل کی وسعت طلبی کی مذمت اور مقاومت کے محاذ کی تقویت
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس سلسلہ میں فرمایا : اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب اور یوم قدس کا مسئلہ پیش ہونے سے پہلے فلسطین میں بہت سے کام انجام پائے اور اس سلسلہ میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ۔ اس زمانہ میں اسرائیل نے اسلام پر بہت بھاری ضرب لگائی جس کا ایک نمونہ اسرائیل اور عرب کی چھے روزہ جنگ ہے۔
لیکن جس وقت آزادی خواہی تحریک نے اسلامی رنگ قبول کرلیا اور بہت ہی جذبات کے ساتھ مذہبی مسائل پر عمل کرنا شروع کردیا تو حالات تبدیل ہوگئے اور اسرائیل کی حالت ضعیف ہونے لگی ۔ اگر یہ تبدیلیاں واقع نہ ہوتی تو حزب اللہ لبنان کبھی بھی اسرائیل کے جنگی سازو سامانے کے سامنے کھڑی نہیں ہوسکتی تھی (٣٥)۔
اگر یہ مظاہرے نہ ہوتے تو چونکہ اسرائیلی وسعت طلب ہیں لہذا وہ دوسرے اسلامی ممالک پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کرتے (٣٦)۔
اس بناء پر یہ دعوی کیا جاسکتا ہے کہ اگر مقاومت فلسطین میں اسلامی تحریک نہ ہوتی تو آج حزب اللہ لبنان ، غاصب اسرائیل پر کامیاب نہ ہوپاتا (٣٧)۔


یوم قدس ،مظلوم کی حمایت میں اسلامی امت کی محبت و رحمت کی نشانی
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں یوم قدس کا مظاہرہ پوری دنیا کے مظلوموں خصوصا مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا دن ہے ، معظم لہ نے ایک جگہ پر فرمایا ہے : مسلمان قومیں ، فلسطین کے مسئلہ میں اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور تمام اسلامی امتوں کی یہ آوازبلند ہو کہ ہم اس ظالم وجابر حکومت اسرائیل کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں اور فلسطین کے مظلوموں کی حمایت کرتے ہیں (٣٨)۔
قرآن کریم کے بزرگ مفسر اور عظیم الشان مرجع تقلید نے اسی سلسلہ میں دوسری جگہ فرمایا :  ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام اسلامی ممالک جس طرح بھی ممکن ہو مظلوم فلسطین کی مدد کریں اور غاصب و ظالم اسرائیل کے شر کو دور کریں ، اسرائیل روزانہ نئے نئے ظلم ایجاد کرتا ہے اور مسلمانوں کو ان کے گھروں میں پریشان کررکھا ہے ورنہ یقینا خداوندعالم کی بارگاہ میں اس کا جواب دینا ہوگا ، اس طرح کی جنگ اگر چہ ابتدائی جہاد شمار ہوتا ہے لیکن یہ ہر منطق اور عقل سلیم کے ساتھ سازگار ہے اور اس کا شمار تشدد میں نہیں ہوتا ہے (٣٩)۔ اسلامی رافت و رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ مظلوم اور ستم دیدہ لوگوں کو نجات دلائی جائے (٤٠)۔
لہذا حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کی نظر میں فلسطین کی نجات کا راستہ ان کی ہر طرح سے حمایت کرنے میں منحصر ہے اسی وجہ سے انہوں نے ایک جگہ فرمایا ہے :
فلسطین کا مسئلہ کامل طور سے سنجیدہ ہے اور اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک کے حالات بھی پہلے سے بالکل الگ ہیں ، اسی وجہ سے سنجیدہ طور پر اقدامات کئے جائیں اور چونکہ مختلف اور متفرق اقدامات خاص طور سے ہمارے زمانہ میں نتیجہ بخش نہیں ہیں ، لہذامختلف مراکز کے نمائندوں کے ساتھ مرتب و منظم اقدامات کئے جائیں اور پھراس کے بعد فلسطینیوں کی ہر طرح سے مدد کی جائے ، وہ فلسطینی جو روزانہ ہر وقت دشمنوں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں (٤١)۔


یوم قدس یعنی مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنا
 معظم لہ نے اس سلسلہ میں فرمایا ہے : قرآن کریم کی بہترین آواز ابھی بھی بلند ہے اور ہمیں ایسے پرخلوص جہاد کی دعوت دیتی ہے جس کا نتیجہ کامیابی، عزت اور سربلندی ہے ، ابھی مولا علی علیہ السلام کی یہ آواز '' کونا للظالم خصما و للمظلوم عونا'' بلند ہے۔
حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے فرمایا : اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب کی کامیابی اور یوم قدس کو انٹرنیشنل پیمانہ پر منانے اور مقاومت کا اسلامی رنگ اختیار کرلینے کی وجہ سے آج اسرائیل ضعیف ہوگیا ہے اور فلسطین کا انقلاب قدرت مند ہوکر اپنی جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہے (٤٣)۔
لہذا یوم قدس کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ جب بھی سال کے آخری حصہ میں فلسطین کی امیدیں کم ہونے لگ جاتی ہیں تو یوم قدس آجاتا ہے اور وہ تاریخ کی فراموش شدہ یادوں کو زندہ کردیتا ہے (٤٤) کیونکہ زمانہ کاگزرجانا ، دشمن کا ایک حربہ ہے ، بہت سی ظالم وجابر حکومتیں جس وقت ظلم کرتی ہیں تو کہتی ہیں کہ زمانہ کے گزرنے سے استفادہ کرنا چاہئے جب مسئلہ آہستہ آہستہ فراموش ہونے لگ جائے گا تو پھر بالکل فراموش ہوجائے گا (٤٥)۔
اسی وجہ سے روز قدس تاریخ اسلام میں ایک اہم دن میں تبدیل ہوگیا ہے اور یہ اسرائیل کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح سے چبھ رہا ہے (٤٦)۔
روز قدس کا مسئلہ اس بات کا سبب بن گیا ہے کہ مسلمان ہر سال اس بات کا احساس کریں کہ ان کا سب سے پہلا قبلہ غاصب اسرائیل کے ہاتھ میں ہے اور ان کی زمین کو اسرائیل نے غصب کررکھا ہے ، یہ بات صحیح ہے کہ یہ واقعہ ٦٠ سال پہلے واقعہ ہو ا ہے لیکن اس دن ہر سال یہ مسئلہ یاد آجاتا ہے اور ہر نسل سمجھ جاتی ہے کہ ''القدس لنا'' قدس ہمارا ہے اور بہت جلد اسرائیل کے ہاتھوں سے نکل کر ہمارے پاس آجائے (٤٧)۔
تمام مسلمان چاہے وہ عرب ہوں یا عجم یا ترک ... سب جانتے ہیں کہ قدس مسلمانوں کا سب سے پہلا قبلہ ہے اور یہ سب کے لئے اہم ہے ، سبھی اس کو اسلامی سرزمین سمجھتے ہیں ، اسی وجہ سے سبھی لوگ ''مرگ بر اسرائیل'' کا نعرہ لگاتے ہیں (٤٨)۔


یوم قدس ، مسئلہ حقوق بشر میں اسرائیل اور اس کے مغربی حامیوں کی رسوائی کا دن
اس دن کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس دن اسرائیل اور حقوق بشر کا دعوی کرنے والوں کی بہت زیادہ رسوائی ہوتی ہے حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس سلسلہ میں فرمایا : جو دنیا حقوق بشر کی رعایت کا دم بھرتی ہے اور جن کے دوستانہ اور بشریت کی حفاظت کرنے کے نعروں نے انسانوں کے کانوں کو بہرہ کررکھا ہے ، کیا وہ ان تمام باتوں کی میدان جنگ میں رعایت کرتے ہیں ؟ ! اسرائیل اور فلسطین کی جنگ میں ان امور کی کبھی رعایت نہیں ہوتی بلکہ یہ جرائم پیشہ ظالم اور سنگدل ، لوگوں کے گھروں کوویران کرتے ہیں ، ان کے اسپتالوں کو خراب کرتے ہیں ، ان کی کھیتیوں میںآگ لگا دیتے ہیں ، ان کے درختوں کو نابود کردیتے ہیں اور ان کے بچے ، بوڑھے(٤٩) مرد اور عورتوںپر رحم نہیں کھاتے ان تمام باتوں کے باوجود حقوق بشر کا دم بھرنے والے ان کی حمایت کرتے ہیں او رہم پر تشدد کا الزام لگاتے ہیں (٥٠)۔
اگر حقوق بشر کا دم بھرنے والے اس عنوان سے استفادہ کرنے میں صادق ہوتے تو انسانیت کی اس دنیا کا رنگ کچھ اور ہی ہوتا ، لیکن اب جبکہ یہ اس راستہ سے منحرف ہوگئے ہیں اور فقط اپنے فائدوں کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں تو کھلے عام ظلم ہو رہا ہے ، لہذا اگر کسی اسرائیلی جاسوس پر کسی جگہ مقدمہ چلایا جاتا ہے تو ان کے حقوق بشر کی آوازیں پوری دنیا کو بہرہ کردیتی ہیں ، لیکن اگر مظلوم اور ستم دیدہ فلسطین کے ہزاروں لوگ قتل کردئیے جاتے ہیں تو حقوق بشر کا دم بھرنے والوں کی کوئی آواز باہر نہیں آتی بلکہ بہت ہی تعجب اور افسوس کے ساتھ ظالم کی سیاسی، اقتصادی اور فوجی مدد کرنے کیلئے دوڑتے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ ظلم کرسکیں (٥١)۔
اسی وجہ سے معظم لہ نے یوم قدس کے کارناموں اور خصوصیات میں سے ایک خصوصیت اسرائیل اور اس کے حامیوں کو ذلیل کرنا بیان کیا ہے اور فرمایا ہے : تمام قومیں یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرکے آنے والی نسلوں کو سکھائیں کہ اسرائیل غاصب ہے اور فلسطین اپنے اسلامی ممالک کی آغوش میں پلٹ کر ضرور آئے گا (٥٢)۔
یوم قدس مسلمانوں کے جوش و خروش اور غاصب اسرائیل کو ذلیل کرنے کا دن ہے ، آج اسرائیل پہلے سے زیادہ ذلیل اور ضعیف ہوگیا ہے اور سب کی فکریں اور نظریات غاصب اسرائیل کے خلاف ہیں (٥٣)۔


آخری بات ۔
آج دشمن متزلزل ہوتا جارہا ہے ، لہذا ہمیں دبائو زیادہ بنانا چاہئے (٥٤) کیونکہ اسرایل کے مغربی حامی جیسے امریکہ، فرانس اور برطانیہ اپنے داخلی اقتصاد میں گرفتار ہیں اور اس وقت وہ اس غاصب اورظالم حکومت کی زیادہ مالی مدد نہیں کر رہے ہیں (٥٥)۔
وہ لوگ کس قدر نادان ہیں جو شام اور عراق کے مسئلہ میں اسرائیل اور امریکہ کی مدد کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ شام اور عراق پر دبائو کا نتیجہ مستقبل میں خود ان پر دبائو کا مقدمہ ہے (٥٦)۔
بعض اسلامی ممالک جو اس طرح کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر کھود رہے ہیں (٥٧)۔
لہذا تمام مسلمان اور آزادی خواہ ممالک ایسی حکومتوں کی باتوں پر توجہ نہ دیں جو یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرنے کو منع کرتے ہیں اور اس مسالمت آمیز مظاہروں میں بہت ہی جوش و خروش کے ساتھ شرکت کریں (٥٨)۔
کیونکہ یوم قدس ،اسرائیل کی شکست کا دن ہے اور یقینا قدس شریف ، اسلام کا جدا نہ ہونے والا عضو ہے اور اس کو بہت جلد اسلام سے ملحق ہوجانا چاہئے (٥٩)۔
لہذا جن لوگوں میں بھی قدرت و طاقت ہے وہ یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کریں اور مسلمان قومیں ان سادہ مظاہروں میں شرکت کرنے غاصب اسرائیل سے بیزاری اور برائت کا اعلان کریں اور اس بیزاری کو پوری دنیا تک پہنچائیں (٦٠)۔

 

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:
حوالہ جات :
١۔  سورہ ہود ، آیت ١ ۔
٢۔  اخلاق اسلامی در نہج البلاغہ (خطبہ متقین) ، جلد ١ ، صفحہ ٢٧٤ ۔
٣ ۔  نہج البلاغہ ،فیض الاسلام ، صبحی صالح ، خطبہ ٢٧ ۔
٤ ۔  اخلاق اسلامی در نہج البلاغہ (خطبہ متقین) ، جلد ١ ، صفحہ ٢٧٦ ۔
٥۔  اخلاق اسلامی در نہج البلاغہ (خطبہ متقین) ، جلد ١ ، صفحہ ٢٧٧ ۔
٦ ۔  حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٤/٤/١٧)۔
٧ ۔  انتفاضہ قدس کے اعضاء سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩١/٥/٢٤)۔
٨ ۔   ماہ مبارک رمضان کے تیسویں روزہ کو حرم حضرت معصومہ قم میں آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ((١٣٩٢/٥/١٠)۔
٩ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
١٠ ۔  شہر قم میں یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرنے کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ( ١٣٩٢/١٢/١٠)۔
١١ ۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ٦٩۔
١٢ ۔  حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٢/٥/١٠)۔
١٣ ۔  حرم مطہر حضرت معصومہ (س) میں تفسیر کے درس کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٢/١٢/١٠)۔
١٤ ۔  انتفاضہ قدس کے اعضاء سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩١/٥/٢٤)۔
١٥۔  حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٢/٥/٢)۔
١٦ ۔  حضرت معصومہ (ص) کے حرم (شبستان امام خمینی ) میں قرآن کریم کی موضوعی تفسیر کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٠/٦/٢)۔
١٧ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
١٨ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
١٩ ۔  شہر قم میں یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرنے کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ( ١٣٩٣/٥/٣)۔
٢٠ ۔  انتفاضہ قدس کے اعضاء سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩١/٥/٢٤)۔
٢١ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٢٢ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٢٣ ۔  حضرت معصومہ (ص) کے حرم (شبستان امام خمینی ) میں قرآن کریم کی موضوعی تفسیر کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٠/٦/٢)۔
٢٤ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٢٥ ۔  ماہ مبارک رمضان کے تیسویں روزہ کو حرم حضرت معصومہ قم میں آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ((١٣٩٢/٥/١٠)۔
٢٦ ۔  انتفاضہ قدس کے اعضاء سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩١/٥/٢٤)۔
٢٧ ۔  غزہ میں اسرائیلی جرائم کی مذمت اور یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرنے کیلئے لوگوں سے درخواست کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کابیان (١٣٩٣/ ٥/ ٢)۔
٢٨ ۔  ۲۴ /5/ ۱۳۹۱، http://hawzahnews.com.
٢٩ ۔  ١٣ ۔  حرم مطہر حضرت معصومہ (س) میں تفسیر کے درس کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٢/١٢/١٠)۔
٣٠ ۔  انتفاضہ قدس کے اعضاء سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩١/٥/٢٤)۔
٣١ ۔  حضرت معصومہ (ص) کے حرم (شبستان امام خمینی ) میں قرآن کریم کی موضوعی تفسیر کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٨٩/٦/١٢)۔
٣٢ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٣٣ ۔  حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی نے یوم قدس کے مظاہروں میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کرنے کی تاکید فرمائی (١٣٩٤/ ٤/ ١٦)۔
٣٤ ۔  حضرت معصومہ (ص) کے حرم (شبستان امام خمینی ) میں قرآن کریم کی موضوعی تفسیر کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٨٩/٦/١٢)۔
٣٥ ۔  انتفاضہ قدس کے اعضاء سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩١/٥/٢٤)۔
٣٦ ۔  حضرت معصومہ (ص) کے حرم (شبستان امام خمینی ) میں قرآن کریم کی موضوعی تفسیر کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٨٩/٦/١٢)۔
٣٧ ۔  انتفاضہ قدس کے اعضاء سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩١/٥/٢٤)۔
٣٨ ۔  حضرت معصومہ (ص) کے حرم (شبستان امام خمینی ) میں قرآن کریم کی موضوعی تفسیر کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٨٩/٦/١٢)۔
٣٩ ۔  آئین رحمت ، صفحہ ٧٤ ۔
٤٠ ۔  آئین رحمت ، صفحہ ٧٥ ۔
٤١ ۔  استفتائات جدید ، جلد ٣ ، صفحہ ٦٠٥ ۔
٤٢ ۔  اخلاق اسلامی در نہج البلاغہ، (خطبہ متقین) ، جلد ١ ، صفحہ ٥١٥ ۔
٤٣ ۔  انتفاضہ قدس کے اعضاء سے ملاقات کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩١/٥/٢٤)۔
٤٤ ۔   ماہ مبارک رمضان کے تیسویں روزہ کو حرم حضرت معصومہ قم میں آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ((١٣٩٢/٥/١٠)۔
٤٥ ۔   ماہ مبارک رمضان کے تیسویں روزہ کو حرم حضرت معصومہ قم میں آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ((١٣٩٢/٥/١٠)۔
٤٦ ۔   ماہ مبارک رمضان کے تیسویں روزہ کو حرم حضرت معصومہ قم میں آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ((١٣٩٢/٥/١٠)۔
٤٧ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٤٨ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٤٩ ۔  والا ترین بندگان ، صفحہ ٣١ ۔
٥٠ ۔  والا ترین بندگان ، صفحہ ٣٢ ۔
٥١ ۔  آیات ولایت در قرآن ، صفحہ ١٤٩ ۔
٥٢ ۔  حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٩٣/ ٤ / ٣٠)۔
٥٣ ۔  شہر قم میں یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرنے کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ( ١٣٩٣/٥/٣)۔
٥٤ ۔  حضرت معصومہ (ص) کے حرم (شبستان امام خمینی ) میں قرآن کریم کی موضوعی تفسیر کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٨٩/٦/١٠)۔
٥٥ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٥٦ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
٥٧ ۔  شہر قم میں یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرنے کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ( ١٣٩١/٥/٢٧)۔
٥٨ ۔  حضرت معصومہ (ص) کے حرم (شبستان امام خمینی ) میں قرآن کریم کی موضوعی تفسیر کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان (١٣٨٩/٦/١٢)۔
٥٩ ۔  شہر قم میں یوم قدس کے مظاہروں میں شرکت کرنے کے دوران حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کا بیان ( ١٣٩٣/٥/٢٧)۔
٦٠ ۔  گزشتہ حوالہ ۔
 
تاریخ انتشار: « 2/28/2016 9:37:44 AM »

منسلک صفحات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نظریہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کی خصوصیات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں علمائے اسلام کے اتحاد کی خصوصیات

معظم لہ کے نقطہ نظر سے استکبارستیزی کی گفتگو میں اسٹریٹجک عوامل

دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کیلئے معظم لہ کی حکمت عملی

معظم لہ کی نظر میں سعودی جرائم سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی حکمت عملی اور پالیسیاں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 602