حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نقطہ نظر سے کریم اہل بیت امام حسن (ع) کی سیرت میں انفاق کی علامتیں
صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے نقطہ نظر سے کریم اہل بیت امام حسن (ع) کی سیرت میں انفاق کی علامتیں

مترجم : سید حسین حیدر زیدی makarem news

خلاصہ: ائمہ اطہار (علیہم السلام) سے ارادت اور محبت کا اظہار کرنا اچھی بات ہے لیکن فقط محبت کافی نہیں ہے بلکہ ان کے اعمال کو اپنے لئے نمونہ عمل بنانا چاہئے ۔
کلمات کلیدی: امام حسن علیه السلام، شهادت، رمضان، فضیلت

حضرت امام حسن مجتبی (علیہ السلام) کی ولادت با سعادت کے موقع پرآپ کی سیرت میں ''انفاق اور بخشش'' کی خصوصیات اور امتیاز کی تحقیق کرنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ اس وقت محسوس ہورہی ہے ، اسی وجہ سے اس مقالہ میں حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے افکار و نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے امام حسن علیہ السلام کے انفاق اور کرامت کی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے :

منابع و مآخذ:
تنظیم و ترتیب اور تحقیق   ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی کے دفتر کی سایٹ کی طرف سے اہل قلم کی ایک جماعت
دفتر حضرت ایه اللہ العظمی مکارم شیرازی دام ظلہ www.makarem.ir
حوالہ جات:

امام حسن (علیہ السلام) کی سیرت کو مدنظر رکھتے ہوئے انفاق شناسی کا کردار

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے افکار اور نظریات کے مطابق ''انفاق فی سبیل اللہ'' بہت بڑی عبادت ہے ، بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو خداوندعالم نے اپنی نعمتوں سے نوازا ہے لیکن وہ ان نعمتوں سے نہ خود استفادہ کرتے ہیں اور نہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، ایسے لوگ بہت ہی بخیل ہیں جو عملی طور پر خداوندعالم کو روزی دینے والا نہیں سمجھتے (١) ۔ اس لحاظ سے جو لوگ بخیل ہیں اور وہ ان نعمتوں سے ضرورت مندوں کی حاجت کو پورا نہیں کرتے جو خدا نے انہیں دی ہیں ، وہ سب سے پہلے اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں کیونکہ وہ ''انفاق '' کے بہترین فیض سے محروم ہوجاتے ہیں اور پھر فقراء اور ضروت مندوں پر ظلم کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس وہ نعمتیں نہیں ہیں ۔ اس بناء پر انفاق اور جود و کرم کے معنی کو اہل بیت علیہم السلام سے سیکھنا چاہئے ، ائمہ اطہار (علیہم السلام) سے ارادت اور محبت کا اظہار کرنا اچھی بات ہے لیکن فقط محبت کافی نہیں ہے بلکہ ان کے اعمال کو اپنے لئے نمونہ عمل بنانا چاہئے (٢) ۔

معظم لہ کی تقریر کے اس حصہ میں غور وفکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسن علیہ السلام بہت زیادہ انفاق کرتے تھے اور محتاجوں، ضرورت مندوں اور نیازمندوں کی مدد کرتے تھے، جیسا کہ حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی کے بیان میں آیا ہے : امام حسن علیہ السلام ضرورت مندوں کی اس قدر مدد کرتے تھے کہ آپ کا گھر ، فقراء اور ضرورت مندوں کی پناہ گاہ تھا ۔ یہاں تک کہ جو بھی غریب، فقیر اور ضرورت مند کوفہ میں داخل ہوتا تھا تو وہ پیغمبر اکرم کے سبط اکبر امام حسن (ع) کے پاس جاتا تھا (٣) ۔

قرآن کریم میں انفاق کا مفہوم

یہ آیت ''وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ''پیغمبر اکرم کا دوسرا وظیفہ بیان کررہی ہے ۔ اس ذمہ داری میں فقراء اور ضرورت مندوں کی مدد اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آنے کو بیان کیا گیا ہے ۔ گویا کہ خداوندعالم فرماتا ہے : اے ہمارے پیغمبر ! فقراء اور ضرورت مندوں کو اپنے پاس سے مت بھگائو اور بلند آواز سے ان سے بات نہ کرو ، ان کے سامنے فریاد نہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش نہ آئو (٤) ۔ اسی طرح ضرورت مندوں سے صحیح رفتار و سلوک کرنے کو سورہ بقرہ کی ٢٦٣ ویں آیت میں اس طرح بیان کیا ہے :''قَوْل مَعْرُوف وَ مَغْفِرَة خَیْر مِنْ صَدَقَةٍ یَتْبَعُہا أَذیً وَ اللَّہُ غَنِیّ حَلیم'' ۔ (ضرورت مندوں کے سامنے) نیک کلام اور مغفرت اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل دکھانے کا سلسلہ بھی ہو ، خدا سب سے بے نیاز اور بڑا برد بار ہے ۔

اس بنیاد پر اگر انسان مدد کرنے پر قادر نہیں ہے ،یا کسی بھی وجہ سے انفاق کرنے کی طرف مائل نہیں ہے تو بہت ہی اچھے لہجہ میں ضرورت مند کو جواب دیدے۔ کیونکہ اگر اس کی ضرورت کو پورا کرنے پر قادر نہیں ہیں تو ہمیں کوئی حق بھی نہیں ہے کہ ان کی بے عزتی کریں اور ان کی شخصیت کو مجروح کریں ۔

امام حسن مجتبی (ع) کی سیرت میں انفاق کی ایک مثال

معصوم راہنمائوں کی سیرت میں اخلاقی امور کی رعایت بہت زیادہ واضح ہے،اس سلسلہ میں امام حسن علیہ السلام کی ایک فقیر سے گفتگو کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے ۔ اس شخص نے امام حسن علیہ السلام کے گھر کے دروازہ کو کھٹکھٹایا اور آپ کو مخاطب کرکے فرمایا : '' لَمْ يَبْقَ لى‏ شَىْ‏ءٌ يُباعُ بِدِرْهَمٍ‏ يَكْفيكَ مَنْظَرُ حالَتى‏ عَنْ مُخْبِرى‏ الّا بَقايا ماءُ وَجْهى‏ صُنْتُهُ‏ الّا يُباعَ وَقَدْ وَجَدْتُكَ مُشْتَرى‏'' ۔ یابن رسول اللہ ! میرے پاس کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی ہے جس کو بیچ کر درہم حاصل کرسکوں ۔ میرا چہرہ اور میری ظاہری حالت میری باتوں کی تصدیق کر رہی ہے اور میری سچائی کی گواہی دے رہی ہے ۔ اگر چہ ابھی کچھ عزت و آبرو باقی ہے جس کی میں نے حفاظت کی ہے (جب تک اچھا خریدار مل جائے) اور اب تم اچھے خریدار مل گئے ہو تو میں اس کو بھی تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں !

امام حسن علیہ السلام نے اپنے خزانہ دار کو بلایا اور پوچھا : تمہارے پاس کتنا پیسہ ہے ؟ اس نے عرض کیا : بارہ ہزار درہم ۔ فرمایا : وہ سب اس فقیر کودیدو ، پھر اس شخص کو بلایا اوراس سے عذر خواہی اور فرمایا کہ ہم نے تمہارا حق ادا نہیں کیا ! لیکن جو کچھ ہمارے پاس تھا وہ ہم نے تمہیں دیدیا ، پھر اس کے اشعار کے جواب میں یہ شعر پڑھا : '' خُذِ الْقَليلَ وَ كُنْ كَأَنَّكَ لَمْ تَبِعْ‏ ما صُنْتَهُ وَ كَأَنَّنا لَمْ نَشْتَرِ '' (٥) ۔  اس کم مال کو لے لو ،گویا تم نے کچھ نہیں بیچا ہے اورہم نے بھی کچھ نہیں خریدا ہے (یعنی میں تمہارے چہرہ پر نظر نہیں ڈالتا تاکہ تمہاری عزت باقی رہے ) آداب انفاق کی رعایت اور ضرورت مندوں کی مدد کا یہ بہترین طریقہ ہے ،اس بناء پر انسان یا تو فقیر کی مدد نہ کرے اور بہت ہی نرم لہجہ میں اس سے عذر خواہی کرلیتا ہے اور اگر مدد کرتا ہے اورانفاق کا اجر حاصل کرلیتا ہے تو اس نیک کام کی حفاظت کرنا چاہئے اوراس کو احسان اور اذیت کے ذریعہ خراب نہیں کرنا چاہئے '' لَاتُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى '' (٦) ۔ (٧) ۔

سیرت امام حسن مجتبی (ع) میں کرامت کی خصوصیات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی ، امام حسن مجتبی علیہ السلام کی اجتماعی زندگی میں کرامت کی حقیقت کو اس طرح بیان کرتے ہیں : امام حسن مجتبی علیہ السلام سے جو کہ کریم اہل بیت علیہم السلام کے نام سے مشہور ہیں ، کسی شخص نے کریم کے معنی معلوم کئے تو آپ نے فرمایا :

١ ۔  کریم وہ ہے جو '' الْابْتِداءُ بِالْعَطِيَّةِ قَبْلَ الْمَسْأَلَةِ؛'' مانگنے سے پہلے مدد کردے (٨) ۔ کریم شخص جب بھی کسی کے اندر حاجت اور ضروت کے آثار دیکھتا ہے تو اس کو سوال کرنے اور مانگنے کی مہلت نہیں دیتا ا ور اس کی حاجت کو پورا کردیتا ہے اور یہ کام بہت اہم ہے ، اگر چہ فقیر کے مانگنے پر اس کی مدد کرنا بھی بہت اہم کام ہے ۔ خداوندعالم ، فرشتہ اور انبیاء سب کریم ہیں لہذا ہمیں بھی کریم ہونا چاہئے ، تاکہ خداوندعالم ہمارے اوپر بھی لطف وکرم فرمائے ۔

٢ ۔  کریم وہ ہے جو '' وَ اطْعامُ الطَّعامِ فِى الْمَحَلِ‏'' اس کو اسی کی جگہ پر کھانا کھلائے (٩) ۔ مذکورہ جملہ کے دو معنی ہیں : اول : جس جگہ پر ضروری ہے اور کھلانے کا حقیقی مقام وہی ہے ، اسی مقام پر یہ کام انجام دے ،ایسا نہیں ہے کہ فقط دولت مند اور بیگانہ لوگوں کو کھانے پر دعوت دے ، یہ ایسا کام ہے جس پر مسلمانوں کے امام حضرت علی علیہ السلام نے اپنے گورنر عثمان بن حنیف پر اعتراض کیا تھا (١٠) ۔ دوم :  اس چیز کے برخلاف جو آج رائج ہوگیا ہے کہ انسان زحمت اور محنت سے بچنے کیلئے ، مہمانوں کے ہاتھ دھلانے سے بچنے کیلئے اپنی تمام دعوتوں کو اپنے گھر کے باہر ہوٹلوں میں انجام دیتے ہیں ، امام فرماتے ہیں: کریم شخص وہ ہے جو اپنے گھر میں دستر خوان بچھاتا ہے اس کی وجہ سے کھانے کھلانے والے کے گھر سے بلائیں، ناگوار حوادث اور بیماریاں دور ہوتی ہیں اور خیر وبرکتیں اس گھر میں نازل ہوتی ہیں (١١) ۔ اگر چہ امام حسن مجتبی علیہ السلام کی روایت میں فقط دو مصداق بیان ہوئے ہیں جبکہ کریم کے مصداق بہت زیادہ ہیں کیونکہ دوسری روایات میں کریم کے مصادیق نظر آتے ہیں (١٢) ۔

سب سے چھوٹی خدمت اور سب سے بڑی نعمت

دینی راہنمائوں کے حالات زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی خدمت پر بہت بڑا انعام دیتے تھے ، ہم یہاں پر ان میں سے ایک واقعہ پیش کرتے ہیں : ایک سفر میں امام حسن ، امام حسین علیہما السلام اور عبداللہ بن جعفر قافلہ سے پیچھے رہ گئے اور جنگل و بیابان میں بھوکے اور پیاسے تھے، انہوں نے دور سے ایک خیمہ دیکھا اور جب وہاں پہنچے تو انہوں نے ایک ضعیفہ کو یک و تنہا وہاں پر پایا ، اس ضعیفہ نے انہیں سیراب کیا اور بھر اپنی بھیڑ کو ذبح کرکے انہیں کھانا کھلایا ،انہوں نے اس ضعیفہ سے فرمایا : اگر تمہارا مدینہ آنا ہوا تو ہمارے پاس ضرور آنا تاکہ ہم تمہاری محبتوں کو جواب دے سکیں ،اتفاقا مدینہ کے اطراف میں قحط اور خشک سالی شدید ہوگئی جس کی وجہ سے جنگل و بیابان میں رہنے والے سب مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے اور لوگوں سے مدد کی درخواست کرنے لگے ،ایک روز امام حسن علیہ السلام کی نظر اس ضعیفہ پر پڑی جو مدینہ کی گلیوں میں مدد مانگ رہی تھی ، آپ نے فرمایا : کیا تمہیں یاد ہے کہ میں اپنے بھائی اور چچازاد بھائی کے ساتھ تمہارے پاس آئے تھے اور تم نے ہماری بہت اچھی مدد کی تھی ، اس ضعیفہ کو کچھ یاد نہیں تھا ،لیکن امام نے فرمایا : اگر تمہیں یاد نہیں ہے تو مجھے ضرور یاد ہے ۔ پھر آپ نے اس کو بہت سا پیسہ اور بھیڑ ، بکریاں عطا کیں اور اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے پاس لے گئے ، آپ نے بھی اس کو بہت زیادہ مال ودولت عطا کیا ،پھر اس کو عبداللہ بن جعفر کے پاس بھیج دیا انہوں نے بھی اس ضعیفہ کو بہت زیادہ مال ودولت سے نوازا اور وہ عورت بہت زیادہ مالدار ہوگئی (١٣) ۔ (١٤) ۔

آخری بات :

بزرگان دین کے سامنے اظہار ادب اور معصومین علیہم السلام سے توسل کرنا بہت ہی اچھی بات ہے لیکن کافی نہیں ہے ، بلکہ ان کے اعمال اور کردار سے درس حاصل کرنا چاہئے اور اپنے رشتہ داروں، دوستوں ، پڑوسیوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا چاہئے ۔ جن لوگوں کے پاس مال و دولت ہے وہ بے گناہ جیل میں پڑے ہوئے لوگوں کو آزادکرائیں، بیماروں کا علاج ، طالب علموں کی پڑھائی اور شادی کرنے والی لڑکیوں کے جہیز میں مدد کریں تاکہ خداوندعالم بھی اس دن ہماری مدد کرے جس دن اعمال کے علاوہ کوئی چیز کام نہیں آئے گی ۔

تاریخ انتشار: « 2/27/2016 6:16:54 PM »

منسلک صفحات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کے نظریہ کے مطابق اسلامی معاشرہ میں حجاب اور عفاف کو عملی جامہ پہنانے کی خصوصیات

حضرت آیة اللہ العظمی مکارم شیرازی (دام ظلہ) کی نظر میں علمائے اسلام کے اتحاد کی خصوصیات

معظم لہ کے نقطہ نظر سے استکبارستیزی کی گفتگو میں اسٹریٹجک عوامل

دہشت گردی کے بحران پر قابو پانے کیلئے معظم لہ کی حکمت عملی

معظم لہ کی نظر میں سعودی جرائم سے مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی حکمت عملی اور پالیسیاں

CommentList
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 670